قومی اسمبلی میں حکومت کا مولانا کو چیلنج

پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیر دفاع پرویز خٹک، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور اور مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اسعد رحمن کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ہے اور ایک دوسرے کو الیکشن لڑنے کا چیلنج دیا ہے۔

قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ اگر ایک دوسرے کی بات نہیں سنیں گے تو اجلاس ملتوی کر دیا جائے گا۔

اسعد الرحمن نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پرویز خٹک نے جس لہجے میں بات کی تو مذاکراتی کمیٹی کے چئیرمین لب و لہجہ نہیں ہوتا۔ پرویز خٹک نے کہا کہ دھرنا اُٹھا دیں ورنہ تُن کے رکھ دیں گے، یہ فریق کا لہجہ ہوتا ہے ہم اُسی زبان میں جواب دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنا لب ولہجہ درست کریں۔ ہم نے مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ ”سپیکر صاحب آپ کسی مذاکراتی کمیٹی کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں۔“

اس دوران تحریک انصاف کے وزیر علی امین گنڈا پور نے اسعد الرحمن کو الیکشن لڑنے کا چیلنج کیا تو اسعد الرحمان نے کہا کہ علی امین سے مستعفی ہونے کا اعلان کروائیں کل الیکشن لڑتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے راجہ پرویزاشرف نے اسپیکر اسد قیصر کی مذاکراتی کمیٹی میں شمولیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ”آپ کیوں متنازعہ بن رہے ہیں۔ حکومت ہر ادارے کو متنازع بنا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب آپ ہاوس کے کسٹوڈین ہیں۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دل سے بولنا چاہتا ہوں، کیا آپ میں سننے کی ہمت ہے۔
”سن لو بیٹا سن لو، پورا پاکستان سن رہا۔ میں پاکستان کو آپ لوگوں کی شکل دکھانا چاہتا ہوں۔ وزیراعظم نے مجھے مذاکراتی کمیٹی کا چئیرمین بنایا۔“

انہوں نے کہا کہ اسپیکر پنجاب اسمبلی، چئیرمین سنیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو میں نے کمیٹی میں اپنی سہولت کے لیے شامل کیا۔ ”چالیس سال سے سیاست میں ہوں، سارے دور دیکھے ہیں۔ جہاں بھی رہا آپ لوگوں کی شکل دیکھی ہے۔ عمران خان کے ساتھ وزارت سے استعفی دے کر اس لیے آیا کہ ملک کے حالات اچھے ہوں۔“

انہوں نے کہا کہ ”اگر آپ لوگ پاکستان کو بہتر بناتے تو عوام آپ کے ساتھ ہوتے۔ علی امین گنڈاپور پر فخر ہے جس نے مولانا فضل الرحمان کو الیکشن کا چیلنج کیا ہے۔“

پرویز خٹک نے کہا کہ کیا یہ کسی کا راج ہے کہ الیکشن کو تسلیم نہ کیا جائے۔ یہ تماشہ اب نہیں چلے گا، یہ ملک اب ایسے نہیں چلے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ”جمہوریت کی بات کرتے ہو تو مولانا صاحب کو یہاں پارلیمنٹ میں بات کرو۔ دھرنے پہ بیٹھے رہو لیکن ملک کا نقصان نہ کرنا۔“

انہوں نے کہا کہ ”ہم الیکشن دھاندلی پر ہر فورم پر گئے لیکن تم کہاں گئے۔ مولانا صاحب کہتے ہیں ہم ٹائم پاس کررہے ہیں۔ اگر ہم ٹائم پاس کریں تو تم لوگ کیا کرسکتے ہو۔“

مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے ڈپٹی سپیکر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کل سٹے کی پیچھے بیٹھے شخص نے ایوان کا سیاہ دن دکھایا ہے۔ نیازی صاحب دفتر میں بیٹھ کر دیکھتے رہے کہ بچے جمہوری کیا کر رہے ہیں۔ کل تک سٹے غلط تھا آج درست کیسے ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ کل ایوان کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں۔ اگر یہی رویے رہے تھے پورا نظام لپیٹا جائے گا۔ ”خٹک صاحب آپ کے بوئے ہوئے بیج ہیں۔ آپ کنٹینر پر چڑھ کر ڈانس کیا تھا۔ جو ٹھمکا خٹک صاحب نے لگایا تھا وہ ہم نہیں لگا سکتے۔“

مذاکراتی کمیٹی میں اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کو غیر جانبدار ہونے کے ناطے نہیں جانا چاہیے۔ ”اسپیکر کی کرسی کا تقاضا ہے کہ آپ جمہوریت کے وکیل بنیں۔ اس ملک کے نظام اور شفاف انتخابات کے وکیل بنیں ایک پارٹی کے وکیل نہ بنیں۔“

خواجہ آصف کے مطابق ”پرویز الہی کہتے ہیں کہ اپوزیشن کے مطالبات کمیٹی نے نہیں انہوں نے وزراعظم کو بتائے۔ پرویز الہی نے کہا کہ کمیٹی کہتی ہے کہ اگر مطالبات نیازی صاحب کو بتائیں تو وہ ناراض ہوجاتے ہیں۔“

ن لیگی رہنما نے کہا کہ ”میں کوئی قابل اعتراض بات کروں تو مجھے روک دیں۔ جناب اسپیکر ایسے لوگ اپنے لیڈر کو گالیاں پڑواتے ہیں۔ جن کا بھیجا خالی ہوتا ہے وہ لیڈر کو گالیاں پڑواتے ہیں۔“

سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ انہوں نے اپنا کردار ایوان اور جمہوریت کے لیے ادا کیا اور کرتے رہیں گے۔

متعلقہ مضامین