شکیل آفریدی کی ممکنہ رہائی

ٹھوس معلومات تک رسائی کے حق سے قطعاََ محروم مجھ ایسے صحافیوں کو بہت سارے اہم معاملات کے حل کے لئے لگائی گیم کوسمجھنے کے لئے تخیل کا سہارا لینا ہوتا ہے۔ذہن میں جمع ہوتا بوجھ اس ضمن میں بہت بھاری اس لئے بھی محسوس ہوتا ہے کہ کیونکہ ہماری ریاست کے دائمی اداروں میں موجود کسی بااختیار شخص نے مجھے Whatsappگروپ کے ذریعے ”خبریں“ دینے کے قابل نہیں سمجھا۔
جبلی بنیادوں پر کاہل اور عمر بڑھنے کے ساتھ سست ہوتے اعضاءوجوارح کے باوجود میں ”خبر“ کے حوالے سے اپنا ”شکار“ خود ڈھونڈنے پر مجبور ہوں۔ Whatsappوالی خیرات کا عادی نہیں بن پایا۔
اگرچہ اس خیرات کو سعادت مندی سے قبول کرنا آپ کو ”محب وطن“ بنانے میں بہت آسانیاں فراہم کرتا ہے۔ ان علاقوں تک پہنچنے کی راہ بھی بنادیتا ہے جہاں ازخود جانا خطرے سے خالی نہیں۔ مثال کے طورپر پارا چنار جو قبائلی علاقہ ہے۔ پاکستان ہی کا حصہ ہے مگر آپ گاڑی میں بیٹھ کر ترنت وہاں نہیں پہنچ سکتے۔ وہاں تک پہنچنے کے لئے ویزے کی نہیں”سکیورٹی کلیئرنس“ کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسی کلیئرنس بسااوقات اس شخض کو بھی نصیب نہیں ہوتی جس پر جمہوری کہلاتے پاکستان کے ”چیف ایگزیکٹو“ ہونے کا الزام ہے۔
بہرحال، اس سال کے آغاز میں جب ڈونلڈٹرمپ نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھال لیا تو میرے وسوسوں بھرے ذہن نے اکثر یہ سوچنا شروع کردیا کہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد کے ایک مکان میں موجودگی کی پولیو کے خلاف مہم کے ایک رضا کار کا روپ دھار کر تصدیق کرنے والے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا بندوبست کیسے ہوگا۔ ریاستِ پاکستان کے دائمی اداروں کے چند کرتا دھرتا افراد سے اس ضمن میں جان کی امان پاتے ہوئے رجوع کیا تو رعونت بھرے جوابات ملے۔بشریٰ انصاری کی متعارف کروائی ”بزتی جئی“ ہوگئی۔
نواز شریف کی تیسری حکومت کا آخری بجٹ پیش کرنے سے چند دن قبل اسحاق ڈار صاحب واشنگٹن تشریف لے گئے تھے۔ مقصد ان کے اس دورے کا ورلڈ بینک کے افسران سے ملاقاتیں تھیں۔ ورلڈ بینک مگر صرف معاشی بنیادوں پر ہی فیصلے نہیں کرتا۔ امریکہ کے ”قومی مفادات“ کو بھی ذہن میں رکھتا ہے۔ اسی باعث اپنے قیامِ واشنگٹن کے دوران ڈار صاحب کو امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی -جنرل میک ماسٹر- سے بھی ایک ملاقات کرنا پڑی۔ اس ملاقات کو ”سکیورٹی کلیئرڈ“ رکھنے کی خاطر ہمارے وزیر خزانہ واشنگٹن کے پاکستانی سفارت خانے میں موجود ہمارے دفاعی مشیر کو بھی اپنے ہمراہ لے گئے تھے۔
جنرل میک ماسٹر سے ملاقات کے بعد ڈار صاحب نے جب پاکستانی صحافیوں کے ایک گروپ سے ملاقات کی تو وہاں موجودایک صحافی نے اس بات کی تصدیق چاہی کہ کیا مذکورہ ملاقات میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا سوال بھی زیر بحث آیا تھا۔ڈار صاحب نے جواب ہاں میں دیا مگر ”معاملے کی نزاکت“ کو ذہن میں رکھتے ہوئے تفصیلات بتانے سے اجتنا ب برتا۔ان کے اجتناب نے میرے تخیل کو مہمیز لگادی۔کان کھڑے ہوگئے۔ میں انتہائی عاجزی سے شکیل آفریدی کی ممکنہ رہائی کا انتظار کرنا شروع ہوگیا۔
IMFنے لیکن جو نواز شریف کی تیسری حکومت کی معاشی پالیسیوں کے بارے میں تواتر کے ساتھ ”سب اچھا“ والی رپورٹیں دے رہا تھا،عید سے چند ہی روز قبل جو تازہ رپورٹ جاری کی وہ کافی پریشان کن تھی۔ ہم اس پر کماحقہ توجہ نہیں دے پائے۔ معاشی معاملات کے حوالے سے قطعاََ جاہل مجھ ایسے صحافی کو البتہ یہ پیغام ضرور مل گیا کہ ہماری ”حمیت“ آفریدی کی رہائی پر تیار نہیں ہورہی۔ اب تو ریمنڈ ڈیوس کی کتاب بھی منظرِ عام پر آگئی ہے۔
یہ کتاب پاکستان میں موجود کتابوں کی دوکانوں پر میسر ہے یا نہیں، اس کے بارے میں مجھے علم نہیں۔ اس کے تمام صفحات مگر بہت سارے کرم فرماﺅںکی بدولت Whatsappکے ذریعے مجھ تک پہنچ گئے ہیں۔ مجھے ادب کے علاوہ امریکہ میں ہماری ”قومی سلامتی“ کے بار ے میں چھپی کتابیں پڑھنے کا بھی بہت شوق ہے۔ اس حوالے سے کوئی کتاب چھپے تو اپنے بجٹ میں اسے خریدنے کی گنجائش نکالنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ریمنڈ کی "Contractor”البتہ گھر بیٹھے ہی Whatsappکی بدولت پڑھنے کو مل گئی۔
اس کتاب میں لکھا کوئی ایک واقعہ بھی میرے لئے ”نیا“ نہیں تھا ۔ ہمارے ریگولر اور سوشل میڈیا میں تاہم اس کتاب کا چرچا بہت ہے۔ ریمنڈ کی رہائی میں آسانیاں پیدا کرنے کا اصلی ذمے دار آئی ایس آئی کے ایک سابق سربراہ جنرل پاشا کو ٹھہرادیا گیا ہے۔ میری ان جنرل صاحب سے صرف ایک ملاقات ہوئی تھی۔ اس ملاقات میں ہمارے دو بہت ہی سینئر صحافی بھی موجود تھے۔ اس ملاقات کا بندوبست سابق صدر آصف علی زرداری نے کیا تھا۔
ہوا یوں تھا کہ 2011کی مئی میں ایک بہت ہی محنتی صحافی سلیم شہزاد ایک ٹی وی پروگرام میں حصہ لینے کے لئے اپنے گھر سے نکلا تو ”غائب“ ہوگیا۔ چند روز بعد اس کی لاش منڈی بہاﺅالدین کو پانی لے جانے والی نہر میں دریافت ہوئی۔ پریشان ہوئے صحافیوں نے پارلیمان کے سامنے دھرنا دے دیا۔ ہمارا مطالبہ تھا کہ افتخار چودھری کا سپریم کورٹ ایک کمیشن کے ذریعے سلیم شہزاد کی پُراسرار گم شدگی اور ہلاکت کی تحقیقات کرتے ہوئے حقائق کا پتہ کرے۔
”ارسلان کے ابو“ اپنے سوموٹو اختیارات کو اس ملک میں انصاف کی فراہمی کو آسان اور یقینی بنانے کے لئے عادتاََ استعمال کیا کرتے تھے۔ سلیم شہزاد کے معاملے پر لیکن ہم پریشان ہوئے صحافیوں کے دھرنے کے باوجود بھی وہ کوئی توجہ نہیں دے پائے۔ آصف علی زرداری کو رحم آگیا۔ انہوں نے فون پر مجھے سمجھایا کہ اگر جنرل پاشا کو ایسے کمیشن کے قیام پر رضا مند کرلیا جائے تو کچھ پیش رفت ہوسکتی ہے۔
جنرل پاشا تک میری رسائی نہیں تھی۔ انہوں نے ملاقات کروانے میں مدد دینے کا وعدہ کیا۔ میری شرط مگر یہ بھی تھی کہ اگر جنرل صاحب اس ملاقات پر آمادہ ہوگئے تو اکیلے نہیں جاﺅں گا۔ کم از کم دو سینئر ساتھی بھی میرے ہمراہ ہوں گے۔
بالآخر وہ ملاقات ہوگئی۔ وہاں بہت عاجزی سے جنرل صاحب کو مجوزہ کمیشن پر رضا مند کرنے کے لئے داد وفریاد کا کردار اس فدوی نے اپنے ذمے لیا۔بہت طیش میں ہم صحافیوں کو ہماری ”اوقات“ یاد دلانے کے بعد وہ مائل بہ کرم ہوگئے۔ جلال کے بھرپور اظہار کے بعد کرم فرمائی کی رو میں انہوں نے ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے بارے میں بھی بہت کچھ بتایا۔ چونکہ وہ ملاقات”آف دی ریکارڈ“ تھی، اس لئے میں صحافیانہ اخلاقیات سے مجبور ان باتوں کو دہرا نہیں سکتا۔ اس بات کا اثبات مگر ضروری ہے کہ جنرل پاشا نے یقینا ریمنڈ کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
ایسا کرتے ہوئے اگرچہ وہ آصف علی زرداری یا یوسف رضا گیلانی کے احکامات کی تعمیل نہیں بلکہ اپنے چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی "Guidance Seek”کررہے تھے۔
میری بات کو سمجھنا ہو تو لیپ ٹاپ کھولیے۔ Googleپر جائیے۔ امریکی ایڈمرل مولن کی جنرل کیانی سے ملاقاتوں کی تاریخیں ماہ وسال سمیتSearchکرکے جمع کرلیں۔ آپ بآسانی دریافت کرلیں گے کہ ان دونوں کے درمیان ایک ملاقات ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور رہائی کے درمیانی دنوں میں ایک بحری جہاز پر بھی ہوئی تھی۔
ہم ”دو ٹکے کے صحافی“ اور ”دونمبری سیاست دان“ حاضرسروس افسران کے روبرو بہت ”فدویانہ“ رویہ اختیار کئے رکھتے ہیں۔ عاجزی اور غلامی کا ڈھونگ رچاتے ہوئے بھی لیکن اپنی جیبوں میں ان کے خلاف پتھر جمع کئے جاتے ہیں۔ریمنڈ ڈیوس کی کتاب منظرِ عام پر آجانے کے بعد جنرل پاشا کے خلاف جمع ہوئے تمام پتھر اب جیبوں سے باہر آگئے ہیں۔ آج بہت دراز ہوئی کئی زبانیں یقینا ان دنوں جنرل پاشا کے جوتوں سے مٹی ہٹاتی ہوں گی جب وہ ISIکے چیف تھے۔ میں نے اپنی زبان کو چونکہ ان دنوں بھی مٹی ہٹانے کے لئے استعمال نہیں کیا تھا اس لئے اسے اب جنرل پاشا کے خلاف دراز کرنے کی جرا¿ت سے بھی محروم ہوں۔
بات بہت سادی ہے۔ امریکی صدر اوبامہ نے جب برسرِ عام اعلان کردیا کہ ”ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثناءحاصل ہے“ تو Coalition Support Fundکی محتاج ریاستِ پاکستان کے پاس اسے رہا کرنے کے علاوہ کوئی راستہ ہی باقی نہیں بچا تھا۔اس رہائی کے لئے عملی طورپر جو کچھ ہوا وہ سب فروعات ہیں۔ لڑائی کے بعد یاد آیا گھونسہ جواب جنرل پاشا کی جانب اچھالا جارہا ہے۔ مجھے خدا کے لئے اب ریمنڈ کے بجائے شکیل آفریدی کی ممکنہ رہائی کے بارے میں کوئی ٹھوس خبر عنایت فرمائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button