ایگزیکٹ ڈگری اسکینڈل کیس

سپریم کورٹ میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری اسکینڈل کیس کی سماعت ہوئی ہے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے استفسار کیا کہ ایگزیکٹ کے خلاف ہائی کورٹ میں دائراپیلوں کا کیا؟ ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرالتواپیل پر سماعت آج ہوگی جبکہ سندھ ہائی کورٹ نے معاملہ دوبارہ ٹربیونل کو بھجوا دیا ہے ۔

پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق چیف جسٹس نے پوچھا کہ ٹرائل کورٹ میں زیر التواء مقدمات میں کیا پیش رفت ہوئی؟ شعیب شیخ کے وکیل نے بتایا کہ مقدمات زیرالتوا ہیں، گواہوں کے بیان مکمل ہونے والے ہیں ۔

سپریم کورٹ نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں پی بی اے کی فریق بننے کی درخواست خارج کر دی، چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے جرم ثابت ہو جائے پھر جرم کے پیسے کا بھی دیکھیں گے ۔ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے وکیل نے کہا کہ جرائم کا پیسہ میڈیا میں لگایا جا رہا ہے، کمپنی کا کل اثاثہ 70 لاکھ ہے تنخواہیں کروڑوں میں دیتی ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پی بی اے کا  اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں بنتا، ایف بی آر سے ایگزیکٹ کمپنی کا آڈٹ کروا لیں گے ۔

وکیل نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری stake پر ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ کون سا اسٹیک ہے؟ چکن اسٹیک تو نہیں؟ میڈیا کو جب بھی کوئی پوچھے تو stake پر آجاتا ہے، کل شاہد مسعود نے بھی کہا میڈیا سٹیک پر ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ضرورت پڑی تو پیمرا کو فریق بنائیں گے ۔

پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق عدالت نے ممبر ایف بی آر انکم ٹیکس کو طلب کیا ۔ جسٹس عمر عطا نے کہا کہ پاکستان کا نام بدنام نہیں ہونا چاہیے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انشااللہ پاکستان کی بدنامی نہیں ہونے دیں گے، کیوں نہ بول کا آڈٹ کروا لیں، نہ یہ اشتہار لے رہے ہیں، پھر آمدن کہاں سے ہے ۔

ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ بول کے پاس پیسہ تو ہوگا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بول کہاں  سے چل رہا ہے، بول کے پاس پیسہ کہاں سے آ گیا، ایف بی آر سے ٹیکس ریٹرن منگوا لیتے ہیں، پاکستان کی عزت کے سوا باقی تمام چیزیں ثانوی ہیں، صرف پاکستان کی عزت مقدم ہے، پتہ چلنا چاہیے اربوں روپے کہاں سے آ رہے ہیں، اگر یہ غلط ہے تو اصل چہرہ سامنے آنا چاہیے ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملازمین کو تنخواہیں ادا کی ہیں یا نہیں؟ پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق شعیب شیخ کے وکیل نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہیں بنتی ہی نہیں ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بول رقم سپریم کورٹ میں جمع کروا دے، ہم دیکھ لیں گے کہ ملازمین کی کتنی رقم بنتی ہے، ادائیگیوں کا مجموعی دعوی کتنا ہے ۔ بول ٹی وی کے سابق اینکر جاوید اقبال نے کہا کہ وہ حساب لگا کر مجموعی رقم سے عدالت کو آگاہ کریں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ملازمین نے پہلے بول ٹی وی کے مالکان سے بقایا جات کیلئے رجوع کیوں نہ کیا؟ ہمیں یہ بتادیں کیا ہم ریکوری کروا سکتے ہیں اور کس قانون کے تحت کرا سکتے ہیں؟ ملازمین اپنے لیے وکیل کر لیں تو بہتر طور پر مقدمے سنا جا سکے گا ۔

پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق شعیب شیخ کے وکیل نے کہا کہ کچھ ملازمین نے ریکوری کے لئے ماتحت عدالت میں دعوی کر رکھا ہے ۔ جاوید اقبال نے کہا کہ ہم ماتحت عدالت میں اس لیے نہیں گئے کہ مالکان پر اعتماد کر کے مسئلے کو حل کرنے کی کا انتظار کر رہے تھے ۔ اب ہمیں ان پر اعتماد نہیں رہا تو یہاں آ گئے ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ کس طرح یہ مقدمہ یہاں سنا جائے، پہلے متعلقہ فورم سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہ اور بقایاجات کی درخواست کو الگ سے مقرر کر کے سنیں گے ۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کے مطابق شعیب شیخ غیرملکی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں ۔ ممبر ایف بی آر انکم ٹیکس عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت نے ہدایت کی کہ ریکارڈ لے کر آئیں ۔ پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق  شعیب شیخ کے وکیل نے بتایا کہ ہماری دو کمپنیاں ہیں، ایک ایگزیکٹ اور دوسری میسرز لبیک جو بول ٹی وی ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایف بی آر دس سال کا ٹیکس ریکارڈ لے کر آئے، ایف بی آر وضاحت کرے بول ٹی وی کیسے چل رہا ہے، بول ٹی وی اشتہار بھی نہیں لے رہا ۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ کیا سیلف فنانس سے ٹی وی چل رہا ہے، اگر سلف فنانس ہے تو پھر آمدن کے ذرائع بتا دیں ۔

بول ٹی وی سے منسلک صحافی نذیر لغاری نے کہا کہ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ ہو رہا ہے ، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر پراپیگنڈہ ہو رہا ہے تو آپ کو خوش ہونا چاہیے، عدالت آپ کے لیے کام کر رہی ہے، ہو سکتا ہے آپ کو تحقیقات میں کلین چٹ مل جائے، دیکھنا ہے کہ بول کو فنانس کہاں سے مل رہا ہے ۔ نذیر لغاری نے کہا کہ ہمارے سی او اور چیئرمین کو ضمانت نہیں مل رہی، جس الزام میں پکڑا گیا ہے اس کی سزا دو سال ہے، شعیب شیخ پندرہ ماہ پہلے بھی حراست میں رہ چکے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتیں بڑی آزاد ہیں، شعیب شیخ جیل میں ہیں تو رہنے دیں، جس نے برا کیا وہ جیل میں رہے ۔پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق جسٹس عمر عطا نے کہا کہ ایگزیکٹ پر سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں، ایف آئی اے نے ان الزامات کی تائید کی، ایف بی آر سے ریٹرن کی تفصیلات منگوائی ہیں ۔ شعیب شیخ کے وکیل نے کہا کہ کسی آزاد ادارے سے تحقیقات کرا لیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے ایف بی آر کی تفصیلات آنے دیں پھر دیکھ لیتے ہیں ۔

ممبر ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ میسرز لبیک نے 2011 سے گوشوارے فائل نہیں کیے ۔ پاکستان 24 کے نامہ نگار کے مطابق وکیل نے کہا کہ 2011 کے بعد بول کے نام سے گوشوارے فائل کیے ۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کو سارے نام بتا دیں کن ناموں سے ریٹرن فائل ہوئے ۔
بعد ازاں سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دی گئی ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے