”زندہ ہے نواز شریف زندہ ہے“


اندھے عوام عقل کے اندھے حکمرانوں کو چھو کر جاننا چاہتے ہیں کہ ان کو سنائی دینے والے فیصلے کون کر رہا ہے۔ مگر شاید عقل کے اندھے حکمران اندھے عوام کے چھو کر جاننے اور پہچاننے کی حس سے بھی خوفزدہ ہیں۔ میڈیا پر پابندیاں اسی خوف کی علامت ہیں۔ عقل کے اندھے حکمرانوں نے تہتر سال میں ملک توڑ دیا مگر مگر عوام یا اس کے نمائندے انہیں چھو بھی نہ سکے۔ عوام اور ان کے سیاسی نمائندوں کے ساتھ کوکلا چھپاتی کھیلتی خفیہ قووتوں کو اسٹیبلشمنٹ کے نام سے تو پکارا تو جا سکتا ہے مگر انہیں چھوا یا آنکھوں سے پٹی اتار کر ان کا نام اور رینک پکارا نہیں جا سکتا۔

تین بار کے منتخب وزیراعظم کی بستر مرگ پر عدالتی ضمانت اور بیرون ملک روانگی کی اجازت کے قانونی و سیاسی پہلووں پر مباحثوں کا ایک طوفان ہے جو ٹی وی سکرینوں پر بپا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے پاکستان میں قانون اور سیاست کا بول بالا ہے۔ قانونی دلیلوں اور سیاسی چالوں کے تجزیوں کا ایک شور ہے جو اندھے عوام کے کانوں میں روز محشر کی سزا کے طور پر سیسے کی مانند انڈھیلا جا رہا ہے۔

حقیقت میں بات قانون کی ہے اور نہ ہی سیاست کی، بات ہے جنگل کے قانون کی اور بھیڑیوں کی خباثت کی۔ کتنا مشکل ہے یہ سمجھنا کہ سزا یافتہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت بوجہ خرابی صحت اور پھر عدالتی اجازت برائے علاج بیرون ملک اتنا ہی آئینی یا غیر آئینی ہے جتنا اس کی نااہلی بوجہ اقامہ اور قید بوجہ بدعنوانی تھی۔ قبل از انتخابات منتخب حکومت کے خلاف بوٹوں کی سازش کا حصہ بننے والے ریاکار سیاستدان، منصفین، مصنفین، اور اینکر تجزیہ کار ڈوبتی معیشت کے باعث ممکنہ عوامی ردعمل سے بچنے کے لیے نواز شریف کے ممکنہ خون کے چھینٹوں سے اپنا اپنا دامن بچانے کی کوشش میں لگ گئے ہیں۔ پاناما سکینڈل پر گھناؤنی سازش کے تحت سیاسی، عدالتی اور صحافتی ضمیر فروش اب تاثر دے رہے ہیں کہ قانون میں تو گنجائش نہیں مگر انسانی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ نواز شریف کو غیر مشروط باہر علاج واسطے جانے دیا جائے۔


بھیڑیوں کا پیغام ہے کہ قانون کے تحت کرپٹ لوگوں کو سزا دی جا سکتی ہے اور نہ ہی ایک سزا یافتہ مجرم کی جان بچائی جا سکتی ہے۔ اس لیے کبھی کبھی ماورا آئین و قانون اقدامات بھی ملک اور قوم کے مفاد میں ہوتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو یہ کہنا غلط بھی نہیں کہ سزا یافتہ مجرم کو برائے علاج ضمانت نہیں بلکہ ھسپتال میں شفٹ کرنے کی اجازت ہی دی جا سکتی ہے اور اس کے ملک سے باہر جاکر علاج کرانے کی اجازت کی مثال تو واقعی نہیں ملتی، مگر جب ایک وزیراعظم کی نااہلی اور اس کو سزا ہی آئین سے سنگین غداری کرتے ہوئے سازش اور عدلیہ پر دباؤ کے ذریعے دلوائی گئی ہو تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ اس شخص کو آئین اور قانون کی کن شقوں کی تحت جیل سے باہر نکالا گیا ہے۔

ہم بطور قوم یہ بھول جاتے ہیں کہ فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے سربراہان جنرل پاشا اور پھر جنرل ظہیر الاسلام نے نواز شریف حکومت گرانے کی جو منظم سازش پی ٹی آئی کے ڈی چوک دھرنے سے شروع کی اور جس بعد پاناما سکینڈل کو استعمال کر کے اعلی عدلیہ نے نواز شریف کو پہلے نااہل کیا اور پھر جیل بھیجا اس سازش کا سفر ابھی بھی جاری ہے- اس دوران جو واقعات اور عدالتی کاروائیاں عدالتی بڑھکوں و بیانات اور فیصلوں کی شکل میں ہوتی رہی کیا انکی بھی کوئی قانونی نظیر ملتی ہے کہ جو آج ہم “سزا یافتہ” نواز شریف کی ضمانت اور بیرون ملک جانے کی اجازت کے لیئے قانون کی نظیر تلاش کر رہے ہیں- فیصلوں میں ایک گاڈ فادر ان لا کے گاڈ سن ان لا کا ایک وزیر اعظم کو گاڈ فادر لکھنا، من پسند واٹس ایپ جے آئی ٹی بنانا، فوج کے خفیہ اداروں کو اس میں شامل کرنا، احتساب عدالت پر ایک نگران جج مقرر کرنا، اصل معاملے سے ہٹ کر اقامہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کو نا اہل کرنا، جج کو اس کی ننگی فلمیں دکھا کر سابق وزیر اعظم کو جیل کی سزا دلوانا، احتساب جج کے اقبال جرم کے باوجود اسکے خلاف کوئی کاروائی نہ ہونا، سپریم کورٹ کے گاڈ سن ان لا منصف کی طرف سے پہلے ضمانتوں اور پھر ننگی ویڈیو فلموں کے بطور ثبوت پیش ہونے کا کڑا معیار مقرر کرنا، اور پھر اپنی شریک حیات کو بستر مرگ پر چھوڑ کر بیٹی سمیت لندن سے واپس آ کر گرفتاری دینے والے سابق وزیر اعظم سے ضمانت کے طور پر سات ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ کا تقاضا کرنا۔ تو کیا ان سب واقعات اور فیصلوں کی پاکستان کے آئین اور عدالت میں کوئی نظیر ملتی ہے کہ اب ایک “سزا یافتہ” ملزم کو برائے علاج بیرون ملک جانے کی اجازت کے لیے تجزیہ کار اور اب ہائی کورٹ آئینی اور قانونی سوالات آٹھا رہے ہیں؟

اسی دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے نیب کیسوں میں ضمانتوں اور ننگی ویڈیو فلموں کے معیار ثبوت پر پورا اترنے سے متعلق بلا تفصیلی بحث تفصیلی فیصلےدے دئیے ہیں- ان فیصلوں کا نواز شریف کے خلاف احتساب مقدموں پر براہ راست منفی اثر پڑا ہے- چیف جسٹس کھوسہ انیس دسمبر تک ریٹائر ہونگے اور اس وقت تک نواز شریف اپنی سزا کے خلاف اپیلوں پر ہائی کورٹ کی سماعت اور اس پر فیصلہ لینے کا خطرہ مول لے نہیں سکتے۔ اوپر سے اچانک بیماری نے انہیں مشکل میں ڈال دیا ہے۔


اور اب جب بات ضمانت اور بیرون ملک علاج کی ہو رہی ہے تو بنیادی بات یہ ہے کہ بنیاد کی اینٹ ٹیڑھی ہو تو دیوار کی اینٹیں سیدھی رکھنے سے بھی عمارت گر جاتی ہے- جب تک ہم بطور قوم اور ادارے بنیاد کی اینٹ درست نہیں رکھیں گے تو اس وقت تک درست فیصلے بھی غلط ہی کہلائیں گے- کم از کم ہماری سوچ تو واضح ہونی چاہئیے- دوسری صورت میں ہمیں ایک جھوٹ پر دس جھوٹ والی مثال کے مصداق ایک ٹیڑھی اینٹ پر دس ٹیڑھی اینٹیں رکھنی پڑیں گی اور اس طرح پوری عمارت ہی کمزور اور خطرناک رہے گی۔

نواز شریف کے معاملے میں جنرل راحیل شریف سے لے کر آج تک ہونے والی سازش میں ملوث افراد اور اہلکاروں کو جب تک کٹہرے میں لانے کا اعلان نہیں کیا جائے گا اسوقت تک محض وزیر اعظم کے استعفے یا فوج کے سربراہ کی بروقت ریٹائرمنٹ سے بھی معاملات درست نہیں ہونگے- جنرل مشرف کے بعد سے جمہوریت کے دس سال پر محیط نام نہاد تسلسل نے بھی حالات بہتر نہیں ہوئے جس کی وجہ وہی سیاسی بزدلی اور اقتدار کی لالچ تھی۔ سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو صحت مند ہو جانے کے بعد (اللہ جلد صحت عطا کرے) اصولوں پر سیاست کی بجائے اصولوں کی سیاست کرنے کا اعلان کرنا ہو گا- ایک نئے سیاسی انتخابی منشور کے ساتھ عوام کے سامنے جانا ضروری ہو گیا ہے جس میں فوج اور فوج کے سربراہ کو منتخب حکومت کی مکمل ماتحتی کے اپنے حلف کا پاس کرنا ہو گا۔ شاید اب کی بار الیکشن سیاسی جماعتوں کے بیچ نہیں بلکہ سیاسی اور غیر سیاسی قووتوں کے بیچ ہو گا- اسٹیبلشمنٹ کے تمام گھوڑے پٹ چکے ہیں۔

کسی کو برا لگے تو لگتا رہے مگر سچ تو یہی ہے کہ فوج کے چند سرکش جرنیلوں کی سازشوں اور ان کی غفلت پر بروقت عدم کارروائی آصف زرداری اور نواز شریف کی مجموعی سیاسی بزدلی تھی جس نے آج ان دونوں لیڈروں کو اس حال تک پہنچایا ہے۔ اگر صدر آصف زرداری ایبٹ آباد میں امریکی حملے پر جنرل کیانی کو اور وزیراعظم نواز شریف آرمی پبلک سکول پشاور میں ڈیڑھ سو بچوں اور اساتذہ کے قتل عام پر جنرل راحیل شریف کو برطرف کر دیتے تو آج یوں ناانصافی کا رونا نہ رو رہے ہوتے۔ اگر اب بھی یہ دونوں حضرات آئین اور سویلین بالادستی کے ٹھوس نفاذ کی بجائے کسی نئے وزیراعظم، نئے آرمی چیف یا نئے چیف جسٹس کی نظر کرم کے ہی منتظر ہیں تو بہتر یہی ہے کہ سیاست چھوڑ دیں۔

ہم گاڈ فادر نہیں گاڈ فادر ان لا کی بھٹکتی ہوئی بدروح کے شکنجے میں ہیں۔ جب تک ان گڑے مردوں کو قبروں سے نکال کر آئینی اور قانونی رسومات کے مطابق دفنایا نہیں جائے گا اس وقت تک یہ بدروحیں اس مملکت خداداد پر یونہی قابض رہیں گی۔


اگر ملک میں جمہوریت نے شھباز شریف کی قیادت میں بے نظیر کے ۱۹۸۸ والے شراکت اقتدار کے فارمولے پر ہی بحال ہونا ہے تو قوم لنڈوری ہی بھلی۔ اگلے تیس سال تک قوم شھباز شریف اور پھر حمزہ شھباز کے اس نعرے کی متحمل نہیں ہو سکتی : ”زندہ ہے نواز شریف زندہ ہے۔“

متعلقہ مضامین