مولانا کا پیچھے ہٹنے سے انکار، حکومت بھی تیار

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں حکومت مخالف مارچ کے دوران اپنے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ پڑاؤ ڈالنے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ وزیراعظم کے استعفا لینے کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

اس دوران حکومت کے اہم مذاکراتی نمائندے چودھری پرویز الہی نے جمعرات کو رات گئے مولانا فضل الرحمان سے کی جانے والی ملاقات منسوخ کر دی جبکہ حکومت نے دھرنا دینے والوں سے نمٹنے کے لیے نئی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے۔

جمعرات کو دھرنے کے شرکا سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں جس میں انہوں نے کہا کہ فوج غیر جانبدار رہے گی۔ ’میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ استقامت دے۔‘

اسلام آباد میں ’آزادی مارچ‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ تحریک بڑی استقامت سے یہاں تک لے آئے ہیں اور ہم استعفے سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ ہم قومی اداروں سے برادارانہ لہجے میں کہنا چاہتے ہیں کہ ان (مارچ کے شرکا) کے مطالبات کو تسلیم کریں۔ ان کو ان کا حق دیا جائے اور نااہل حکومت کو فارغ کیا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان نے انڈیا کا جہاز گرایا تو جے یو آئی کے کارکن سڑکوں پر نکل آئے اور افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا۔ آج یہی کارکن سڑکوں پر ہیں۔

رات گئے چوہدری پرویز الہی کی مولانا فضل الرحمن سے ملاقات منسوخ ہونے کے بعد سابق صدر آصف زرداری کے نمائندے اور پیپلز پارٹی کے راہنما ڈاکٹر قیوم سومرو نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں آذادی مارچ اور ملکی سیاسی صورت حال پر گفتگو کے دوران مولانا کو سابق صدر کا پیغام بھی پہنچایا گیا۔

ادھر حکومت نے مولانا فضل الرحمٰن اور اپوزیشن کے آزادی مارچ کے احتجاج کو پرامن طریقے سے منتشر کرنے کے لیے نئی اسٹریٹیجی تیار کی ہے اور اس کے لیے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے بعد پرویز الہی اوراسپیکر اسد قیصر کو ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کو مذاکرات کی کامیابی کے لیے نکات مرتب کرنے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے قابل عمل اور قابل قبول نکات تیار کرنے کا ٹاسک وزیراعظم عمران خان نے اسد قیصر کو سونپا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے حکم کے مطابق ایسے نکات مرتب کئے جائیں تاکہ اپوزیشن سے سنجیدہ مذاکرات کیے جاسکیں۔

کہا جا رہا ہے کہ وزیر قانون اور آئینی ماہرین کی معاونت سے متفقہ نکات تیار کیے جائیں گے کہ الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کیسے کرائی جائے اور تحقیقات کا میکانزم کیا ہونا چاہیے؟

یاد رہے کہ مولانافضل الرحمن پہلے ہی جوڈیشل کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے دھاندلی تحقیقات کے آپشنز کو مسترد کر چکے ہیں ہیں۔

متعلقہ مضامین