یہ تو کم بخت بالکل عورت نکلی!

محمد حسنین اشرف

عصمت کے افسانے میرے پسندیدہ ہیں وہ اپنے خیال کی قیمت کو لفظوں کی فروانی سے کم نہیں ہونے دیتی۔ وہ کہانی کو عروج پر پہنچا کر اور پھر ادھورا چھوڑ کر مکمل کرنے کا فن جانتی ہے۔ یہاں اب یہ قاری کے تخیل اور ذوق پر منحصر ہے کہ وہ اس ادھوری کہانی کو کہاں تک لے جائے۔

عصمت کے ہاں دونوں رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں کہیں افسانہ بہت پیچدہ ہوجاتا ہے اور کہیں کہانی اس قدر سادہ ہوجاتی ہے کہ طبیعت اچاٹ سی ہونے لگتی ہے۔ بسا اوقات پیچیدگی بھی اس قدر زیادہ ہوجاتی ہے کہ انسان الجھن کا شکار ہوجاتا ہے۔ آپ نے اگر انتظار حسین کا افسانہ ‘خیمے سے دور’ پڑھا ہے تو آپ جانتے ہیں میں کس پیچیدگی کا تذکرہ کر رہا ہوں۔ آپ کا ذہن یہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں آتا کہ اب کہانی کیا رخ بدلے گی اور کردار کیا روپ دھار لیں۔ اور وہ کم بخت ایسا کیوں کریں گے؟

منٹو نے عصمت کا خاکہ لکھا، فرحت اللہ بیگ کے بعد شاید یہ دوسرا خاکہ تھا اور اپنے لحاظ سے پہلا جس کا لطف ہر پل دو بالا ہوجاتا ہے، رقمطراز ہیں:

"ایک مہینہ پہلے جب کہ میں آل انڈیا ریڈیو دہلی میں ملازم تھا۔ ادبِ لطیف میں عصمت کا’’لحاف‘‘ شائع ہوا تھا۔ اسے پڑھ کر مجھے یاد ہے۔ میں نے کرشن چندر سے کہا تھا۔’’افسانہ بہت اچھا ہے۔ لیکن آخری جملہ بہت غیر صناعانہ ہے۔ احمد ندیم کی جگہ اگر میں ایڈیٹر ہوتا تو اسے یقیناً حذف کردیتا۔‘‘ چنانچہ جب افسانوں پر باتیں شروع ہوئیں تو میں نے عصمت سے کہا۔’’ آپ کا افسانہ لحاف مجھے بہت پسند آیا۔ بیان میں الفاظ کو بقدر کفایت استعمال کرنا آپ کی نمایاں خصوصیت رہی ہے لیکن مجھے تعجب ہے کہ اس افسانے کے آخر میں آپ نے بیکار سا جملہ لکھ دیا کہ ایک انچ اٹھے ہوئے لحاف میں میں نے کیا دیکھا۔ کوئی مجھے لاکھ روپیہ بھی دے تو میں کبھی نہیں بتاؤں گی۔‘‘
عصمت نے کہا۔’’ کیا عیب ہے اس جملے میں؟‘‘
میں جواب میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ مجھے عصمت کے چہرے پر وہی سمٹا ہوا حجاب نظر آیا جو عام گھریلو لڑکیوں کے چہرے پر ناگفتنی شے کا نام سن کر نمودار ہوا کرتا ہے۔ مجھے سخت ناامیدی ہوئی اس لئے کہ میں’’ لحاف‘‘ کے تمام جزئیات کے متعلق اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا۔ جب عصمت چلی گئی تو میں نے دل میں کہا۔’’ یہ تو کم بخت بالکل عورت نکلی۔‘‘


مجھے یاد ہے اس ملاقات کے دوسرے ہی روز میں نے اپنی بیوی کو دہلی خط لکھا ’’ عصمت سے ملا۔ تمہیں یہ سن کر حیرت ہوگی کہ وہ بالکل ایسی ہی عورت ہے جیسی تم ہو۔ میرا مزا تو بالکل کرکرا ہوگیا۔ لیکن تم اسے یقیناً پسند کرو گی۔ میں نے جب اس سے ایک انچ اٹھے ہوئے لحاف کا ذکر کیا تو نالائق اس کا تصور کرتے ہی جھینپ گئی۔‘‘
ایک عرصے کے بعد میں نے اپنے اس رد عمل پر سنجیدگی سے غور کیا اور مجھے اس امر کا شدید احساس ہوا کہ اپنے فن کی بقاء کے لئے انسان کو اپنی فطرت کی حدود میں رہنا از بس لازم ہے۔ ڈاکٹر رشید جہاں کا فن آج کہاں ہے؟ کچھ تو گیسوؤں کے ساتھ کٹ کر علیحدہ ہوگیا اور کچھ پتلون کی جیبوں میں ٹھس کررہ گیا۔ فرانس میں جارج سال نے نسوانیت کا حسین ملبوس اتار کر تصنع کی زندگی اختیار کی۔ پولستانی موسیقار شو پیس سے لہو تھکوا تھکوا کر اس نے لعل و گہر ضرور پیدا کرائے۔ لیکن اس کا اپنا جوہر اس کے بطن میں دم گھٹ کے مر گیا۔


میں نے سوچا عورت جنگ کے میدانوں میں مردوں کے دوش بدوش لڑے، پہاڑ کاٹے۔ افسانہ نگاری کرتے کرتے عصمت چغتائی بن جائے۔ لیکن اس کے ہاتھوں میں کبھی کبھی منہدی رچنی ہی چاہیے۔اس کی بانہوں سے چوڑی کی کھنک آنی ہی چاہیے مجھے افسوس ہے جو میں نے اس وقت اپنے دل میں کہا۔’’یہ تو کم بخت بالکل عورت نکلی!‘‘
عصمت اگر بالکل عورت نہ ہوتی تو اس کے مجموعوں میں بھول بھلیاں، تل، لحاف اور گیندا جیسے نازک اور ملائم افسانے کبھی نظر نہ آتے۔ یہ افسانے عورت کی مختلف ادائیں ہیں۔ صاف، شفاف، ہر قسم کے تصنع سے پاک۔ یہ ادائیں، وہ عشوے، وہ غمزے نہیں جن کے تیر بنا کر مردوں کے دل اور کلیجے چھلنی کئے جاتے ہیں۔ جسم کی بھونڈی حرکتوں سے ان اداؤں کا کوئی تعلق نہیں۔ ان روحانی اشاروں کی منزلِ مقصود انسان کا ضمیر ہے۔”
……..

سردیاں آ گئی ہیں سر شام لحاف میں دبک کر تخیل کو افسانہ نگار کے قلم پر اٹکا دینے کا اپنا لطف ہوگا۔

متعلقہ مضامین