پاکستان اننگز کی شکست سے نہ بچ سکا

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان برسبین میں کھیلے جانے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے دن پاکستان کو اننگز کی شکست ہو گئی ہے۔ بابر اعظم نے مشکل حالات میں سینچری سکور کی لیکن ٹیم کی نیا پار نہ لگا سکے۔ انہوں وکٹ کیپر محمد رضوان کے ساتھ چھٹی وکٹ کی شراکت میں 131 رنز سکور کیے۔

بابر اعظم 104 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ محمد رضوان 95 رنز پر نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے۔ ان کے ساتھ یاسر شاہ نے لمبی شراکت کی مگر رضوان کے آؤٹ ہونے کے بعد پوری ٹیم دوسری اننگز میں 335 رنز ہی بنا سکی۔ اور یوں ایک اننگز اور پانچ رنز سے برسبین ٹیسٹ آسٹریلوی ٹیم جیت گئی۔

پہلی اننگز میں 340 رنز کے خسارے میں جانے والی پاکستانی ٹیم دوسری اننگز میں بھی بلے بازی کی ابتدا کرتے ہوئے لڑکھڑا گئی تھی۔

پاکستان کے تین بیٹسمین 25 رنز پر پویلین لوٹے جبکہ آدھی ٹیم 95 رنز پر آؤٹ ہوگئی۔ پہلی اننگز کے ہیرو اسد شفیق بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے۔ کپتان اظہر علی اور حارث سہیل بھی آسٹریلوی پیسرز کا سامنا نہ کر سکے۔

اس سے قبل تیسرے دن کے آغاز پر آسٹریلوی ٹیم 580 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

یاد رہے کہ دوسرے دن پاکستانی بولرز صرف ایک وکٹ حاصل کر سکے تھے۔ آسٹریلوی اوپنرز نے دو سو رنز سے زیادہ کی پارٹنرشپ کی۔

ڈیوڈ وارنر جب 31 رنز پر کھیل رہے تھے تو ایک گیند ان کے سٹمپس کو چھوتے ہوئے گزر گئی مگر بیلز نہ گریں۔

دوسری بار وہ نسیم شاہ کی گیند پر آؤٹ ہوگئے مگر نو بال قرار دی گئی۔ اس وقت وارنر نے 51 رنز بنائے تھے۔

برنز 97 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کو یاسر شاہ نے کلین بولڈ کیا۔

اپنا پہلا میچ کھیلنے والے فاسٹ بولر نسیم شاہ نے 16 سال کی عمر میں ڈیوڈ وارنر جیسے اوپنر کو گیندیں کرائیں مگر کوئی وکٹ لینے میں ناکام رہے۔

آسٹریلوی بلے بازوں نے 312 رنز بنائے ہیں اور پاکستانی ٹیم سخت دباؤ میں ہے۔

جمعرات کو نسیم نے ڈیبیو کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ میچ شروع ہونے سے قبل جب نسیم شاہ کو ڈیبیو کیپ پہنائی گئی تو وہ آبدیدہ ہوگئے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق نسیم شاہ نے اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں اب تک صرف چھ میچز کھیلے ہیں۔ ان کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے دیر سے ہے۔

نسیم شاہ کو دورہ آسٹریلیا کے لیے ٹیم کا حصہ بنایا گیا تو 11 نومبر کو اس وقت ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا جب وہ آسٹریلیا میں پاکستان کے لیے اپنا پہلا بین الاقوامی ٹیسٹ میچ کھیلنے کے منتظر تھے۔

انہوں نے والدہ کے انتقال کے باوجود پاکستان واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا تھا تو پاکستان اور آسٹریلیا کی اے ٹیموں نے پریکٹس میچ میں سیاہ ربن باندھ کر نسیم شاہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

متعلقہ مضامین