اربوں کی عمارت کیس فیصلے پر نظرثانی

سپریم کورٹ میں وون کانسٹیٹیوشن ایونیو نظرثانی درخواست پر سماعت کے دوران وفاقی ترقیاتی ادارے سے کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے نظرثانی کی درخواست سے قبل عدالت کا مطمئن کرے کہ ان کے پاس مسئلے کا شفاف حل موجود ہے۔

اسلام آباد کے کنونشن سینٹر کے ساتھ بنائی گئی عمارت دو ٹاورز پر مشتمل ہے جس میں وزیراعظم عمران خان، ریٹائرڈ ججز اور جرنیلوں کے فلیٹس ہیں۔ ابتدائی طور پر کمپنی نے زمین ہوٹل بنانے کے لیے حاصل کی تھی۔

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا بلڈنگ کی ملکیتی کمپنی کے خلاف فیصلہ ختم کر کے جرمانہ عائد کیا تھا اور عمارت کو قانونی قرار دیا تھا۔

بدھ کو سماعت میں جسٹس عمر عطا نے کہا کہ تجویز کردہ حل میں سی ڈی اے فنڈز کی موجودگی اور تیسرے فریق کے حق کو یقینی بنائے۔ سی ڈی اے قابل عمل پلان آف ایکشن جمع کرائے۔

عدالت کو اگر حل درست لگا اور مطمئن ہوئی تب ہی نظرثانی کی درخواست کو سنے گی۔

سپریم کورٹ نے جرمانے کو تین ارب سے بڑھا کر سترہ ارب کیا۔ وکیل وون کانسٹیٹوشن ایونیو

سارا فیصلہ سی ڈی اے کے حق میں آیا لیکن آب وہ خود اس فیصلے پر نظرثانی مانگ رہے ہیں۔ وکیل وون کانسٹی ٹیوشن ایونیو

سمجھ نہیں آ رہی سی ڈی اے چاہتا کیا ہے۔ علی ظفر
کیا آپ اس بلڈنگ کو گرانا چاہتے ہیں۔ جسٹس عمر عطاء بندیال

کیا آپکے اس معاملے کوئی حل موجود بھی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال

سی ڈی اے کے وکیل نے کہا کہ عدالت میں ایک قابل عمل کو بہترین پلان آف ایکشن جمع کروائیں گے۔

سی ڈی اے اس معاملے میں مکمل فیل ہوا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال

یہ سب گڑ بڑ سی ڈی اے کی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال

کبھی اسٹیٹ بنک اور کبھی وفاقی حکومت کی گرینٹی کی بات کی جاتی ہے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال

عدالت کیس کی سماعت آئندہ ماہ تک ملتوی کر دی

متعلقہ مضامین