اڈیالہ جیل میں گنجائش سے تین گنا زیادہ قیدی

پاکستان میں اسلام آباد ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے شہر راولپنڈی کی 1500 قیدیوں کی گنجائش والی اڈیالہ جیل میں 4800 قیدی رکھے گئے ہیں۔
ہائیکورٹ نے وزارت انسانی حقوق اور وزارت صحت کو دوبارہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔


اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے اڈیالہ جیل کے قیدی خادم حسین کی طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے دائر درخواست پر سماعت کی۔

اڈیالہ جیل کے سپرنڈینڈنٹ عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ جیل 1500 قیدیوں کے لیے بنائی گئی تھی جبکہ جیل میں اس وقت 4800 قیدی موجود ہیں۔

وزارتِ صحت اور وزارت انسانی حقوق کے نمائندوں کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ میں خود اڈیالہ کا مہمان بنا تھا وہاں کے حالات کا پتہ ہے، جیل حکام کو اپنے اختیارات کا علم ہی نہیں ہے، قیدی صرف جیل کی ہی نہیں ریاست کی زمہ داری ہوتے ہیں۔

عدالت نے قیدی خادم حسین کی درخواست کل چھٹی کے روز بھی سننے کا فیصلہ کیا اور وزارت صحت اور وزارت انسانی حقوق سے کل دن دس بجے جواب طلب کر لیا۔

متعلقہ مضامین