مولانا فضل الرحمن اور اختلاف رائے کا طریقہ

فیصل کمال پاشا

اختلاف رائے ہر شخص کا بنیادی حق ہے اور جمہوری معاشرے کا اصل حسن اختلاف رائے ہی ہوتا ہے۔ ایسے معاشرے جہاں مطلق العنان حکمران ہوتے ہیں وہاں اختلاف رائے کو سختی سے کچل دیا جاتا ہے۔۔ نتیجتاً ایسے معاشروں میں مزاحمت صرف اور صرف بزور بازو ہی کی جا سکتی ہے جو کسی بھی ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ مزید برآں ایسے معاشرے جہاں اختلاف رائے کے حق کو برداشت نہیں کیا جاتا، وہاں مسلح جدوجہد منظم کرنا اور اس کو استعمال کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ حالیہ تاریخ میں عراق ، شام اور لیبیا کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔


جمیعت علمائے اسلام دیوبندی مکتبہ فکر کی جماعت ہے اور اس مکتبہ فکر بہت ساری جماعتوں میں جمہوریت کبھی بھی قبولیت کا درجہ نہیں پا سکی۔ بنیادی طور پر اگر آپ دیکھیں تو مذہبی رجحانات کے حامل اشخاص اکثر وبیشتر جمہوریت کی مذمت کرتے پائے جاتے ہیں اور ان کے مطابق مطلق العنان حکمرانی ہی بہترین طرز حکومت ہے۔ البتہ وہ حکمران کی شخصیت کے حوالے سے کچھ خواص کا تذکرہ کرتے ہیں اور ان کے خیال میں حکمران کچھ مخصوص اوصاف کا حامل ہونا چاہیئے۔


یہی وجہ ہے کہ دیوبندی مکتبہ فکر آپ کو ہمیشہ فوجی آمریتوں کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا۔
جمیعت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی دو ایسی جماعتیں ہیں جنہوں نے بتدریج جمہوریت کو نہ صرف قبول کیا بلکہ انتخابی عمل کا حصہ بھی بنیں۔ یہ بظاہر اس نکتہ فکر کے لوگوں کا بنیادی نظریے سے انحراف تھا لیکن اگر آپ بغور جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ یہ ملک کے لئے خوش آئند ثابت ہوا۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن مولانا فضل الرحمن اور ان کے والد مولانا مفتی محمود کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے مسلح جدوجہد پر یقین رکھنے والے طبقات کو جمہوری جدوجہد کر رستے پر ڈالا۔ مولانا فضل الرحمن اپنی گفتگو میں آئین پاکستان کا حوالہ دیتے ہیں اور اس بات کو لے کر ان کا بہت مذاق بھی اڑایا جاتا ہے لیکن کیا یہ ایک غیر اہم اور معمولی بات ہے کہ ان کے مکتبہ فکر سے کچھ طبقات ایسے بھی ہیں جو جمہوریت کو کفر اور آئین کو ایک غیر اہم اور بے کار دستاویز سمجھتے ہیں؟؟


اگر آپ مولانا فضل الرحمن کے موجودہ دھرنے کا جائزہ لیں تو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنے سے پیشتر دھرنوں کی تمام روایات کے برعکس انتہائی منظم اور پر امن دھرنے کا انعقاد کیا ہے۔ اس سے پیشتر تحریک انصاف نے جس قسم کے دھرنے کا انعقاد کیا، وہاں جس طرح سول نافرمانی کی بات کی گئی، دھرنے کے سٹیج سے جس طرح کی زبان استعمال کی گئی اور جس طرح قومی املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جمیعت علمائے اسلام کا دھرنا مکمل طور پر اگر نہیں تو اس سے کہیں بہتر اخلاقیات کا مظاہرہ کرتا نظر آتا ہے۔ اس دھرنے نے امراء اور غرباء کے اخلاقی تفاوت کو بھی بدرجہ اتم ظاہر کیا۔۔۔ مولانا فضل الرحمن دھرنے سے مطلوبہ نتائج سمیٹتے ہیں یا نہیں لیکن انہوں نے اپنے معتقدین کی بہتر اخلاقیات اور نظم کے حوالے سے داد ضرور سمیٹی ہے۔ مستقبل قریب میں دھرنا اخلاقیات کے حوالے سے یہ دو نظائر اب ہمارے قومی نصاب کا حصہ بن چکے ہیں۔


اس دھرنے نے طبقہ امراء کی ہیجان خیز مفاد پرستی اور غرباء کے اندر پائے جانے والے قلبی سکون کو بھی ظاہر کر دیا۔۔۔اس سب سے بڑھ کر یہ کہ مدرسے کے گوشہ نشین استاد اور طالب علم کو مرکزی دھارے میں لانے کا کریڈٹ بہرحال مولانا ہی کے سر جاتا ہے۔
ایسے مدارس جہاں سے طالبان سوچ کے حامل افراد نکلتے ہوں، وہاں کے طالب علموں کا پر امن اجتماع یقینی طور پر خوش آئند ہے اور مستقبل میں پر امن اختلاف رائے کی نئی راہیں متعین کرتا ہے۔۔۔
دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو برسر اقتدار تحریک انصاف کے حامیوں کی فاشزم میں کمی کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے۔ ایک سادہ سے مولوی کی وکی لیکس سے متعلق غلطی کو لے کر جس طرح بھد اڑائی جا رہی ہے وہ اسی سوچ کا شاخسانہ ہے جو ایک وزیراعظم کو سٹیج پر کھڑے ہو کر ‘ڈیزل, ڈیزل’ کہنے پر مجبور کرتی ہے،،جبکہ آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ شخص کا جرمنی اور جاپان کی حدود آپس میں ملانے کا اقدام معمولی غلطی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔


ملک پاکستان اس نفرت انگیزی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ سب سے پہلے عمران خان کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے پھر ان کے فالوؤرز کے رویے میں تبدیلی آئے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت ملک میں تبدیلی کی نقیب بن کے ابھری لیکن مجوزہ تبدیلی لانے میں بری طرح ناکام ہو گئی۔ لیکن یہ جماعت اگر اپنے ورکر کے رویے ہی میں تبدیلی لے آئے تو یہ بڑی خوش آئند ہو گی۔


اہم بات یہ ہے کہ مسلح جدوجہد اور مطلق العنان حکمرانی پر یقین رکھنے والی جماعت مہذب اور شائستہ انداز میں اختلاف رائے کا حق استعمال کر رہی ہے جبکہ بظاہر آئین، قانون اور انصاف کی بات کرنے والی حکمران جماعت ہر اختلافی آواز کو سختی سے کچل دینے کی حامی نظر آتی ہے۔

متعلقہ مضامین