بابری مسجد کی زمین ہندوؤں کی ملکیت ہے، سپریم کورٹ

انڈین سپریم کورٹ نے تاریخی بابری مسجد کی زمین پر ہندوؤں کی ملکیت کے دعوے کو تسلیم کیا ہے تاہم مسلمانوں کو مسجد بنانے کے لیے پانچ ایکڑ زمین متبادل جگہ پر بنانے کا فیصلہ دیا ہے۔

بابری مسجد اور رام مندر تنازعے کے حتمی فیصلے میں چیف جسٹس رنجن گوگوئی نےقرار دیا کہ ایودھیا کی اس اراضی کی ملکیت کا فیصلہ عقائد نہیں قانونی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

فیصلے سے قبل کسی ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے ایودھیا میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا اور ریاست اتر پردیش میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔

دارالحکومت دہلی میں انڈین وزیر داخلہ امت شاہ کے زیر صدارت اجلاس میں قومی سلامتی کے مشیر  اجیت ڈول اور دیگر اہم سکیورٹی حکام نے ملک میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے مشاورت کی۔

انڈین سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی سمیت پانچ رکنی بینچ نے مسجد اور مندر کے مقدمے کی سماعت 16 اکتوبر کو مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

فیصلہ سنانے والے پانچ ججز

سنہ 1992 میں ہندو بلوائیوں کی جانب سے تاریخی بابری مسجد کو مسمار کیے جانے بعد انڈیا میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے تھے جبکہ پاکستان میں ہندوؤں کے کئی مندر مسمار کر دیے گئے تھے۔

اترپردیش پولیس کے سربراہ او پی سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ فیصلے کے پیش نظر ملک بھر میں سکیورٹی سخت کی جا رہی ہے اور اب تک 500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین