درخواست گزار راہی صاحب کہاں ہیں؟ چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے مقدمے کا فیصلہ سنانے کے لیے دن ایک بجے وقت مقرر کیا تھا تاہم عدالت کا تین رکنی بینچ اڑھائی گھنٹے کی تاخیر سے ساڑھے تین واپس کمرہ عدالت میں آیا۔

چیف جسٹس نے کرسی پر بیٹھتے ہی تاخیر سے آنے پر معذرت کی۔ انہوں نے حکومت کی قانونی ٹیم سے پوچھا کہ ”کیا کیا جی، اس کا؟“

اٹارنی جنرل اور وکیل فروغ نسیم نے فائلیں پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان حلفی دے رہے ہیں، معاملہ قانون سازی کے لیے چھ ماہ میں پارلیمان میں پیش کریں گے۔

چیف جسٹس نے پھر پوچھا کہ راہی صاحب کدھر ہیں، درخواست گزار؟ انہوں نے یہ دیکھ لیا؟

ایک وکیل نے جواب دیا کہ وہ کھانا کھانے گئے ہیں۔ اس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے، انہیں کھانے دیں۔

دو منٹ بعد درخواست گزار ریاض حنیف راہی عدالت میں پہنچ گئے۔

چیف جسٹس نے مختصر حکم نامہ لکھوانا شروع کیا جو پہلے سے ہی تیار کر کے لایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلے کے آغاز میں کہا کہ تفصیلی وجوہات بعد میں بیان کی جائیں گی۔ ”اس کیس میں حکومت نے ایک موقف سے دوسرا موقف اختیار کیا، حکومت عدالت میں آرٹیکل 243 ون بی انحصار کررہی ہے اور عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا، حکومت آرمی چیف کو 28 نومبر سے توسیع دے رہی ہے۔“

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرمی چیف کی موجودہ تقرری 6 ماہ کے لیے ہوگی، وفاقی حکومت نے یقین دلایا کہ 6 ماہ میں قانون سازی کی جائے گی جب کہ آرمی چیف کی مدت اور مراعات سے متعلق 6 ماہ میں قانون سازی کی جائے گی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں، پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی تقرری سے متعلق قانون سازی کرے۔

متعلقہ مضامین