فعال الیکشن کمیشن کے لیے اپوزیشن سپریم کورٹ میں

پاکستان میں ایک سال گزرنے کے بعد بھی الیکشن کمیشن کے دو ممبران کی تعیناتی نہ ہوسکی جبکہ چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے لیے اپوزیشن جماعتوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کے لیے ایک اور اجلاس میں بھی حکومت اور اپوزیشن کا ناموں پر اتفاق نہ ہو سکا تاہم چیف الیکشن کمشنر اور دو ممبران کی تعیناتی ایک ساتھ کرنے پراتفاق کیا گیا۔

شیریں مزاری کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے شرکت کی تاہم کمیشن کے دو اراکین کے تقرر کے لیے ہونے والا اجلاس بے نتیجہ ہی ختم ہوگیا۔

کمیٹی سربراہ اور حکومتی اراکین نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی نامزدگی ایک ساتھ کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے اور الیکشن کمیشن کو غیر فعال ہونے سے بچانے کے لیے عدالت سے رجوع بھی کیا ہے۔

اپوزیشن اراکین نے بھی تینوں عہدوں پر تقرر ایک ساتھ کرنے کے متفقہ فیصلے کو دہرایا تاہم کہا کہ جو حکومت آرمی چیف کی توسیع کا نوٹیفیکیشن درست نہ کرسکے ان سے اتنی بڑی توقع نہیں ہو سکتی۔

الیکشن کمیشن کے تینوں عہدوں کی تعیناتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹٰی کا اجلاس آئندہ ہفتے ہوگا۔

ادھر اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے گیارہ ارکان کے دستخطوں سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث واحد راستہ سپریم کورٹ ہے۔

درخواست کے مطابق الیکشن کمیشن کے باقی دو ممبران بھی جنوری میں ریٹائر ہو جائیں گے جبکہ پارلیمانی کمیٹی میں اتفاق نہ ہونے کے بعد آئین کا آرٹیکل 213 خاموش ہے۔

درخواست کے مطابق آرٹیکل 213 کی خاموشی سے آئینی بحران پیدا ہو جائے گا۔ درخواست گزار اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق چیف الیکشن کمشنر 5 دسمبر کو ریٹائر ہو جائیں گے اور الیکشن کمیشن غیر فعال ہو جائے گا جس کی وجہ سے انتخابات کا پورا سسٹم رک جائے گا۔

متعلقہ مضامین