ناروے کا افسوسناک واقعہ ، کچھ مزید حقائق

فضل ہادی حسن ۔ اوسلو/ ناروے

ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے جنوب کی طرف تقریبا 322 کلومیٹر پر واقع شہر کرستیان ساند {Kristiansand} میں ایک افسوسناک واقعہ رونما ہوا، جب ایک اسلام مخالف تنظیم نے اپنے مظاہرہ میں قرآن کو آگ لگا کر مسلمانوں کے جذبات مجروح کردیے۔ اس واقعہ کے بارے میں پہلے دن ہی خبر سامنے آئی تھی کہ قرآن جلانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اس پر ردعمل زیادہ آنے لگا۔

وہاں موجود دوستوں سے جب بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس واقعہ کے مختلف پہلوؤں پر کام ہو رہا ہے، اس لیے فی الحال انتظار کیجیے۔ درحقیقت اس معاملہ میں سخت ردعمل ویڈیو کے بعد آیا لیکن ہم یہاں اصل واقعہ، تفصیلات اور بعد کی صورتحال پر بات رکھیں گے۔

ناروے کی اسلام مخالف تنظیم : مغربی معاشرے اور اداروں کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس وقت مغربی معاشرہ کے اکثر ممالک اسلاموفوبیا (Islamophobia) کا شکار ہیں۔ یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے لیکن مغرب کو اس مقام تک پہنچانے میں بڑا کرادار میڈیا کا ہے جسے اب مختلف دانشور، ریسرچ ادارے اور خود میڈیا کے نمائندے ہدفِ تنقید بنا رہے ہیں۔ مختلف مغربی ممالک کی طرح ناروے میں بھی اسلامائزیشن کو روکنے کے نام پر ایک اسلام مخالف SIAN نامی تنظیم (Stopp islamiseringen av Norge) غالبا ً 2008 میں وجود میں آئی۔ جرمنی کی اسلام مخالف تنظیم ہو یا نیدر لینڈ اور ناروے کی یہ تنظیم، یہ سب دراصل اسلاموفوبیا کا شکار ذہنیت ہے اور ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جنہیں خود نہ اسلام کے بارے میں پتہ ہوتا ہے اور نہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے ہاں دہشت گردی کے واقعات اور ان کے پیچھے اصل اسباب کا علم رکھتے ہیں۔ ایسی تنظمیں یورپ بھر میں وقتا فوقتاً کسی نہ کسی سرگرمی کے ذریعہ میڈیا کی زنیت بننا چاہتی ہیں لیکن فی الحقیقت ایسے واقعات انسانیت کو نفرت میں بدلنے اور رویوں اور مزاج میں بڑھتی ہوئی دوریوں کا باعث بنتے ہیں۔

قرآن جلانے کا افسوسناک واقعہ

اسلام مخالف تنظیم "سیان” کے زیراہتمام گزشتہ ہفتہ کو ناروے کے جنوب میں واقع اس شہر میں اسلام مخالف مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا جس میں قرآن جلانے یا بےحرمتی کا ذکر سامنے آنے کے بعد مقامی مسلمان کیمونٹی اور تنظیموں نے پولیس کو اپنے خدشات سے مطلع کرکے واضح کر دیا تھا کہ یہ حرکت ناروے سمیت پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بن سکتی ہے۔ پولیس نے "سیان” کو احتجاج کی اجازت تو دی تھی لیکن قرآن جلانے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ مقامی مسجد کی شوری کے ممبر اور یوتھ ونگ کے ذمہ دار سے جب اس حوالے سے میری بات ہوئی تو انھوں نے بتایا کہ پولیس کے منع کرنے پر تنظیم کے عہدیداران نے ایک صندوق نما "ڈبہ” جسے وہ کوڑا دن کے طور پر لا کر اس میں قرآن پاک (نارویجن زبان میں قرآن کا پہلا ترجمہ) کا نسخہ پھینک رہا تھا، لیکن اسی اثناء میں تنظیم کے ایک اور رہنما لارش تُھورشِن {Lars Thorsen} جس کا تعلق اس شہر سے نہیں بلکہ اوسلو سے ہے، نے ایک دوسرے نسخہ کو آگ لگائی۔

یہاں یہ بات ضروری اور اہم سمجھتا ہوں کہ اسلامو فوبیا کے شکار لوگ واقعی ایک ایسے "متعدی” مرض میں مبتلا ہیں کہ انہیں یہ نہیں معلوم کہ مرض کیا ہے؟ لیکن بجائے روکنے کے الٹا اپنے بدن میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ اس کا بات کا اندازہ آپ اس لگا سکتے ہیں کہ "لارش” نے جس نسخہ کو آگ لگائی تھی، وہ قادیانی جماعت کا ترجمہ شدہ تھا اور اس تنظیم کا نشانہ یقیناً قادیانی جماعت نہیں تھی، اس کے باوجود ہم اس عمل کی مذمت بھی کرتے ہیں اور اس حرکت کو ناروے جیسے پُرامن ملک اور معاشرہ میں انتشار کا باعث سمجھتے ہیں۔

ویڈیو منظر عام پر آنے سے اس پر زیادہ ردعمل سامنے آیا ، نیز چند ممالک نے اس واقعہ پر آواز بھی اٹھائی، جو کہ نارویجن حکومت کے لیے بھی اس واقعہ کو اہمیت دینے کا سبب بنے گا۔ لیکن اس وقت ناروے سے باہر ہمارے مسلمان بھائیوں کی طرف سے جو ردعمل سامنے آرہا ہے وہ وہاں مقامی مسلمانوں کے ردعمل سے مختلف ہے۔ یورپین معاشروں میں مسلمانوں کے بارے میں تشدد پسند اور جارح مزاج اور مشتعل قوم کے طور پرپیش کیا جاتا ہے، اسلام مخالف تنظیمیں اس میں پیش پیش ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کی کوئی کمزوری اور غلطی کو دوسروں کے سامنے اپنے دعوے کے لیے بطور دلیل پیش کرسکیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انتشار پھیلانا ہو یا اشتعال دلانا، دونوں ناپسندیدہ چیزیں سمجھنی چاہیے اور دونوں کی مذمت اور مخالفت کرنی چاہیے۔ سیان SIAN کی اس حرکت کی مخالفت کرنے والوں میں اکثریت نارویجن نظر آئینگے، ان میں اپنے اپنے مذاہب سے وابستگی رکھنے والے، سب کے لیے احترام کی بات کرنے والے بھی شامل ہوتے ہیں اور عام لوگ بھی، جو امن پسند ہوتے ہیں نیز اپنے معاشرہ میں امن کو سبوتاژ کرنے والے ہر اقدام کے نفی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

سیان یا اس طرح کی سوچ رکھنے والے لوگ تو بہت محدود تعداد میں ہوتے ہیں ان کے مظاہروں میں ایک ڈیڑھ درجن لوگ بھی نہیں ہوتے ہیں لیکن بعض دفعہ ایک حرکت ہی سب چیزوں پر بھاری بن جاتی ہے اور میڈیا کی وجہ سے تو وہ زیادہ شہ سرخیوں میں رہتا ہے {پاکستان میں اس کی کئی مثالیں بھی موجود ہیں}۔ اس واقعہ کے بعد مقامی میڈیا، دانشور، سیاسی رہنما وں سمیت دیگر لوگوں نے ، پولیس پر سوالات اٹھائے ہیں کہ "سیان کو اس حرکت سے منع کرنے کے باوجود وہ کیوں روکنے میں ناکام ہوگئی؟ 9 سیکنڈ کا وقت بظاہر ایک معمولی لمحہ نظر آتا ہے لیکن سیکورٹی ماہرین ان 9 سیکنڈ کو بھی بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ اب اس پرمزید کام نارویجن اتھارٹی نے کرنا ہے کیونکہ پولیس کارکردگی پر پہلے سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں لیکن سرِ دست اس کیس میں مقامی پولیس بالخصوص پولیس چیف کمشنر اورمئیر کا رویہ بڑا مثبت رہاہے۔ خاتون آفیسر نے لارش کی اس حرکت کو قانون کی خلاف ورزی قرار دی ہے یہاں یہ
ایک اہم پیش رفت قرار دی جاسکتی ہے کہ مقامی پولیس خود اس تنظیم کے خلاف عدالت میں جارہی ہے کہ انہوں نے قانون کی خلاف ورزی اور انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے جبکہ مقامی مسلمان مسجد انتظامیہ بھی اسے عدالت میں لےکر جارہی ہے۔

یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ایسے کام جذبات اور تشدد سے حل نہیں ہوتے بالخصوص وہ ممالک جہاں قانون اور عدالتیں مضبوط ہو۔ کرستیان ساند مقامی مسجد کے شوریٰ کے ممبر سے جب اس بارے بات ہورہی تھی تو انہوں نے کہا کہ "اس حوالے سے ہم نے ناروے کا مشہور قانونی فرم جو نارویجن قانون اور آئین کے ماہرین رکھتے ہیں، کی خدمات حاصل کی ہےاور اب اگلے پیر کے روز ان کیساتھ پھر ملاقات ہے۔” ساتھی نے مزید بتایا کہ "یہ جذبات اورردعمل روکنے کا وقت ہے، اس وقت ہمیں مقامی پولیس اور میئر کی حمایت حاصل ہے، دیگر نارویجن تنظیمیں اور لوگ اظہار یکجہتی کررہے ہیں، اور ہم اس معاملہ کو اس لئے عدالت میں لیکر جارہے ہیں تاکہ یہ کیس نا صرف ناروے کے لیے بلکہ پورے یورپ کے لیے ایک قانونی تبدیلی کا نقطہ آغاز بنے، جو قرآن سمیت دیگر تمام مذہبی علامات اور مقدس کتابوں کو نشانہ بنانے ، بے حرمتی کرنے کو ایک جرم قرار دینے اور ہم مسلمانوں کے لیے ایک قانونی تحفظ حاصل ہونے کا ذریعہ بنے گا” ان شاءاللہ العزیز۔

اس بارے میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ قرآن جلانے والا اور اس پر حملہ کرنے والا دونوں کو پولیس نے جرمانہ کرکے چھوڑا ہے اس حوالے سے کچھ دوست یہی سمجھ رہے ہیں کہ شائد عمر دھابہ گرفتار ہے لیکن اس حوالے سے ہمیں پتا چلا ہے کہ دونوں رہا ہوگئے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں صبر و تحمل کے ساتھ اور قانونی طور پر اس حرکت کو عدالت کے ذریعہ جرم ثابت کرنا ہوگا۔

جرم ، قانون اور ناروے کے بارے میں ساتھیوں کو بتانا چاہوں گا کہ ناروے میں سزائے موت نہیں ہے اور دیگر جرائم کی سزائیں بھی کم سے کم تر ہیں، اس کا اندازہ جولائی 2011 میں اوسلو میں دہشت گردانہ واقعہ میں 77 افراد کو قتل کرنے والا بریویک Breivik کی سزا سے لگائیں جو اس وقت اپنی سزا {عمر قید} ایک جیل میں کاٹ رہے ہیں۔ کم سے کم سزاوں کے باوجود شرح جرائم نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس وقت ہمیں مقامی مسلمان ذمہ داران کی بات اور تفصیلات کا انتظار کرنا ہوگا نہ کہ اپنے طور سے رائے قائم کرنا چاہیے۔

متعلقہ مضامین