شہباز شریف کی کتنی جائیداد منجمد؟

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب کے حکام نے ایک تحریری حکم نامے کے ذریعے حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور ان کے بیٹوں کی جائیداد منجمند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 قومی احتساب بیورو کے حکم نامے کے مطابق شہباز شریف اور ان کا خاندان نہ تو اپنی جائیداد بیچ سکتے ہیں نہ ہی کسی کے نام کر سکتے ہیں۔

نوٹی فیکیشن کے مطابق نیب نے یہ اختیار نیب قانون کے سیکشن 12 کے تحت استعمال کیا ہے۔

تاہم مسلم لیگ ن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حکم نامے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

نیب کے مطابق شہباز شریف کے منجمد کئے جانے والے اثاثوں میں لاہور کی 96 ایچ اور 86 ایچ ماڈل ٹاؤن شامل ہے اس کے علاوہ ایبٹ آباد ڈونگہ گلی میں 9 کنال کا پلاٹ، ہری پور میں دو پراپرٹیاں، جوہر ٹاؤن میں تیرہ جائیدادیں، چنیوٹ میں دو رقبے جبکہ ڈیفنس فیز  5 لاہور میں دو پلاٹ، جوہڑ ٹاون میں 9 پلاٹ اور جوڈیشل کالونی میں 4 پلاٹس منجمد کر دیے گئے ہیں۔

نیب نے مراسلے کی کاپی ڈپٹی کمشنر، ڈی جی ایل ڈی اے اور سیکرٹری جوڈیشل ایمپلائز کواپریٹیو اور حمزہ شہباز کو بھی ارسال کردی ہے۔

متعلقہ مضامین