آئین میں آرمی چیف کی مدت کا تعین کیوں نہیں؟

پاکستان کے آئین میں آرمی چیف کی مدت، تنخواہ اور دوسری سہولیات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ بھٹو صاحب نے 1973 کا آئین بناتے ہوئے اس لئے یہ گرے ایریاز چھوڑے تھے تاکہ آرمی چیف کے تقررر، معزولی، عہدے کی مدت اور دوسری سہولیات سولین وزیراعظم کی اشارہ ابرو پر منحصر ہوں۔ جس طرح سے بھٹو صاحب چاہتے تھے ویسا نہیں ہو سکا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ گرے ایریاز سول اور ملٹری قیادت میں بدگمانی کا سبب بنے۔ ان کے سبب سول ملٹری تعلقات ہمیشہ تناؤ کا شکار رہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ جس طرح سے باقی سرکاری عہدیداروں کی مدت مقرر ہوتی ہے آرمی چیف کی مدت اور دوسری شرائط بھی مقرر ہوں۔

۱۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت 3 سال ہونی چاہیئے۔

۲۔ سب سے سینئیر جنرل کو آرمی چیف مقرر کرنا چاہیئے۔ ایک جونئیر جرنیل کو چیف بنا کر کافی سارے جرنیلوں کو قبل از وقت ریٹائر ہونے پر مجبور کرنے کی کوئی تُک نہیں ہے۔ قوم کا بہت سا سرمایہ اور قیمتی عسکری ٹیلنٹ محض اس وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ تاہم آرمی چیف کی اہلیت کے حوالے سے کچھ پیشہ وارانہ شرائظ ضروری ہیں تو واضح ہونی چاہیئے۔ جیسے کور کو کمانڈ کرنا وغیرہ۔ ان شرائط کو پورا نہ کرنے کی صورت میں سینارٹی بھی چیف بننے کے لئے کافی نہیں ہو گی۔

۳۔ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال ہونی چاہیئے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت یا عمر میں سے جو پہلے مکمل ہو جائے اس پر ریٹائرمنٹ ہو جانی چاہیے۔

۴۔ عام حالات میں ایکسٹینشن بالکل نہیں ہونی چاہیئے۔ بہت ضروری بھی ہو تو صرف حالتِ جنگ میں وزیراعظم کی صوابدید پر ایکسٹنشن ہونی چاہیئے۔ جنگ سے مراد دہشت گردی کے خلاف اندرونی آپریشن نہیں ہیں۔ نہ ہی اکا دکا سرحدی جھڑپیں جنگ میں شامل ہیں۔

۵۔ ایکسٹینشن کی مدت ایک سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہیئے۔ اور صرف ایک بار ایکسٹنشن ملنی چاہیئے۔

۶۔ تنخواہ اور دوسری سہولیات دوسرے سرکاری ملازمین کے حساب سے مقرر ہونی چاہیئیں۔

۷۔ آرمی چیف کو معزول کرنے کے لئے اسی طرح کے قوانین ہونے چاہئیں، جس طرح سے باقی سرکاری ملازمین، ججوں وغیرہ کی معزولی کے واضح قوانین، کوڈ آف کنڈکٹ وغیرہ ہیں۔ محض کسی کی پسند یا ناپسند پہ معزولی نہیں ہونی چاہیئے۔

واضح قوانین ہوں گے تو فوج کے اندر کبھی بے یقینی کی فضا نہیں بن پائے گی۔ ہر شخص کو پتہ ہو گا کہ کون کب آرمی چیف بن رہا ہے۔ نہ ہی سول وزیراعظم کسی کو آرمی چیف مقرر کے اس پہ اپنا احسان جتائے گا۔ نہ آرمی چیف کسی کا ممنونِ احسان ہو گا۔ تعلقات انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں آگے بڑھیں گے۔

متعلقہ مضامین