فارما کمپنیاں، کانفرنسیں، پروفیسر، اور ”ہم“

پوری دنیا کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں سینیئر ڈاکٹر سوپروائزر بنتے ہیں کہ اگلی نسل تک علم منتقل کریں، اور اپنے شاگردوں کی قابلیت اور پروفیشنلزم کی شکل میں ان کا نام اور کام زندہ جاوید رہے۔

ملک عزیز میں سینیئر ڈاکٹر ٹیچنگ ہسپتالوں میں سوپروائزر بنتے ہیں کیونکہ ان کو انڈر گریجویٹ اسٹوڈنٹس کے پرچے بنانے اور چیک کرنے کے لیے فری کے مُنشی، اپنے پرائیوٹ مریضوں کا سرکاری ہسپتال میں پراٹوکول سے کام کرانے والے نوکر، اور اپنی انا و پرائیویٹ پریکٹس چمکانے کے لیے ہونے والی ”میڈیکل کانفرنسوں“ میں کام کاج کے لیے مفت مزدور درکار ہوتے ہیں۔

ہسپتالوں میں کچے پکے مریض دیکھ کر ٹرینی ڈاکٹر تجربے کر کر کے سیکھتے رہتے ہیں سوپروائزر کو نام تک معلوم نہیں ہوتے کئی جگہوں پر۔ نتیجتاً اچھے ڈاکٹر بنیں نہ بنیں، سینیئر ڈاکٹر اس بات کی یقین دہانی کر لیتے ہیں کہ جونیئر اچھے کلرک، ایونٹ پلانر و آفس بوائے ضرور بن جائیں۔ ڈیوٹی ٹائم پے ان گنہ گار آنکھوں نے ٹرینی ڈاکٹروں کو اس اسٹیج کے ”پکانے“ سیٹ کرتے دیکھا ہوا ہے جس اسٹیج پے چڑھ کے سوپروائزر نے اپنا پُھدو لیکچر کھانے کے لالچ میں آئے چند افراد کو سنانا ہوتا ہے۔

پھر میڈیکل کانفرنسز بھی ایک کمال کی چیز ہیں۔ باقی ممالک میں جہاں لوگ پیپر پڑھتے ہیں، تازہ ترین ریسرچ میں آگے بڑھ بڑھ کے اپنے اداروں کا سر فخر سے بلند کروانے کے درپے ہوتے ہیں، وہیں وطن عزیز میں کانفرنسز بالکل ویسا مقصد ادا کرتی ہیں جو پبلک لیٹرینوں میں لوگ لکھ جاتے ہیں ”فلاں تیس مار خان یہاں ٹٹی کرنے آیا تھا اور چھا گیا تھا۔“ سو کانفرنسز بھی فقط سینیئر ڈاکٹروں کا یہ کہنے کا طریقہ ہے “Professor _ was here“

فارما کمپنیوں کو بھی پتا ہوتا ہے کہ قبر کی جانب تیزی سے بڑھتے ان بُڈھے گِدھوں نے زندگی میں تقریباً تمام مزے لُوٹ لیے ہوئے ہیں۔ دوسروں پے طاقت امتحان میں بچے فیل کر کے دکھا لی، پیسا مریضوں، لیبارٹریوں اور کمپنیوں نے بہت کھلا دیا، شراب شباب کی عمر چلی گئی۔ اب کچھ رہ گیا توبس یہ کہ کُھوسٹ اپنے ہم پلہ طبقے میں ہنس کی چال چل کے معزز محسوس کر لے، اور یہی اس کی آخری ”کِک“ ہے۔

سو کمپنیاں جیبوں کے منہ کھولتی ہیں۔ اگر یہ ایک کروڑ لگاتی ہیں تو ہمارے نظام کے کرتا دھرتا یہ کامپلیکس زدہ ذہنی مریض اپنے اپنے وارڈوں سے ان کو دس کروڑ کا بزنس دیتے ہیں۔ یعنی کسی نہ کسی طرح سب بوجھ پڑتا غریب ہی کی جیب پر ہے۔

ٹیچنگ ہسپتالوں کے ڈاکٹروں کو پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت دیئے رکھنا صحت کے نظام کو ایسی تیزی سے گراوٹ کی طرف لے جا رہا ہے کہ باہر بیٹھے لوگ اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔ پھر مستزاد یہ کہ فارما کمپنیوں کا صحت کو مکمل طور پے ایک کمرشل اینٹرپرائز بنا لینا اور حکومت کی اس کٹڑ سرمایہ دارانہ ذہنیت کے تحت “منافع” کو پہلا و آخری ہدف بنا کر کمپنیوں کے کام کرنے کے عمل کو قانون سازی کے ذریعے ریگولیٹ کرنے میں مکمل ناکامی۔ یہی وہ نکتہ ابتداء ہے جہاں سے ڈاکٹروں میں موجود لالچی و مادہ پرست کالی بھیڑوں اور ہر ظالمانہ حد تک جا کر منافع کمانے کی متمنی فارما کمپنیوں کا قاتل گٹھ جوڑ وجود میں آتا ہے۔ ناقص ٹریننگ، پیشہ ورانہ مہارت و اخلاقیات کی زبوں حالی، پبلک سیکٹر میں صحت کی ناقص ترین سہولیات، سب مسائل کے تانے بانے ادھر ہی ملتے ہیں۔

متعلقہ مضامین