میری پیاری پوتی

 اواز حق / اعجاز منگی

زیڈ اے بھٹوایک ادیب بھی تھے۔ کاش! انہیں سولی پر نہ لٹکایا جاتا کاش! انہیں تا حیات قید کیا جاتا کاش! انہیں ہر شام ایک بوتل؛ ایک قلم اور بہت سارے کاغذ دیے جاتے!! کاش! وہ ایک خط اپنی پوتی کے نام بھی لکھتے کاش! اس کی انداز کچھ اس طرح ہوتا: ’’فاطی! ایک تاحیات قیدی اپنی اس خوبصورت اور ذہین پوتی سے اظہار محبت کرتے ہوئے کیا لکھ سکتا ہے؟ جو بذات خود ایک ادیب ہے۔ جو اچھے سے جانتی ہے کہ احساسات الفاظ سے عظیم ہوتے ہیں۔ جس کو معلوم ہے کہ محبت کی باتیں بند ہونٹوں سے کی جاتی ہیں۔ اور سب سے بہتر خط صرف وہ ہوتا ہے جس کا کاغذ کورا ہو۔ میری سیاہی سے دل میلا مت کرنا۔ اس خط میں وہ باتیں کم پڑھنا جو میں لکھ سکا ہوں۔ اس خط میں وہ باتیں دھیان سے پڑھنا جو میں لکھ نہیں پایا۔ تم اس بات کو بہتر سے جانتی ہو کہ پیارایک خوبصورت پاگل پن کا نام ہے۔ کیوں کہ تم جوان ہو۔ تمہیں تجربہ ہے کہ بہت سارے افراد سے بھرا ہوا ایک ائرپورٹ کس طرح ایک دم اداس ہوجاتا ہے؟کس طرح ایک لمحہ لینڈ کرتا ہے؟کس طرح ایک احساس کا ٹیک آف ہوتا ہے؟ محبت کا معاملہ آرتھر کوسلر کی کتاب ’’آمد اور روانگی‘‘ (Arrival and Departure) سے کہیں زیادہ اوپر کی بات ہے۔ دل پر نازل ہونے والے کسی مقدس صحیفے کے تقابلے میں کسی ناول کا تذکرہ کس طرح کیا جا سکتا ہے؟ مگر محبت لامحدود اور اظہار ایک حد میں مقید ہوتا ہے۔ فاطی! میرا خیال ہے کہ میں کچھ فلسفیانہ فہم میں الجھ گیا ہوں۔ مجھے یہ بات بالکل پسند نہیں کہ میں تم سے عالمانہ گفتگو کروں۔ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ تمہارا جنم اس لیے نہیں ہوا کہ میں تمہیں متاثر کروں۔ تم نے اس لیے جنم لیا کہ میں تم سے محبت کروں۔ تمہارے پتلے ہاتھوں کی نرماہٹ محسوس کروں۔ تم سے اس طرح پیار کروں جس طرح میری ماں مجھ سے کیا کرتی تھی۔ میں تمہیں بتانا چاہتا ہوں کہ تم ہو بہو اپنی دادی پر گئی ہو۔ وہی پتلی ناک۔ وہی ناراض آنکھیں۔ وہی چھوٹا قد اور وہی بلند حوصلہ۔ میرے اداس گھونسلے کی چڑیا! میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں۔ میں وہ ساری محبت تمہارے سپرد کرتا ہوں جو میں تمہارے والداور اپنے بڑے بیٹے کو نہ پایا۔ تمہارا والد میرے دادا کی طرح تھا؛ بہت ضدی اور بیحد سرکش۔ میں اس سے بہت محبت کرتا تھا۔ میں اس سے بہت گھبراتا تھا۔ میری پہلی اور آخری محبت اور تمہاری ’’جونم‘‘ ٹھیک کہا کرتی تھی ’’یہ میرا قصور تھا کہ میں اس کا نام مرتضی رکھا۔ سلیو لیس بلاؤز پہننے کے باوجود تمہاری دادی سادہ دل سندھیوں کی طرح اس مفروضے کو مانتی تھی کہ ’’نام کی نسبت انسان پر اثر اندز ہوتی ہے‘‘تم اس بات پر مسکرا سکتی ہو!!

فاطی! میری چھوٹی سی گڑیا۔ مجھے اس بات کا فخر بھی ہے کہ تم میری پوتی ہو۔ مجھے اس بات کی فکر بھی ہے کہ میں تمہارا دادا ہوں۔ تم امیدوں کا آشیانہ ہو اور میں حسرتوں کی دیار! میری پیاری پوتی! مجھے افسوس ہے کہ میں نے اس وقت بھی تمہارے ہاتھ نہیں تھامے تھے جب تم نے اپنے ننھے پیروں سے زندگی کا پہلا قدم اٹھایا۔جب تم لڑکھڑائی اور تم بہت گھبرائی۔ تمہاری زندگی کا وہ پیارا پل میں اس سیل کی سکرین پر بار بار پیٹ کرتا ہوں۔ چلو! ہم بہت ہلکی باتیں کرتے ہیں۔ میں تمہیں بتاتا ہوں ’’ال مر تضی‘‘ کے قصے اور وہ کہانیاں جو تمہاری دادی مجھے سلانے کے لیے سناتی تھی۔ مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے گھر میں اب تک وہ نیم کا درخت موجود ہے یا نہیں جس پر ہر صبح ایک اداس کویل نوحہ سناتی تھی۔ میں تمہیں ان کھیتوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو اب فلسطین کی مقبوضہ سرزمین ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ تم عربی دکھ کے احساس سے آگاہ ہو۔ میں تمہیں بتانا چاہتوں کہ ہماری قوم اور عربوں میں بہت ساری باتیں مشترکہ ہیں۔ ہم بھی عربوں کی طرح عظیم تہذیب کے کھنڈارت میں مدفون انسان کا ایک ایسا ہجوم ہیں جو انفرادی طور بہادر اور اجتماعی طور پر بزدل ہے۔ مصر کے اہراموں اور موہن جو دڑو کی شکستہ دیواروں پر ایک تہذیب کی کہانی تاریخ نے بہت اداس دل سے لکھی ہے۔

فاطی! مجھے خوشی سے زیادہ فخر ہے کہ میں تم سے اداس احساسات شےئر کرسکتا ہوں۔ مجھے تمہیں یہ بات بتانے میں ایک ملال سی مسرت محسوس ہو رہی ہے کہ میں اپنے خاندان کا ایک تنہا سا فرد ہوں۔ ٹینی سن کے اس نظم کی طرح جس میں ’’ڈالی پر بیٹھے ایک اکیلے پرندے‘‘ کا تذکرہ ہے۔ میں جب تم سے چھوٹا تھا تب اس نظم کو میں نے بار بار پڑھا۔ میری پیاری پوتی! ہر پرندے کی طرح ہر انسان اس اداس درخت جیسی دنیا پر ایک گیت گانے آتا ہے۔ تمہارے دادا نے ’’عوامی الفت کے گیت‘‘ گائے۔ ان گیتوں پر میرے مخالفین نے گندے الزام لگائے۔ مگر وہ گیت ان سب کو پسند تھے جن کے لیے میں نے گائے! مجھے اپنی تقریروں کو گیت کہنے دو۔ کیوں کہ یہ علم اور عقل سے زیادہ عشق کا معاملہ تھا۔ میری وہ بے تسلسل تقریریں؛ میرے وہ ٹوٹ پھوٹے گیت۔ ان انسانوں کے لیے تھے جو میرے ترنم کی طرح ٹوٹے پھوٹے تھے۔

میری پیاری فاطی! یہ اعتراف میں صرف تم سے کرسکتا ہوں کہ مجھ میں میکاولی اور منصور مستقل طور پر پنجہ آزمائی کرتے رہے ہیں۔ میری ذات عقل اور عشق کا میدان جنگ ہے۔ زندگی صرف ایک رومانوی داستان نہیں۔ حیات کے تقاضے بہت تلخ ہیں۔ میری بچی زندگی صرف سانس لینے کا سوال نہیں۔ وقت ایک کاکروچ کی طرح یاداشت کی رنگین تصاویر کو کترتا رہتا ہے۔ ایک عاشق کو ایک عیار بننا پڑتا ہے۔ ہاں! تو میں تمہیں بتا رہا تھا لاڑکانہ میں تمہارے گھر اور تمہاری کھیتوں کی باتیں۔ ان تازہ زیتونوں کی خوشبوجو تھوڑے کچے ہوتے تھے۔ اس کسان کی بیٹی کی مسکراہٹ کے مانند جس کا رنگ دھوپ کی وجہ سے سانولا ہوگیا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ تم ان احساسات کو کن حالات میں پڑھ رہی ہو؟ میں نہیں جانتا کہ تم کہاں ہو؟ چند دن قبل مجھے یہ معلوم ہوا کہ تم میرے ہم نام پوتے کے ہمراہ تھیں۔ میری جان! مجھے معلوم کہ تمہارے بھائی کی زندگی بھی تمہاری طرح کھوئے ہوئے والد کی جستو ہے۔ کاش! میرے لیے یہ ممکن ہوتا کہ میں تم دونوں کو وہ لوری سناتا جو تمہاری دادی میرے لیے گاتی تھی۔ کیا ہوا اگرچہ میری آواز اس قدر میٹھی نہیں۔ میری فاطی! میری پیاری فاطی! زخم بہت ضروری ہیں۔ زخم روح کی شاخ پر مہکتے ہوئے پھول ہوتے ہیں۔ زندگی صرف ایک قہقہ نہیں۔ زندگی ایک خاموش آنسو بھی ہے۔غم اور خوشی وہ دو پر ہے جن کے سہارے پرندہ حیات دیر تک اڑ سکتا ہے اور دور تک جا سکتا ہے۔ زندگی کیا ہے؟اس سوال کا کوئی بھی جواب غلط ہو سکتا۔ دراصل زندگی اس قدر کشادہ ہے کہ اس میں سارے جواب سما جاتے ہیں۔ مگر وہ جواب میرے احساسات سے زیادہ قریب ہے۔جو جواب اس شاعر نے رقم کیا تھا جو شاہ لطیف کے بعد میری مادری زباں کا سب سے بڑا شاعر ہے۔ میں تمہارا تعارف شیخ ایاز سے کرانا چاہتا ہوں۔ تمہیں اس کی وہ نظم سنانا چاہتا ہوں جو اس نے بھرپور جوانی میں لکھی تھی۔ وہ نظم ہے: ’’میری روح کی راگنی سن رہے ہو شکستہ سی لۂ ہے شکستہ سی باتیں پرانی سی مۂ ہے پرانے سے شیشے جنہیں میں چرا لایا ہوں ساقیان ازل سے بصد رنج ناصح بصد زعم زاہد پلاتا رہا ہوں نئے مۂ کشوں کو جو روح ابد میں تراشے گئے تھے وہ اصنام لایا ہوں لیکن کہیں وہ جبینیں نہیں ہیں کہیں امتیاز پرتش نہیں ہے حیات بشر ایک خواب پریشاں جو صدہا نہنگوں سے پہلو بہ پہلو چلی آ رہی ہے حیات بشر نالہ نارسا ہے حیات بشر نغمہ غم فزا ہے حیات بشر آخر میرے دوست کیا ہے؟‘‘ زندگی ایک لاجواب سوال ہے میری بیٹی۔ غالب بہت بڑا شاعر تھا مگر زندگی صرف وہ دراز نہیں جس میں چند تصویر بتاں اور چند حسینوں کے خطوط ہوتے ہیں۔ فانی بھی کم درجے کا شاعر نہ تھا مگر مجھے اس کا یہ شعور بالکل بھی پسند نہیں ہے کہ:

’’زندگی نام ہے مر مر کے جیے جانے کا‘‘

میں اقبال کے عظمت سے انکار نہیں کرتا۔ مگر زندگی صرف کھوئے ہوؤں کی جستجو تو نہیں!! زندگی زخمی پیروں کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔ وہ جوش اور ولولہ جو انقلابی شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ مجھے اچھا لگتا ہے۔ اپنے تمام تر ابہام کے ساتھ! مگر دیکھو ایاز کے نظم میں جسم اور روح کا ایک ایسا رقص ہے جو انگریزی فلم Last Tango in Paris کی یاد دلاتا ہے۔ زندگی ایک جستجو ہے۔ ایک بے قرار آرزو ہے۔ ایک رقص مستانہ اور ایک نعرہ دیوانہ ہے۔ تم سوچ سکتی ہو کہ عمر اور قید نے مجھے رومانوی تصورات میں پناہ لینے پر مجبور کردیا ہے۔ ممکن ہے کہ ایسا ہو۔ مگر فاطی میں آزاد جوانی میں بھی یہ سمجھتا تھا کہ زندگی ایک جہد مسلسل ہے۔ ہندو دیومالا میرے مزاج کے لیے کبھی پرکشش نہیں رہی مگر مجھے کرشن کی یہ بات بہت بھاتی ہے کہ ’’زندگی جنگ مسلسل ہے‘‘ یہ بات سیاست سے بڑی ہے۔ یہ زندگی کی بات ہے۔ جنگ زندگی نہیں۔ زندگی کا زخم ہے۔ زخم صرف جسم کے نہیں ہوتے۔ ذہن اور دل کے زخم زیادہ تکلیف دیتے ہیں۔ میں اردو ادب کا اچھا طالب علم نہیں ہو۔ مگر مجھے غالب سدا سے پسند ہے۔ میں تمہارے لیے اس کا شعر گنگناتا ہوں:

’’رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل

جب آنکھ سے ہی نہ ٹپکے تو پھر لہو کیا ہے؟‘‘

آنسو دل کے زخموں کا لہو ہیں!!

فاطی! میرے قریب آؤ اپنا موہوم سا پتلا ہاتھ میرے ہاتھوں میں دو اور محسوس کرو میرے غمگین لہو کی گردش!! اپنے بوڑھے دادا کا غصہ جو غم سے مسلسل نبرد آزما ہے۔ میرے اور تمہارے قریب جو کچھ ہو رہاہے۔ وہ بہت برا ہے۔ شام میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ وہ ملک جو تمہارے بچپن کی آغوش تھا۔ وہ ملک جو میرے بیٹے اور تمہارے والد کے انقلابی جن کا مورچہ تھا۔ وہ ملک صرف حافظ الاسد کا نہیں ۔ وہ ملک اس شاعر کا بھی ہے جس نام نذار قابانی ہے۔ وہ نذار قابانی جس نے لکھاتھا:

’’جب ایک خوبصورت عورت مرجاتی ہے

دھرتی اپنے محور سے کھسک جاتی ہے

چاند ایک سو برس کے لیے سوگ کا علان کرتا ہے

اور شاعری بے روزگار ہوجاتی ہے‘‘

نذار قابانی کی یہ نظم مجھے دو بار بہت یاد آئی ایک بار جب تیری پوڦي کا خون کیا گیا اور دوسری مرتبہ جب تیری دادی زندگی کے قید سے آزاد ہوئی!! وقت لمحوں کے اداس جھیل ہے ایک ایک پل کے قطروں سے جنم لینے والی ایک اداس جھیل!! تم کیسی ہو؟ تمہارے حالات کیسے ہیں؟ مجھے معلوم نہیں مگر میں اندازہ لگا سکتا ہوں! (جاری)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button