سرکاری اشتہار پر تصویر نہیں ہوگی

سپریم کورٹ نے پیپلز پارٹی کو سیاسی رہنماؤں کی تصاویر والے سرکاری اشتہارات کے رقم واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ حکومتیں اپنی تشہیر کے لیے سرکاری خزانہ استعمال نہ کریں ۔

سپریم کورٹ میں سرکاری اشتہارات ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اشتہارات دینے کا میکنزم کیا ہونا چاہیے ۔ آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی اور پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسی ایشن کے وکلا بتائیں کہ انھوں نے کیا تجاوز تیار کی ہیں ۔

اے پی این ایس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گائیڈ لائنز عدالت میں پیش کر رہے ہیں ۔ سرکاری منصوبوں سے آگہی عوام کا حق ہے، اشتہارات میں سیاسی شخصیات کی تصاویر نہیں ہونی چاہیے، ووٹ مانگنے کے لئے سرکاری اشتہار کا استعمال نہیں ہو سکتا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ گائیڈلائنز پر حکومت سے بھی رائے مانگ لیتے ہیں، یہ کام اپنی ذمہ داری سمجھ کر کر رہے ہیں،، حکومتیں اپنی تشہیر کے لیے سرکاری خزانہ استعمال نہ کریں، جماعتیں سیاسی تشییر کے لیے اپنا پارٹی فنڈ استعمال کریں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سرکاری پیسے سے اشتہار پری پول دھاندلی ہوتی ہے، ہم نہیں چاہتے میڈیا انڈسٹری کا کاروبار متاثر ہو ۔
خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات نے تین ماہ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی ۔ تین ماہ میں اشتہارات کی مد میں صرف ہونے والی رقم سے متعلق سوال کے جواب میں سیکرٹری اطلاعات کا کہنا تھا کہ تین ماہ میں 24 کروڑ سرکاری اشتہارات کی مد میں خرچ کیے، یہ رقم عوامی آگہی کے لیے خرچ کی گئی ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پنجاب میں سرکاری اشتہارات پر تصاویر ہیں، سیاسی تشہیر پر اٹھنے والے اخراجات کون برداشت کرے گا؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ عدالت جیسا حکم کرے گی ویسا ہوگا ۔
خبریں گروپ کے مالک ضیا شاہد نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی اے میں جہاز چوری کی خبر دینے پر اب پی آئی اے ان کو اشتہار نہیں دے دہی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گائیڈ لائنز پر اعتراضات آئیں گی انھیں دیکھ لیں گے، وفاقی حکومت اور چاروں صوبوں کو گائیڈ لائنز بھجوا دیتے ہیں، کسی کو اعتراض نہیں ہو گا تو فیصلہ کر دیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جہاں دیکھا جائے گا میڈیا کی آزادی کو دبایا جا رہا ہے تو تجاویز لیں گے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی گائیڈ لائنز دیکھ رہے ہیں، اگلے مرحلے میں اشتہارات کی شفاف تقسیم کو بھی دیکھیں گے، عدالت نے کسی کے اشتہارات کو نہیں روکا، عدالت نے سیاسی شخصیات کی تصاویر والے اشتہار کو بند کیا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ کسی سیاسی شخصیت کی سرکاری اشتہار پر تصویر نہیں ہو گی ۔

عدالت نے سماعت چار اپریل تک ملتوی کر دی ہے ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے