جب ججز کمرہ عدالت سے نکلنے تک مسکراتے رہے

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ججز ویسے تو خودمختار ہیں لیکن ساتھ ہی دوسروں پر انحصار بھی کرتے ہیں۔

رپورٹ: ج ع

سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر پانچ میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل دو رکنی عدالتی بینچ ٹیکس سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کر رہا تھا جب مقدمے کی سماعت کے وقفے کے دوران دلچسپ صورتحال دیکھنے میں آئی۔

جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں سماعت کرنے والا دو رکنی بینچ وقفے کے لیے اٹھنے لگا تو عدالتی عملہ(کرسیاں اٹھانے اور دروازے کھولنے والے عدالتی قاصد) موجود نہ تھے۔ اس عدالتی عملے کو فرشتے جیسے الفاظ سے بھی جانا جاتا ہے۔

سفید شیروانیوں میں ملبوس وہ جج صاحبان کی کرسیاں اٹھتے بیٹھتےآگے پیچھے کرتے ہیں۔

عملے کی غیر موجودگی کے باعث عدالت میں موجود تمام سینئر وکلا ججزکو اور ججز وکلا کو دیکھتے رہے۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس یحیی آفریدی نے مڑ کر دیکھا تو نشستوں کو پیچھے کھینچنے کے لیے کوئی قاصد موجود نہ تھا۔

عدالتی عملے کی قاصدوں کو بلانے کے لیے دوڑیں لگ گئیں۔ قاصد پہنچا تو دروازہ کھولنے کے لیے کنڈی تک اس کا ہاتھ نہ پہنچ سکا۔

یہ صورتحال دیکھ کر ججز بھی مسکراتے رہے۔ جسٹس منصور علی شاہ مسکرا کر کہنے لگے ”ہم انڈیپنڈنٹ ہیں لیکن ساتھ ہی ہم دوسروں پر ڈپیینڈنٹ بھی ہیں۔“

متعلقہ مضامین