کیا پاکستان آسٹریلیا میں اپ سیٹ کر پائے گا؟

باسط سبحانی ۔ سپورٹس ایڈیٹر

1999
آسٹریلیا 3، پاکستان 0
2004
آسٹریلیا 3، پاکستان 0
2009
آسٹریلیا 3، پاکستان 0
2016
آسٹریلیا 3، پاکستان 0

پاکستان کرکٹ ٹیم کی آسٹریلیا میں ہوم ٹیم کے خلاف ٹیسٹ ریکارڈ کی جتنی کم بات کی جائے اتنا ہی بہتر ہے خاص طور پر گزشتہ دورے میں پاکستانی کھلاڑیوں کے آسٹریلیا میں ہاتھ پیر ہی پھول گئے تھے۔ بہت زیادہ توقعات لگانا دانشمندانہ نہ ہو گا لیکن یہ روایتی طور پر مضبوط آسٹریلین ٹیم نہیں۔ اس بار آسٹریلیا کی ٹیم میں رکی پونٹنگ، گلین میکگراتھ، شین وارن اور ایڈم گلکرسٹ کی طرح کے ستارے نہیں بلکہ موجودہ ٹیم زیادہ تر ناتجربہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔

چیف سیلیکٹر مصباح الحق کا ٹیسٹ اسکواڈ میں نوجوان کھلاڑیوں کو جہاں موقع دینا خوش آئند ہے وہیں ٹیم کا صحیح کامبینیشن میچز میں سلیکٹ کرنا بہت ہی اہمیت کا حامل ہوگا۔

یہ سیریز کپتان اظہر علی کی لیڈر شپ کوالٹی کا بہت بڑا امتحان ہے۔ اظہر علی نے گزشتہ کئی سالوں میں اپنی بلے بازی کا لوہا منوایا ہے۔ خاص طور پر کاؤنٹی کرکٹ میں شاندار پرفارمنس رجسٹر کرانے کے بعد اظہر کی ورلڈ کلاس پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔ اس نے گزشتہ دس برسوں سے پاکستان کرکٹ ٹیم کا مسلسل حصہ اور تنازعات سے دور رہتے ہوئے ٹیم میں عزت کمائی ہے۔

شان مسعود کا آسٹریلیا کی باؤنسی وکٹوں پر ٹیسٹ ہے۔ ایک اچھی سیریز شان کو ٹیم کا لمبے عرصے کے لئے مستقل حصہ بنائے رکھ سکتی ہے۔ دوسرے اوپننگ آپشنز امام الحق اور عابد علی ہیں۔ امام نے اپنے آپ کو ون ڈے کرکٹ میں ایک اچھا بلے باز منوایا ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ابھی تک ان کی واجبی سے کارکردگی ہے۔ ٹیکنیک بھی بہت پرفیکٹ نہیں ہے لیکن اگر کچھ دیر وکٹ پر کھڑے رہیں تو بڑی اننگز کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عابد علی اس سے پہلے ٹیسٹ میچ نہیں کھیلے۔ پاکستان کی جانب سے ان کو ایک بڑی پریشر سیریز میں ٹیسٹ ڈیبو کا چانس ہے۔ بیک اپ وکٹ کیپر کے طور پر اپنے آپ کو منوانے کا یہ سنہرا موقع ہو سکتا ہے۔

حارث سہیل کا معاملہ عجیب ہے۔ مکمل بیٹسمین ہے، بولنگ بھی اچھی کرتا ہے اور بڑے سکور بناسکتا ہے۔ ہر طرح کی بالنگ کے آگے چٹان بن کر کھڑا رہ سکتا ہے لیکن لگتا ہے جیسے حارث کا نفسیاتی پرابلم ہے۔
سب نگاہیں سپر سٹار بابر اعظم پر لگی ہوں گی۔ بابر نے پوری دنیا کے شائقین کرکٹ کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔ اگر وہ اپنے پوٹینشل پر ٹیسٹ کرکٹ میں پرفارم کر گئے تو ویراٹ کوہلی، کین ویلیمسن اور جو روٹ کی صف میں کھڑے ہونگے۔

اسد شفیق کا آسٹریلیا میں بہتر ریکارڈ ہے اور ان سے سینئر کا رول پلے کرنے کی توقع ہے۔ انہیں تسلسل سے اسکور کرنا ہوگا۔ افتخار احمد کو آسٹریلیا کے ساتھ ٹی ٹونٹی سیریز کی دریافت قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ٹی ٹوئنٹی میچز اور ٹیسٹ کرکٹ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اگر افتخار مڈل آرڈر میں اپنی تیز رفتاری سے سکور کر سکیں تو یہ پاکستان کےلیے بونس ہوگا۔ ان کی بولنگ بھی پاکستان کے لئے پلس پوائنٹ ہو گی۔

رضوان ایک عرصے سے قومی ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ انہیں بھرپور موقع ملا ہے کہ وہ سرفراز کی عدم موجودگی میں اپنی جگہ پکی کریں خاص طور پر کیپنگ میں کسی قسم کی غلطی نہ کریں۔

یاسر شاہ نے آسٹریلیا کے گزشتہ دورے میں انتہائی مایوس کن پرفارمنس دی تھی اور آسٹریلین بیٹسمین نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ایسے میں اسکواڈ میں شامل دوسرے اسپنر کاشف بھٹی کو موقع دینے میں کوئی حرج نہیں۔ بیٹنگ بھی مناسب کرلیتے ہیں۔ میرے خیال میں کاشف بھٹی کو پلئینگ الیون میں شامل کرنا ایک بہتر فیصلہ ہوگا۔ محمد عباس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک بہترین فاسٹ بولر ہیں اور اچھی لائین و لینگتھ پر وہ تسلسل کے ساتھ بول کرتے ہیں۔ اگر انہوں نے اسی طرح اپنی گیند بازی جاری رکھی تو یقینا جلد ہی صف اول کے بولرز میں شمار ہونا شروع ہو جائیں گے۔ عمران خان واپس آئے ہیں اور انہیں ورک ہارس کے طور پر کھلائے جانے کا امکان ہے۔

نوجوان بولرز
شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ اور موسی کا آپس میں بھی مقابلہ ہے۔
نسیم نے ذاتی صدمے کے باوجود جس طرح کی پرفارمنس دی ہے وہ اس کے تابناک مستقبل کی نشاندہی کر رہی ہے۔

فیلڈنگ بہت اہم رہے گی اس سیریز میں۔ فیلڈنگ کی وجہ سے ہم اکثر مخالف ٹیم کو حاوی ہونےدیتے ہیں۔

آسٹریلین باؤلنگ سے میں محتاط رہنا ہو گا۔ کمنز، سٹارک، ہیزل ووڈ کو کھیلنا بالکل آسان نہ ہوگا۔ نیتھن لائین بھی مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔ امید ہے کہ شائقین کرکٹ کو کانٹے دار سیریز دیکھنے کو ملے گی۔


باسط سبحانی کا کرکٹ شو ان کے یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کر کے دیکھ سکتے ہیں۔

www.youtube.com/basitsubhani

متعلقہ مضامین