’مشرف ریڈ لائن ہے، پار نہ کریں‘

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف ایک بار پھر دبئی کے ہسپتال میں داخل کرا لیے گئے ہیں جبکہ ان کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے لیے خصوصی عدالت نے پانچ دسمبر کی تاریخ مقرر کر رکھی ہے۔

پرویز مشرف نے ہسپتال سے ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ سنگین غداری کے مقدمے میں ان کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کمیشن ان کے پاس آئے اور یہ بھی دیکھ لے کہ ان کی طبیعت کیسی ہے۔

ہسپتال سے جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی طبیعت بہت خراب ہے اور یہ کہ انھیں اکثر ہسپتال میں داخل کروایا جاتا رہا ہے۔

پرویز مشرف نے کہا کہ ان کے وکیل سلمان صفدر تک کو عدالت سن نہیں رہی جو ان کی نظر میں یہ بہت زیادتی ہے اور انصاف کا تقاضہ پورا نہیں کیا جا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن بیان لینے ان کے پاس آئے اور ساتھ ہی ان کی صحت کی صورتحال بھی دیکھ لے اور پھر فیصلہ کیا جائے۔

انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس کمیشن کو عدالت میں سنا جائے اور ان کے وکیل کو بھی سنا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔

’میری طبیعت خراب ہے اور شروع سے بہت خراب ہے اور میں یہاں اس ہسپتال میں آتا جاتا رہا ہوں۔‘

پرویز مشرف کا آئین شکنی اور سنگین غداری سے متعلق مقدمے پر بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’یہ کیس میری نظر میں بالکل بے بنیاد ہے۔ غداری چھوڑیں، میں نے تو اس ملک کے لیے بہت خدمات انجام دی ہیں، جنگیں لڑی ہیں اور دس برس ملک کی خدمت کی ہے۔‘

سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے 28 نومبر کو پرویز مشرف کو اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لیے پانچ دسمبر تک حتمی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بعد عدالت کوئی درخواست نہیں لے گی۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ سنہ 2013 سے زیر سماعت ہے اور جب بھی عدالت بلاتی اور تو سابق جرنیل ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔

اسلام آباد میں حکومت کی قانونی مشاورت سے منسلک بعض افراد کا کہنا ہے کہ مشرف کے مقدمے میں کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور ان کو مقتدر حلقے کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مشرف وہ ریڈ لائن ہے جس کو پار کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے سنہ 2013 میں اقتدار میں آتے ہی اس مقدمے کا آغاز کیا تھا تاہم پرویز مشرف ایک دن کے لیے بھی جیل نہ گئے جبکہ نواز شریف کو پانچ سال پورے کرنے سے قبل ہی نا اہل قرار دے کے بدعنوانی کے مقدمے میں سات سال کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

متعلقہ مضامین