غائبستان کی سپریم کورٹ

اے وحید مراد
ایک ماہ بعد مقدمے کی سماعت ہوتی ہے، سینکڑوں لاپتہ میں سے چھ کے کیس سننے کی باری ہوتی ہے۔ بہت سے لاپتہ افراد کے لواحقین ویسے ہی کسی امید میں عدالت پہنچ جاتے ہیں۔
آمنہ مسعود جنجوعہ کے ساتھ چار خواتین جن میں تین عمر رسیدہ مائیں تھیں جبکہ کچھ بوڑھے شہری صبح نو بجے سپریم کورٹ پہنچے۔ جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بنچ کے سامنے بیٹھے رہے اور دن ڈیڑھ بجے مقدمے کی باری اس وقت آئی جب دیگر تمام کیس سن لیے گئے۔ لاپتہ افراد مقدمے کے آغاز میں ایک بزرگ نے عدالت کو بتایاکہ میرے داماد تاسف ملک سے عدالتی حکم کے مطابق ملاقات نہیں کرائی گئی صرف چند منٹ کیلئے دکھایا گیا، آج عدالت نے میری درخواست کو سماعت کیلئے مقرر نہیں کیا، ایسا کیوں ہوا؟۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آئندہ سماعت پر مقرر کردی جائے گی، آپ تشریف رکھیں، ہم نے واضح کیاہے کہ حراستی مراکز میں موجود ہر شخص کے بارے میں معلوم کریں گے، پوچھا ہے کہ الزام سامنے لایا جائے اور عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔
لاپتہ مدثر اقبال کے بارے میں عدالت کو لاپتہ افراد کمیشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ ایجنسیوں سے چھ ہفتے میں رپورٹ مانگی اور لاپتہ کو پیش کرنے کیلئے کہا ہے۔ آمنہ مسعود نے عدالت کو بتایا کہ مدثر اقبال کی والدہ کو کمیشن نے پیش ہونے کیلئے نوٹس جاری کیاہے وہ معذور ہیں، عدالت ہدایت کرے کہ ان کی جگہ میں پیش ہوں۔ سیکرٹری کمیشن نے مخالفت کرتے ہوئے کہ وہاں ہرکسی کو آنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ تاہم سپریم کورٹ نے ہدایت جاری کی کہ آمنہ مسعود لاپتہ مدثر اقبال کی جانب سے کمیشن کے سامنے پیش ہوں گی۔
لاپتہ نویدالرحمان کے بارے میں کمیشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ اس کو پیش کرنے کے حکم کے اجراء کے بعد جب نہ لایا گیا تو کمیشن نے وزارات داخلہ کو ہدایت کی کہ جن افراد نے اس کے گھرپر چھاپہ مار کر حراست میں لیا تھا ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت کے پوچھنے پر بتایا گیاکہ ابھی تک معلوم نہیں کہ کارروائی ہوئی یا نہیں۔ کمیشن کے سیکرٹری نے بتایاکہ اس دوران نویدالرحمان کے اہل خانہ کی جانب سے ایک اور درخواست آئی کہ معاملے کو دوبارہ کھولا جائے اور ہمیں معاوضہ ادا کیا جائے۔ عدالت کے پوچھنے پر ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس نے بتایا کہ کمیشن نے وفاقی حکومت کو اس پر نوٹس جاری کیاہے ، ابھی تک جواب نہیں آیا، دیکھ رہے ہیں کہ کیا یہ ہماری پالیسی کے مطابق ہے یانہیں۔ عدالت نے ڈپٹی اٹارنی کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے میں واضح جواب دیا جائے۔
اس کے بعد آمنہ مسعود جنجوعہ کے شوہر کے مقدمے کی باری آئی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں سربمہر لفافے میں وزارت دفاع کی جانب سے میمورنڈم پیش کیا، بتایا گیا کہ یہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کا جواب ہے، اس کو سامنے نہ لایاجائے۔ آمنہ مسعود نے کہاکہ یہ رپورٹ مجھے بھی دی جائے، کیا پڑھ کر جواب دینے کی اجازت دی جائے گی؟۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ ہم ایسے نہیں ہٹیں گے، جو کچھ بھی کرسکے کریں گے، رپورٹ میں سے بین السطور پڑھتے ہیں۔ڈپٹی اٹارنی نے کہاکہ یہ رپورٹ مسعود جنجوعہ اور ان کے ساتھ لاپتہ ہونے والے فیصل فراز کے بارے میں ہے۔اسی دوران لاپتہ فیصل فراز کی والدہ عدالت میں بولیں کہ اس رپورٹ میں کیا ہے بتائیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ بی بی، انہوں نے رپورٹ فائل کی ہے۔ ماں پھر بولی کہ یہ ہزار دفعہ رپورٹ دے چکے ہیں، بارہ سال سے ایسا کررہے ہیں، وقت گزاری کیلئے ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ساجد الیاس نے کہا کہ یہ لوگ اس لیول پر یہ کر رہے ہیں۔ ماں بولی کہ لیول کیاہے بیٹا، مجھے بتائیں ذرا۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ ایسا نہیں ہے۔
لاپتہ عبدالرحمان کے مقدمے میں عدالت کو بتایا گیا کہ یہ دوہزار گیارہ میں غائب ہوا تھا، گزشتہ سال کمیشن سے رجوع کیاگیا، اس کے خلاف فیصل آباد میں مقدمہ درج ہے، جے آئی ٹی بھی بن چکی ہے۔
عدالت کو لاپتہ کے لواحقین نے بتایاکہ کمیشن پر اعتماد نہیں، سپریم کورٹ خود ہی مقدمات سنے ۔جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ ہم واقعاتی شواہد کو دیکھتے ہیں، وفاقی حکومت کے جواب کے بعد ہم اندھیرے میں بھٹک جاتے ہیں اس لیے کمیشن کو مقدمات بھیجتے ہیں، اس کے بعد کسی کو کمیشن پر اعتماد نہیں تو عدالت کے دروازے بند نہیں کرتے، اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کیلئے موجود ہیں، یہاں آجائیں۔لاپتہ افراد کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل انعام الرحیم نے کہاکہ کمیشن ناکام ہو چکا ہے۔ ڈپٹی اٹارنی نے کہاکہ ایسی بات نہیں، کمیشن کام کررہاہے۔آمنہ مسعود نے کہاکہ کمیشن کو سات سال ہوگئے، رپورٹ کو تالے لگا کر رکھتے ہیں، چند سو مقدمات تھے اب پانچ ہزار سے بڑھ گئے ہیں، کیا یہ ایک کاروبار ہے؟۔ یہ ایجنسیوں پر ہے کہ وہ جب جس کو چاہتے ہیں رہاکردیتے ہیں،کمیشن کا کوئی کردار نہیں، یہ ویسے ہی کریڈٹ لیتے ہیں۔ کمیشن تو پوسٹ آفس ہے۔عدالت ان والدین کو دیکھے جو مررہے ہیں، لوگو ں کو ملک کی سب سے بڑی عدالت سے توقعات ہیں، آج یہاں مہمند ایجنسی سے والدین آئے ہوئے ہیں۔
جسٹس اعجاز افضل نے کہاکہ ہمیں معلوم ہے کہ کیا ہوا ہے، مالاکنڈ میں شورش ہوئی، وہاں سے کچھ لوگ افغانستان چلے گئے، وہاں ان کے ساتھ کیا ہوا، یہ بھی ایک معاملہ ہے۔ دوہزار پانچ سے اب تک جو ہو رہا ہے۔ عدالت اور کمیشن سمیت کوئی بھی پورے یقین سے کسی لاپتہ فرد کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، اگر ہم ایسا کوئی حکم جاری کردیتے ہیں تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ اس کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔ عدالت کے سامنے مکمل اور درست معلومات نہیں ہوتیں، ایسی صورت میں کوئی موثر حکم جاری نہیں کرسکتے۔ عدالت اسی لیے ہے کہ ریاست کے ہر شہری کا تحفظ کرے۔
وکیل انعام الرحیم نے کہا کہ عدالت ان سے حراستی مراکز میں قید لوگوں کی فہرست تو طلب کرلے، کتنے لوگ ہیں، ان پر کیا الزامات ہیں؟۔ سپریم کورٹ نے دوہزار چودہ میں 35 افراد کے بارے میں حکم جاری کیا تھا، ان کو حراستی مراکز سے ہی غائب کر دیا گیا مگر عدالت نے اپنے حکم پر عمل نہ کرایا۔ ( اس بات پر جج تلملا کر رہ گئے)۔
لاپتہ گل محیط خان کے بارے میں کمیشن کے سیکرٹری نے بتایا کہ پیش کرنے کیلئے حکم جاری کیا تھا، آئی ایس آئی اور ایم آئی سے رپورٹ بھی مانگی ہے۔
اسی دوران ایک شخص عدالت میں کھڑا ہوا اور کہاکہ میرا نام سردار محمد صدیق ہے اور میرے بیٹے ڈاکٹر سہیل کو انیس دسمبر دوہزار سترہ کو اسلام آباد سے تحویل میں لیا گیا ہے، پولیس ہمارا مقدمہ درج نہیں کررہی ، کہاجا رہا ہے کہ ایجنسیوں نے اٹھایا ہے اس لیے مقدمہ درج نہیں کرسکتے، میری اہلیہ دل کی مریضہ ہے۔ جسٹس اعجازافضل نے کہاکہ ہمارے سامنے آپ کی درخواست نہیں آئی۔ ابھی دفتر نے اس کو مقرر نہیں کیا۔
اسی دوران آمنہ مسعود نے عدالت کو بتایاکہ یہاں دو لاپتہ جوانوں کے ماں باپ دونوں آئے ہوئے ہیں، ان کا مقدمہ آج نہیں لگا مگر یہ ہمارے سمجھانے کے باوجود سپریم کورٹ آ جاتے ہیں۔ عدالت ہدایت جاری کرے کہ آئندہ سماعت پر ان کے بیٹوں کے مقدمے کو بھی سماعت کیلئے مقرر کیا جائے۔ (بزرگ میاں بیوی ایک دوسرے کو عدالتی کرسیوں کے سہارے کھڑے رہنے میں مدد کرتے رہے، اس بات سے بے خبر کہ آج ان کو نہیں سنا جائے گا،یہ الگ بات ہے کہ جب ان کا کیس مقرر بھی ہوتا ہے تب بھی کچھ نہیں ہوتا)۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے