پلان اے کیا تھا ؟

دو بنیادی باتیں سمجھ لیجئے! دنیا کا کوئی بھی سیاسی تجزیہ کار اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتا کہ دباؤ کی سیاست میں آپ اپنے اصل ہدف کو نمبر ایک پر رکھ کر کبھی یہ نہیں کہتے کہ یہ لیے بغیر کسی صورت نہیں جاؤں گا۔ اصل ہدف کو ہمیشہ نمبر 3 یا نمبر دو ترجیح بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مثلا اگر آپ نے صرف وزیراعظم کو ہٹانا ہو تو آپ اس کے استعفے کا مطالبہ نہیں کرتے بلکہ اسمبلی توڑنے کا مطالبہ پیش کرتے ہیں۔ آزادی مارچ میں مولانا کا اولین مطالبہ ہی یہ تھا کہ وزیراعظم استعفے دیں۔ لھذا یہ تو طے ہے کہ یہ ان کا ہدف نہیں تھا۔ دوسری بات یہ کہ سو پچاس لوگ جمع کرکے کوئی قومی شاہراہ بلاک کرنے والے غیر سیاسی احتجاجی بھی کبھی خالی ہاتھ نہیں گئے۔ وہ پہلے کمشنر اور پھر وزیروں کی دوڑیں لگواتے نظر آتے ہیں یا نہیں ؟ اور بالآخر کچھ طے کرکے ہی قومی شاہراہ سے اٹھتے ہیں یا نہیں ؟ تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آزاد تجزیہ کاروں نے جس مارچ کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر بتائی ہو وہ خالی ہاتھ چلا گیا ہو ؟ اگر آپ واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ مولانا خالی ہاتھ لوٹ گئے تو سیاسی تجزیہ کاری آپ کے بس کی چیز نہیں، آپ سردیوں میں چکن کارن سوپ اور گرمیوں میں سوڈے کا ٹھیلہ لگانے پر غور کیجئے۔

آزادی مارچ کے ہر دن رونما ہونے والے ضمنی ایونٹس کے باریک بین مشاہدے سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اس مارچ کا ظاہری ہدف حکومت تھی، سو مطالبہ بھی وزیر اعظم کے استعفے کا رکھا گیا مگر فی الحقیقت نشانہ فوج کی سیاسی مداخلت تھی۔ اب یہ تو ممکن نہیں کہ کوئی سیاسی رہنماء یہ کہہ کر لوگوں کو جمع کرے کہ آؤ فوج کے خلاف مارچ نکالیں۔ نام بیشک حکومت کا تھا مگر مولانا نے مارچ جن کے خلاف نکالا وہ بخوبی جانتے تھے کہ نشانہ حکومت نہیں، ہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تیسرے ہی دن اس سوال کے ساتھ سامنے آگئے

"مولانا فضل الرحمن بتائیں، کونسا ادارہ مراد ہے ؟”

اگر اس مقام پر مولانا خاموش رہ جاتے یا آئیں، بائیں، شائیں کر جاتے تو ان کا کام تمام ہوجانا تھا۔ لیکن انہوں مضبوط اعصاب کا مظاہرہ کرکے فوری اور واضح جواب دیدیا۔ دو دن تک تو پنڈی میں سناٹا رہا۔ سنا ٹا تو چھانا ہی تھا کیونکہ تاریخ میں پہلی بار کسی نے فوج کو ترکی بہ ترکی جواب دیا تھا۔ اگلوں نے 2 دن کیلکولیشن کی تو ایک لاکھ سے زائد کے مجمع کے ساتھ چھیڑخانی دانشمندی نہیں لگی۔ چنانچہ مولانا کے لئے حب الوطنی کا علانیہ سرٹیفکیٹ ہی جاری نہ کرنا پڑا بلکہ یہ بھی کہنا پڑا کہ

"فوج غیر جانبدار ہے”

غیر جانداری والے اس بیان کا سوشل میڈیا میں تماشا خوب لگا لیکن اسے سمجھنے والوں سے ایک بنیادی غلطی یہ ہوگئی کہ وہ سمجھتے رہے کہ آصف غفور خود کو پچھلی تاریخوں سے غیر جانبدار بتا رہے ہیں جبکہ فی الحقیقت یہ آگے کے لئے غیر جانبداری کا اعلان تھا۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس اعلان کے فورا بعد ڈپٹی سپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد آگئی جو یہی چیک کرنے کے لئے ہے کہ "غیر جانبدار ادارہ” چیئرمین سینیٹ والی تاریخ دہراتا ہے یا غیر جانبدار رہتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ چوہدری شجاعت اور پرویز الہی "معاملات غیر جانبداری” ہی طے کر رہے تھے۔ میرے حساب سے پلان اے فوج کو بیک فٹ پر دھکیلنا تھا اور پلان بی حکومت کو چلتا کرنا ہے۔ میں نے محکمہ زراعت کے ایک ذاتی دوست سے پوچھا، لاک ڈاؤن سے نمٹنے کے لئے کیا حکمت عملی ہے ؟ تو جواب ملا

"میرے علاقے میں پانچ جگہ سڑکیں بند ہیں، لیکن ہمیں سختی سے آڈر ہے کہ "ہمارا” لاک ڈاؤن سے کوئی لینا دینا نہیں، حکومت جانے اور جے یو آئی جانے”

ایسے میں جو چیز سب سے خوبصورت ابھر کر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ مولانا فضل الرحمن عمران خان جیسے بدترین سیاسی دشمن کو بھی فوج کی مدد سے زیر نہیں کرنا چاہتے۔ وہ اسے فوج کی مدد سے محروم کرکے اپنے دست و بازو سے سیاسی شکست دینا چاہتے ہیں۔ یہ اس عمران خان پر بہت بڑی اصولی برتری ہے جو ایمپائر کی انگلی کا ہمہ وقت محتاج رہتا ہے۔ نظر یہی آرہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن عمران خان کو پلان اے کی مدد سے فوج کی مدد سے تو محروم کرنے میں کامیاب ہوچکے۔ اب اپنے دست و بازو سے اسے سیاسی شکست دینے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ پلان بی کی کامیابی یا ناکامی پر منحصر ہے۔

متعلقہ مضامین