حامد خان کا شوکاز نوٹس پر ’بھرپور‘ جواب

پاکستان تحریک انصاف کے بانی رکن اور سینئر وکیل ایڈووکیٹ حامد خان نے پارٹی کی جانب سے ملنے والے شوکاز نوٹس کا تحریری جواب جمع کراتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی موقع پرست، لوٹا، قبضہ مافیا، چینی مافیا اور بدعنوان مافیا مجھے زبردستی پارٹی سے نہیں نکال سکتا۔

رپورٹ: جہانزیب عباسی

حامد خان نے لکھا ہے کہ بھیجا گیا شوکاز نوٹس پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے مگر عجیب بات ہے پارٹی کے اندرونی امور کو میڈیا پر نشر کیا گیا۔ ”میں نے یہ حق رکھتا ہوں کہ میڈیا کے زریعے جواب دوں۔ مجھ پر مبہم الزام لگائے گئے۔“

حامد خان کے جواب کے مطابق الزام میں یہ نہیں بتایا گیا چیئرمین پی ٹی آئی پر کب الزام لگایا۔ ’آرمی چیف کی توسیع اور ججوں کے احتساب سے متعلق میرا موقف طاقتوروں کو گراں گزرا، یہ تاثر ملتا ہے مقتدر حلقوں کے دباؤ میں آکر میرے خلاف ایکشن لیا گیا۔‘

ایڈووکیٹ حامد خان نے اپنے جواب میں تحریک انصاف کی آرمی چیف توسیع کیس میں غفلت کا تذکرہ بھی کیا۔

’جو شوکاز نوٹس بھیجا گیا اس میں ابہام اور غلطیاں کیں۔ جس حکومت کی قانونی ٹیم آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن درست انداز میں نہیں بنا سکی، ایسے میں شوکاز نوٹس کے درست ڈرافٹ نہ ہونے کا الزام نہیں لگایا جاسکتا۔‘

ایڈووکیٹ حامد خان نے اپنا جواب پارٹی کے سیکرٹری جنرل عامر محمود کیانی کو بجھواتے ہوئے لکھا ہے کہ ’مجھے یہ جان کر افسوس ہوا آپ پر بطور وزیر صحت بدعنوانی کے سنگین الزامات کی انکوائری ہورہی ہے۔ مجھے امید ہے آپ ایسے الزامات سے کلئیر ہو جائیں گے، یہ تحریک انصاف کیلئے بھی بہتر ہے کہ پہلے خود کو کلئیر کروائیں۔‘

متعلقہ مضامین