چوہدری برادران کے اشارے

چوہدری شجاعت حسین نے یہ بیان دے کر بہت سوں کو چونکا دیا کہ (معاشی بدحالی کی وجہ سے حالات اتنے خراب ہو رہے ہیں کہ) آئندہ تین ماہ یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ بعد کوئی شخص بھی وزیراعظم بننے کے لئے تیار نہیں ہو گا۔
سب لوگ سوچ رہے ہیں کہ کیا اگلے چند ماہ میں کوئی ایسا سیناریو بننے والا ہے جس میں کسی کو وزیراعظم بنانے کا سوال پیدا ہو؟

انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو مزید مشورہ دیا کہ وہ (نواز شریف کی علاج کیلئے بیرون ملک روانگی میں رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے) خود پر کلنک کا ایسا ٹیکا لگنے نہ دیں جسے بعد میں دھونا مشکل ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بگڑتی صحت کی وجہ سے عمران خان کو اکیلے طوفان کا سامنا کرنا پڑ جائے گا، عمران خان ایسے لوگوں کی باتیں نہ سنیں جو نواز شریف کو علاج کیلئے باہر بھیجنے کے اچھے فیصلے کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔


چوہدری شجاعت حسین صاحب کے بیان کو مزید سمجھنا ہو تو کل ندیم ملک سے چوہدری پرویز الٰہی کے انٹرویو کو دیکھنا چاہیئے۔ ندیم ملک نے چوہدری صاحب سے یہ سوال کر کے فضا میں پھیلی افواہوں کی تصدیق چاہی کہ "سنا ہے آپ کی شیروانی تیار ہو رہی ہے” ۔۔ لیکن چوہدری صاحب مسکرا کر طرح دیدی ۔۔۔ ہلکے سے یہ کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔ یہ ایسی تردید ہے جس میں تصدیق چھپی ہوئی ہے۔

چوہدری صاحب نے اپنے انٹرویو میں ہر وہ بات کہی جو تمام معاشی ماہرین اور تجزیہ کار شروع دن سے کہتے چلے آ رہے ہیں۔ اور تو اور سہیل وڑائچ نے کافی ماہ پہلے ہی "یہ کمپنی نہیں چلے گی” میں ان معاملات کے حوالے سے بتا دیا تھا۔

ان سارے تجزیات اور چوہدری صاحب کے انٹرویو کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت تب چلے گی جب ملک کی معاشی حالت بہتر ہو گی، غریب کا چولہا جلے گا، ملکی سرمایہ کار کا خوف دور ہو گا اور وہ اپنا سرمایہ کاروبار میں لگانے پر آمادہ ہو گا ۔۔ مقامی سرمایہ کار کا اعتماد بحال ہو گا تو غیر ملکی سرمایہ کار بھی آنا پسند کرے گا ۔۔۔ اگر معاشی اہداف حاصل نہ ہوں تو حکومت نہیں چل پائے گی۔ اس مقصد کے لئے چوہدری صاحب نے ایک سے زیادہ بار کہا کہ سیاسی مقدمات سے حکومت کو دور ہونا پڑے گا ۔۔ نیب کی کاروائیوں کی وجہ سے کاروباری حضرات ایک طرف، سرکاری ملازم بھی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔ چوہدری صاحب نے بہت دلچسپ بات کی کہ سرکاری نوکری میں فیصلہ نہ کرنے پر کوئی سزا نہیں ہے۔ آپ فائل ادھر سے ادھر گھماتے رہیں، اس پر کوئی سوال نہیں اٹھائے گا۔ چوہدری صاحب نے ایک انتہائی ایماندار بیوروکریٹ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس شریف آدمی کو نیب نے خوامخواہ ہی قید میں رکھا ہوا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ سرکاری ملازم بدک گئے ہیں۔

نوازشریف سے انڈمنٹی بانڈ کے حوالے سے انہوں نے نہایت افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بالفرض آپ ان کی جائیداد بطور ضمانت رکھ بھی لیں۔ اور کل کلاں اسے قرق کروانا بھی چاہیں تو کون ہو گا جو سامنے آ کر وہ جائیداد خریدنے کی جرات کرے گا؟ انہوں نے اپنی ذاتی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان کی لاہور میں موجودہ رہائش گاہ کو بھٹو نے ضبط کر لیا تھا۔ اور تین دفعہ قرقی کے لئے پیش کیا گیا لیکن کوئی خریدار ہی سامنے نہ آ سکا۔ ایسے ہی ایک مثال مشرف کے شریف خاندان کے رہائشی گھروں کو ضبط کرنے کی پیش کی۔ مشرف دور میں ان رہائش گاہوں کو سرکاری طور پر ضبط کر کے ان میں سرکاری دفاتر بنا دئیے گئے تھے۔ لیکن جیسے ہی شریف خاندان واپس آیا، انہوں نے سرکاری دفتروں کا سامان نکال کر باہر پھینکا اور دوبارہ سے وہاں رہنا شروع ہو گئے۔ کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے کی جرات نہ ہوئی کہ ان مکانات پر اپنا قبضہ قائم رکھ سکے۔


چوہدری صاحبان کی گفتگو مختلف پہلو لئے ہوئے ہے۔ ایک طرف وہ معیشت اور گورنس کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ کے تحفظات خانصاحب تک بالواسطہ طریقے سے پہنچا رہے ہیں، دوسری طرف وہ نون لیگ کے حلقوں میں اپنے لئے قبولیت پیدا کر رہے ہیں تاکہ آنے والے وقت میں ان کے ساتھ مل کر چلنا آسان ہو جائے۔ یاد رہے چوہدری برادران مشرف کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت کا حصہ بھی رہ چکے ہیں۔ لیکن ماضی میں نون لیگ سے ان کی صلح کی ہر کوشش ناکام ہوئی ہے۔ اپنے روئیے سے وہ اب اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔

ان کی گفتگو کو مرکزی نکتہ معیشت ہی تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں بھی پاکستانی معیشت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ خانصاحب کے غیرضروری طور پر احتساب کی رٹ لگانے اور سیاسی مخالفین کو سچے جھوٹے مقدمات میں قید و بند میں ڈلوانے سے معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ چوہدری صاحب کی گفتگو کو خانصاحب کے لئے ایک مشورہ، چتاؤنی یا الٹی میٹم سمجھا جا سکتا ہے۔ اس میں پوشیدہ پیغام یہ ہے کہ اگر آنے والے مہینوں میں سیاسی استحکام نہ آیا، جس کا لازمی نتیجہ معاشی بدحالی ہے تو یہ کمپنی واقعی نہیں چل پائے گی۔ لگتا ہے کہ اس حوالے سے کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ طے بھی ہو چکا ہے۔
:
پنجاب اسمبلی میں سیاسی پارٹیوں کی عددی صورتحال پر غور کیجیے۔ پی ٹی آئی کے پاس ہانکا کر کے گھیرے جانے والے ممبران سمیت 181 ممبران موجود ہیں۔ ق لیگ کے 10، نون لیگ کے 166 اور پیپلزپارٹی کے 7 ممبران مل کر 184 بن جاتے ہیں۔ آزاد 4 اور پاکستان راہ حق کا 1 ممبر اس کے علاوہ ہے۔ بدلتی ہوا کا رخ پہچان کر پی ٹی آئی کے جہاز سے چھلانگ مارنے والے ممبران اس کے علاوہ ہوں گے۔ ویسے بھی پی ٹی آئی کے پاس اکثر اراکین پکڑ دکڑ کر لائے گئے ہیں۔ جن طریقوں سے وہ لائے گئے تھے، انہی طریقوں سے وہ واپس ہو جائیں گے۔

قومی اسمبلی میں گو پی ٹی آئی کی اکثریت خاصی ہے اور اس کے مخالفین کو حکومت بنانے کے لئے چوں چوں کا مربہ بنانا پڑے گا جو اتنا آسان نہیں ہے۔ لیکن اگر اسٹیبلشمنٹ ہی ایسی کسی تبدیلی کی داعی ہو تو پی ٹی آئی کے اپنے ہی کافی سارے لوگ اسٹیبلشمنٹ کی آواز پر لبیک کہیں گے۔

عمران خان کی موجودہ حکومت کی سب سے بڑی کمزوری اہل وزراء اور مشیران کی کمی ہے۔ ایک قحط الرجال کا سا عالم نظر آتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ اسمبلیوں میں عمران خان کے مخلص ساتھی بہت کم ہیں۔ ان میں سے بیشتر وہ بٹیرے ہیں جو الیکشن سے پہلے ہانکا لگا کر جمع کئے گئے تھے اور اپنی اپنی مجبوریوں کے سبب وہ خانصاحب کو پیارے ہو گئے تھے۔ خانصاحب کے خلاف ہوا چلنے کی دیر ہے کہ وہ لوگ واپس اپنے گھونسلوں کو لوٹنے کی تیاری کرتے نظر آئیں گے۔ آج کل بڑھ بڑھ کر بیان دیتے ہوئے فواد چوہدری، فردوس عاشق اعوان اور ان جیسے دوسرے چُوری کھانے والے مجنوں ایسے غائب ہوں گے کہ کہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔

لیکن یہ سب کچھ آئندہ چند ماہ میں حالات کا رخ دیکھ کر ہی پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ کہا جا سکتا ہے کہ خانصاحب کو چند ماہ اپنے معاملات سدھارنے کے لئے دئیے گئے ہیں۔ معاملات نہ سدھرے تو انہیں لانے والے ہاتھ انہیں ہٹانے میں دیر نہیں کریں گے۔

نوازشریف کو منظر سے ہٹانے کی سازش کو دیکھیں، دھرنے کو دیکھیں، نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے گریز کو دیکھیں اور اوپر بیان کردہ حکومت کی تبدیلی کے منظرنامے کو ملاحظہ کیجیے۔ یہ سب چیزیں آپس میں منسلک نظر آئیں گی۔ نوازشریف کو ملک سے باہر بھیج دیا جائے یا خدانخواستہ کوئی اور صورتحال پیش آ جائے جس میں نوازشریف مداخلت نہ کر سکے تو عمران خان کے مخالفین کے لئے ہانکا لگا کر پرندوں کو جمع کرنا آسان ہو گا۔ عمران خان کی سب سے بڑی سپورٹ میاں نوازشریف ہے جو اسٹیبلشمنٹ سے کوئی بھی سازباز کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ میاں شہبازشریف کی اسٹریٹیجی بالکل مختلف ہے۔ اسے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل جل کر کام کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

عمران خان میاں نوازشریف کو ملک سے جانے دیتا ہے تو اس کی غیر موجودگی میں حکومت کو ہٹانے کا کھیل زور و شور سے شروع ہو جائے گا اور خانصاحب اپنے اناڑی مشیروں اور احتساب احتساب کی رٹ لگانے سے خود بخود اس پھندے میں پھنستے چلے جائیں گے۔ اگر نوازشریف باہر نہیں جاتا اور خدا نخواستہ کوئی حادثہ پیش آ جاتا ہے، جس کا بہت زیادہ امکان ہے، تو بھی خانصاحب کو اس شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا جو ان کی رخصتی کے عمل کو بہت حد تک یقینی بنا دے گا۔ کلنک کا یہ ٹیکہ تیزاب کے ساتھ دھونے سے بھی نہیں اترے گا۔

ایک خبر کے مطابق خانصاحب نے کابینہ میں ردوبدل کا عندیہ دیا ہے۔ قاف لیگ مرکز میں مونس الٰہی کے لئے وزارت کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ جسے خانصاحب کی طرف سے شرفِ قبولیت نہیں بخشا گیا تھا۔ یوں لگتا ہے کہ اب قاف لیگ کی لاٹری لگنے والی ہے۔ مرکز میں انہیں وزارت مل ہی جائے گی ۔۔ اس وقت جو صورتحال ہے اس میں وہ عمران خان کی ضرورت بن چکے ہیں۔ خانصاحب ان کے ساتھ کسی قسم کا بگاڑ مول نہیں لے سکتے۔

میری رائے میں خانصاحب کو پرویز الٰہی کی باتوں کو غور سے سننا چاہیے اور من و عن ان پر عمل کرنا چاہیئے۔ معیشت پر فوکس کرنا چاہیئے۔ ملکی سرمایہ کاروں کا اعتبار بڑھانا چاہیئے ۔۔ بیوروکریسی کو نیب کے خوف سے نجات دلانی چاہیئے۔ اپوزیشن سے ہاتھ تک نہ ملانے کی پالیسی کو یکسر تبدیل کر کے اپوزیشن سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے میں پہل کرنی چاہیئے ۔۔ سیاسی مقدمات سے خود کو ہر لحاظ سے دور کر لینا چاہیئے۔

اگر خانصاحب ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اگلے چند ماہ میں ان کی گورنس کے معاملات بہتر ہوتے ہوئے نظر آئے تو ان کا اقتدار مستحکم ہو جائے گا اور وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم ہوں گے جو پانچ سال پورے کریں گے۔ ورنہ سہیل وڑائچ کے الفاظ میں کمپنی بہادر کا خاتمہ بالخیر ہو جائے گا اور خانصاحب انیسویں وزیراعظم ہوں گے جو اپنی مدت پوری نہ کر پائیں گے۔

متعلقہ مضامین