کچھ نیا کرنے کے لئے

بہت سوچ بچار کے بعد امریکہ نے افغانستان میں 16برس سے جاری جنگ میں کچھ نیا کرنے کے لئے جو پالیسی بنائی ہے اس کا اعلان صدر ٹرمپ نے اگست 2017کے اواخر میں ایک فوجی تقریب کے دوران کیا تھا۔ موصوف کی تقریر مگر افغانستان سے زیادہ پاکستان پر مرتکز رہی۔ ہمارے بارے اس کا لہجہ جارحانہ ہی نہیں ہتک آمیز بھی تھا۔ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے باہم مل کر جوابی بڑھک بازی کے بجائے قومی سلامتی کمیٹی کے طویل اجلاس کے بعد ایک نپاتلا بیان دیا۔ Do Moreکے جواب میں No Moreکہا اور اس بات کو یقینی بنانے کےلئے فیصلہ یہ بھی ہوا کہ پاکستان آئے کسی امریکی وزیر یا افسر سے صرف اس کا ہم منصب ہی ملا کرے گا۔

سیف الملوک والے میاں محمد بخش نے مگر ”لسے دا کی زور؟“والی ترکیب ایجاد کر رکھی ہے۔ اسی باعث امریکی وزیر دفاع 21 رکنی وفد کے ساتھ پیر کے روز صرف ایک روزہ دورے کے لئے پاکستان آیا تو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزرائے داخلہ اور وزیر دفاع کو اپنے ساتھ بٹھاکر اس سے مذاکرات کئے۔ ڈی جی آئی ایس آئی اور قومی سلامتی کے مشیر بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔ آرمی چیف کی اس اجلاس میں عدم موجودگی نے البتہ مجھے حیران کیا۔ جنرل میٹس سے قبل جب امریکی وزیر خارجہ 5 گھنٹوں کے لئے اسلام آباد آیا تھا تو سیاسی و عسکری قیادت نے ایک میز پر بیٹھے ہوئے اس سے وزیر اعظم ہاﺅس میں صرف ایک ملاقات کی تھی۔ آرمی چیف بھی وہاں موجود تھے۔ بعدازاں خبریں یہ بھی آئیں کہ مذکورہ ملاقات کے بعد ریکس ٹیلرسن اور جنرل باجوہ کے درمیان وزیر اعظم ہاﺅس ہی میں اکیلے میں گپ شپ بھی ہوئی تھی۔ چند امریکی اخبار نویس یہ دعویٰ کرتے پائے گئے کہ ان کے ”ذرائع“ کا بتانا ہے کہ ٹیلرسن نے جنرل باجوہ کو کونے میں لے جاکر پیغام دیا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل چاہتی ہے۔ فوجی حکومت یا راولپنڈی کی سرپرستی میں بنائی ٹیکنوکریٹ یا قومی حکومت کے ساتھ معاملات چلانا اس کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ ”ذرائع“سے مالا مال ہمارے چند صحافیوں نے کہانی کچھ اور بتائی میں نے حقائق جاننے کے لئے تحقیق کی زحمت نہیں اٹھائی۔ کل وقتی رپورٹنگ سے عرصہ ہوا ریٹائر ہو چکا ہوں۔ اس ملک کے سنوارنے کے لئے غیب سے مضامین نہیں خیالات ذہن میں آئے چلے جاتے ہیں۔ انہیں اس کالم کے ذریعے بیان کر دیتا ہوں۔ رزق حلال ہوجاتا ہے اور ”ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا؟“ والی بے بسی بھی چھپی رہتی ہے۔
جنرل باجوہ کی وزیراعظم ہاﺅس میں پیر کے روز ہوئے اجلاس میں عدم موجودگی نے مجھے خوش گوار حیرت میں مبتلا کیا۔ تھوڑی دیر کو میں نے سوچا کہ شاید ہمارے آرمی چیف نے اپنی عدم موجودگی سے کوئی پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ یہ فرض کرتے ہوئے دل ہی دل میں بہت خوش ہوا۔ اپنے گماں کو یقین میں بدلنے کے لئے Confirmation مگر درکار تھی۔ چند لوگوں سے فون کے ذریعے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ جنرل میٹس کویت روانہ ہونے سے قبل اپنے 21 رکنی وفد کے ساتھ GHQ میں جنرل باجوہ سے بھی ملاقات کرے گا۔ اس ملاقات کو تقریباََ دو گھنٹے جاری رہنا تھا۔ اس ملاقات میں جو باتیں ہوئیں میں ان کے بارے میں قطعاََ بے خبر ہوں۔ امریکی وزیر دفاع کے ہمراہ سفر کرنے والے اس کے ایک مصاحب نے البتہ کویت کی جانب پرواز کرتے جہاز میں موجود صحافیوں کو بتایا ہے کہ جنرل میٹس GHQ میں ہوئی ملاقات کے بعد بہت "Confident” اور "Optimistic” نظر آ رہا تھا۔ ”پُراعتماد اور پراُمید“ شاید اس کے استعمال کردہ الفاظ کا مناسب ترجمہ ہوں۔ اس مصاحب نے امریکی وزیر دفاع کے ساتھ پاکستان آئے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ جنرل میٹس پاکستان کے جرنلوں کو "Too Much Respect”دیتا ہے۔ GHQ میں ہوئی ملاقات میں اسی باعث "Straight Forward”باتیں ہوئیں۔
بہت کم لوگوں کو شاید یہ حقیقت یاد رہی ہو کہ نائن الیون کے بعد افغانستان پر جو جنگ مسلط ہوئی اس کے لئے کابل سے کہیں زیادہ اہم قندھار فتح کرنا تھا۔ افغانستان کے جنوب میں واقع یہ شہر افغان قوم پرستی کا حقیقی مرکز ہے۔ احمد شاہ ابدالی نے اسی شہر سے شروع ہو کر کابل کو مرکز بناتے ہوئے افغانستان کو 1747 میں ایک قومی ریاست کی صورت دی تھی۔ اس سے قبل یہ خطہ وسیع تر خراسان کا ایک حصہ ہوا کرتا تھا۔ ایران اور دہلی میں بیٹھے سلطان اس کے مختلف حصوں پر قابض رہتے تھے۔ کابل اگرچہ بابر کا پسندیدہ شہر رہا۔ مرنے کے بعد دفن بھی وہیں ہوا۔ 1990 کی دہائی میں تحریکِ طالبان بھی قندھار ہی سے اُٹھی تھی۔ اس کا امیر ملاعمر کابل فتح کرلینے کے بعد بھی قندھار ہی میں ٹکے رہنے کو ترجیح دیتا رہا۔ ایران کے امام خمینی کی طرح جو تہران کے بجائے قم سے انقلاب کی رہ نمائی کو ترجیح دیتا رہا۔ نائن الیون کے بعد قندھار کو فتح کرنے کے لئے امریکی فوج کے جو دستے بھیجے گئے تھے اس کی کمان جنرل Mattis کے پاس تھی۔ وہ سمندری راستے سے ہمارے بلوچستان کے شہر پسنی کی بندرگاہ میں نمودار ہوا اور بعدازاں ہمارے تعاون سے قندھار تک پہنچنے میں کامیاب ہوا۔ ذاتی طورپر لہذا اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا کہ افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے کے لئے امریکہ کو پاکستان کا تعاون ہر صورت درکار ہے۔اس تعاون کو یقینی بنانے کے لئے اسے Straight Forward باتیں بھی ہماری عسکری قیادت سے Too Much Respect کے ساتھ ہی کرنا تھیں۔ GHQ میں ہوئی ملاقات کے بعد وہ ”پراعتماد اور پرامید“ کیوں نظر آیا؟ اس سوال کا جواب میرے پاس موجود نہیں۔ انتظار کرنا ضروری ہے۔ دیکھتے ہیں پاکستانی اور امریکی صحافیوں کو ان کے ”ذرائع“ کیا بتاتے ہیں۔ مجھ ایسے ریٹائرڈ رپورٹر کے پاس کوئی ”ذرائع“ نہیں۔ چند ٹھوس حقائق کی بنیاد پر ذہن میں آتے کچھ خدشات ہیں۔ ان کا ذکر کسی اور دن کے لئے چھوڑ دینا مناسب ہوگا۔

بشکریہ نوائے وقت

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے