چودھری برادران کی ملاقات کے بعد ماحول ٹھنڈا؟

پاکستان کی سیاست میں سٹیبلشمنٹ کے نمائندے سمجھے جانے والے چودھری برادران مولانا فضل الرحمان کے ’آزادی مارچ‘ کے کنٹینر پر پہنچے ہیں جس کے بعد ملکی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اب مسئلہ مذاکرات سے ہی حل ہوں گے اور حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ’باعزت‘ راستہ نکل آئے گا۔ 

پیر کو رات گئے مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت اور پرویز الہی نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان معاملات جلد حل ہوں۔ ’مولانا سے دیرینہ تعلقات ہیں، کوشش ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جلد معاملات حل ہوں۔ ہر ممکن کوشش ہے کہ ماحول میں بہتری آئے، کسی بھی مسئلےکا حل اچھا ماحول پیدا کرنا ہے۔‘

اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن چودھری پرویز الہیٰ نے کہا کہ ’وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت آج حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ہے جس میں وہ مولانا سے ہونے والی بات چیت پر بریفنگ دیں گے۔ حکومت اور دھرنے والوں کے مذاکرات میں ڈیڈلاک نہیں ہے۔ مایوسی کی کوئی بات نہیں، راستے نکالنے پڑتے ہیں۔‘

اس موقع پر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی چوہدری برادران کے ساتھ بھائیوں کی طرح دوستی ہے، دونوں خاندانوں میں یہ تیسری نسل کی دوستی ہے، ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چوہدری برادران آئے، ایسی ملاقاتوں سے ماحول کی بہتری میں مدد ملتی ہے، معاملات کے جلد حل میں سب کی بہتری ہے۔

پرویز الہی کا کہنا تھا کہ معاملات چل رہے ہیں، ڈیڈلاک نہیں ہے، دھرنے  سے معاشی و اقتصادی سمیت سب کے لیے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔

اکرم درانی کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن کا چوہدری برادران کے ساتھ بھائیوں کی طرح دوستی ہے۔ اچھے دوستوں کی مدد سے حالات میں بہتری ہوتی ہے۔ سخت ماحول سے مزید مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔

چوہدری پرویز الہی نے کہا کہ ہمارے تعلقات تیسری نسل تک جارہے ہیں جلسے جلوس نکلتے رہتے ہیں، مشکل کا حل نکالنا ہے۔ مسائل کے حل کے لیے جلدی کرنی ہے اس کا حل ڈھونڈنا ہے۔ ہم سہولت کار ہیں ہم نے بہتری کی طرف جانا ہے۔ آزادی مارچ کا حل ڈھونڈنا ہے نیت ٹھیک ہو مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔ راستے نکال رہے اور راستے نکل آتے ہیں۔

متعلقہ مضامین