یاسر شاہ کی ایک اور ڈبل سنچری!

باسط سبحانی – سپورٹس ایڈیٹر

یاسر شاہ کے پاس نہ جانے کون سی گیڈر سنگھی ہے جو ان کے علاوہ پاکستان میں سیلیکٹرز کو کوئی اور اسپنر نظر ہی نہیں آتا۔ کیا ایسے ہو سکتا ہے کہ عبدالقادر، اقبال قاسم، مشتاق احمد اور ثقلین مشتاق جیسے ورلڈ کلاس اسپنرز پیدا کرنے والی زمین بنجر ہو گئی ہو؟
کیا نعمان علی، ظفر گوہر، محمد اصغر، محمد عرفان اور کاشف بھٹی اس قابل نہیں کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کر سکیں؟ اگر نہیں تو ڈومیسٹک کرکٹ کا تکلف بھی ختم کر دیں۔
یاسر شاہ نے ایک اننگز میں 200 سے زیادہ رنز تین مرتبہ دیے ہیں۔ 190سے زیادہ رنز چار مرتبہ دے چکے ہیں۔ 180 پلس 5 مرتبہ دے چکے ہیں تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یاسر شاہ ٹیم کے لیے کتنے کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔ اگر مخالف ٹیم کا سکور 400 ہے اور 150 رنز کی لیڈ ہے تو اس کے بعد اگر دو تین وکٹ مل بھی گئے تو کونسی بڑی بات ہے؟

یاسر شاہ نے 17-2016 میں آسٹریلیا کی تین ٹیسٹ میچ سیریز میں صرف آٹھ وکٹ لیے تھے وہ بھی 84 رنز کی اوسط سے۔ ہر اوور میں 4.5 رنز کے حساب سے رنز دئیے۔ اگر 90 اوورز دن کے ہوں تو 400 رنز پکے اگلوں کے!
عمران خان نے بہت مایوس کیا۔ مینجمنٹ کاخیال تھا کہ وہ لمبے اسپیل کریں گے وکٹ نہیں اگر لے پاتے تو کم سے کم رن فلو روک پائیں گے۔ ایسا کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ شاہین آفریدی کو فرسٹ کلاس کا تجربہ چاہیے۔ ان کی بولنگ میں سپارک نہیں نظر آیا۔ نسیم شاہ کو حیرت انگیز طور پر نظر انداز ہوئے اور انہیں انڈر بال کیا گیا۔ جیسے نسیم نے ڈیوڈ وارنر کو آؤٹ کیا وہ گیند اس کے روشن مستقبل کی نوید ہے۔ حارث سہیل نے پریشر ڈال کر اچھی بولنگ کی۔ وکٹ کیپر محمد رضوان نے بہترین کارکردگی سے بہت متاثر کیا۔
لبوشین کی بیٹننگ سے پاکستانی بلے بازوں کو سیکھنا چاہئے۔ کیا شاندار سٹروکس لگائے۔ اس نے شائقین کو اسٹیو اسمتھ کی کمی تک محسوس نہیں ہونے دی۔ جب پاکستان نے بلے بازی شروع کی تو پہاڑ جیسا ٹوٹل سامنے کھڑا تھا۔
اظہر علی کو بطور قائد لیڈ فرام دی فرنٹ کرنا پڑے گا۔ ابھی تک تو کانفیڈنس کم نظر آرہا ہے۔ اگلے میچ میں وہ خود نمبر 3 پر آئیں اور شان مسعود کے ساتھ عابد علی یا امام کو اوپن کرنے کا موقع دیں۔ خدا کے واسطے حارث سہیل کو ریسٹ کرائیں۔ اسد شفیق نے بھی اپنے غیر مستقل پرفارمنسزکا ریکارڈ نہیں خراب ہونے دیا۔ شان مسعود اور بابر اعظم جیسے تیسے کر کے تیسرے دن کے اختتام تک لے کر گئے۔ اب یہ دونوں ہی کچھ کریں تو بات بنے گی۔

——————————

باسط سبحانی کا کرکٹ شو انکا یوٹیوب چینل کو سبسکرائب کر کے دیکھ سکتے ہیں

www.youtube.com/basitsubhani

متعلقہ مضامین