پاکستان

پارا چنار کا معصوم مقتول

جنوری 27, 2017 < 1 min

پارا چنار کا معصوم مقتول

Reading Time: < 1 minute

درجنوں دیگر گھروں کی طرح پاراچنار کے جمیل حسین کے گھر بھی ماتم بپا ہے۔ جمیل کا گھرانہ اس کی دیہاڑی پر زندہ ہے جو وہ کراچی میں کام کرکے بھیجتا ہے۔ علاقے کے دیگر غربت زدہ افراد کی طرح جمیل حسین کے چھوٹے بچے بھی پیٹ کا دوزخ بھرنے کیلئے کام کرتے ہیں۔ جمیل کا پندرہ سالہ بیٹا سبیل حسین پاراچنار میں مرغیوں کی دکان پر کام کرتا ہے جہاں اسے سو روپے کی اجرت ملتی ہے۔ سبیل سے چھوٹا بارہ سالہ بھائی الطاف شہر کی سبزی منڈی میں اپنی ریڑھی لے کر جاتا ہے جہاں سے سبزی فروٹ دکانوں تک ڈھوتا ہے۔ گزشتہ ہفتہ کے روز کی صبح تک اس کا چھوٹا بھائی زین حیدر بھی اس کے ساتھ سبزی منڈی جاتا تھا جہاں وہ گلی سڑی سبزی اور فروٹ میں سے کارآمد اشیاء ڈھونڈ کر گھرلاتا تھا مگر اب وہ ایسا نہیں کر پائے گا، سبزی منڈی کے بم دھماکے نے معصوم زین کی جان لے لی۔ دھماکے میں پچیس افراد شہید ہوئے تھے جن میں زین حیدر سب سے کم عمر تھا۔ دھماکے سے قبل زین اپنے پلاسٹک کے لفافے میں خراب سزیاں جمع کر رہا تھا جب اس کو بڑے بھائی الطاف نے کہا وہ ریڑھی لے کر مارکیٹ سے باہر جا رہا ہے ۔ زین حیدر اپنے بھائی کی واپسی کا منتظر تھا جب دہشت گردوں نے سبزی منڈی کو دھماکے سے اڑا دیا۔ الطاف کے ساتھ بڑا بھائی سبیل بھی بم دھماکے کے بعد معصوم زین کو ڈھونڈنے سبزی منڈی پہنچا مگر ان کو زین نہ ملا صرف اس کے چپل ہی مل سکے۔

Array

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے