پشتون تحفظ موومنٹ کا بیانیہ _ چند گزارشات

کرم الہی ۔ پشاور

اپنے معمول کے ہوشربا اور شرانگیز شورغل میں مگن مین سٹریم میڈیا نے ابھی تک پی ٹی ایم کے حوالے سے مکمل بےنیازی اختیار کی ہوئی ہے- اکثر سیاسی قائدین بھی کھل کراس تحریک کے حوالے سے بات کرنے سے کتراتے ہیں- عام لوگوں کا ردعمل بھی ملاجلا ہی ہے- اس تحریک کے بارے میں ابہام، بے یقینی اور شکوک و شبہات بھی ہیں اورامید، یقین اوراعتماد بھی- اس کے بیانیۓ میں کسی حد تک حقیقت بھی ہے اور مبالغہ و افسانہ بھی- مطالبات کے چناو میں احتیاط بھی ہے لیکن طریق کار میں قدرے بے احتیاطی اورنادانستگی بھی- تقریروں میں گلہ شکوہ بھی ہے لیکن لب ولہجہ دھمکی آمیز بھی-

اس تحریک کے حوالے سے ابھی تک سوشلستان میں تین قسم کے طبقات سامنے آۓ ہیں- ایک وہ طبقہ ہےجو اس کی پرزور وکالت کررہا ہے – دوسرا وہ جو اس کی مخالفت کررہا ہے- تیسرا وہ جو کوئی حتمی راۓ قائم نہیں کرسکا ہے یا جسے اس حوالے سے کوئی علم یا دلچسپی ہی نہیں-

جو اس کی وکالت کررہے ہیں وہ سوویت یونین کے خلاف جنگ سے لیکر دھشت گردی کے خلاف جنگ اور راو انوار جیسے قصائیوں کے ہاتھوں پختونوں کی تباہی، گمشدگی اور توھین پر آزردہ خاطر ہیں- جو اس کے مخالف ہیں وہ اسے دشمن کی چال سمجھ رہے ہیں یااسے ریاست اور اس کے اداروں کے خلاف ایک منظم سازش کی نظر سے دیکھتے ہیں- دونوں طرف سے اس تحریک کے دفاع اور مخالفت میں باتیں ہورہی ہیں-

ایک خدشہ!

یہ بات تو طے ہے کہ اگر ریاست نے اس تحریک کو جنم دینے والے عوامل اور وجوہات کو ایڈریس کرتے ہوۓ آئین و قانون سے مطابقت رکھنے والے مطالبات پرعمل نہ کیا تو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ پاکستان دشمن قوتیں اسے اپنے مقاصد کے لیے بالواسطہ یا بلاواسطہ استعمال نہ کریں-

تاریخی تناظر !

اس میں شک نہیں کہ پچھلے لگ بھگ نصف صدی سے پختونوں کی سرزمین بین الاقوامی اور علاقائی قوتوں کے مابین پراکسی وار کا اکھاڑا بنا ہوا ہے- لیکن یہ تاریخ اور جغرافیہ کا ایک ایسا مشترکہ جبر ہے جو صدیوں سے چلا آرہا ہے- اس پرآشوب تاریخ میں پختونوں کی ہمہ گیر تباہی بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے- لیکن اس نقصان کی ساری ذمہ داری پاکستانی ریاست یا اس کی فوج پر ڈالنا قطعی طورپرخلاف حقیقت اور غلط ہے- "فریب ناتمام” کے مصنف سمیت کئی مصنفین اور مورخین (مثلا” احمد رشید، سٹیو کول، وغیرہ) اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ خطے میں جاری پراکسی جنگ میں عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ علاقائی ریاستوں اور خود افغانستان کا ہاتھ رہا ہے- اس صورت حال میں فطری طورپر پاکستان کے لیۓ غیر فعال رہنا ممکن تھا نہ ہے-

ایک یاد دہانی !

لیکن پی ٹی ایم کے حمایتی یہ بھی یاد رکھیں کہ :

جہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ اب تک دھشت گردی میں مرنے والوں کی اکثریت پختونوں کی ہے، وہاں مارنے والوں کی بھی ایک غالب اکثریت پختونوں کی ہے-

افغانستان کے اندر خلق اور پرچم کے لوگ ایک دوسرےکو مارتے رہے، اور دونوں پختون تھے- دونوں کے پیچھے سوویت یونین تھا-

پھر سوویت سپورٹ سے کابل حکومت "اشرار” کو مارتی رہی جبکہ مغربی اور اسلامی ممالک کی حمایت یافتہ "افغان مجاہدین” کابل میں "کٹ پتلی کمیونسٹوں” کو مارتے تھے- مارنے اور مرنے والوں کی غالب اکثریت پختونوں کی تھی- ایک فریق کو سویت یونین اور دوسرے کولبرل اور اسلامی ممالک سپورٹ کرتے رہے-

پھر سوویتس کے جانے کے بعدہمسایہ ممالک کی پراکسی شروع ہوئی اور کابل تباہ و برباد ہوگیا – پورے افغانستان میں وار لارڈز نے بربریت کی داستانیں رقم کیں- مختلف گروہوں کو مختلف ملک سپورٹ کرتے رہے- اور عموما” پختون ہی کٹتے مرتے رہے-

پھر گیارہ ستمبر کے حملے ہوۓ اور دنیا کیا سے کیا ہوگئی- افغانستان ایک اور ہولناک جنگ کے شعلوں میں لپٹ گیا- چند سالوں میں عالمی اور علاقائی ریاستوں کے مابین پھر وہی پراکسی وار چل پڑی- مارنے والے پختون، مرنے والے پختون-

پھرآگ کے شعلے افغانستان سے نکل کر پاکستان میں داخل ہوگۓ- یہاں بھی عالمی اور علاقائی گلیڈیٹرز کے مابین وہی پراکسی وار – مارنے والے پختون، مرنے والے پختون –

یاد دلاوں؟

منظورپشتون کو معلوم ہے کہ نورمحمد ترکئی اور جنرال عبدالاقدر ڈگروال جنہوں نے پختون قوم پرست سردار داود کو قتل کیاتھا، پختون تھے —حفیظ اللہ امین جو نورمحمد ترکئی کے قتل کا ذمہ دار تھا، پختون تھا — ببرک کارمل جس کے ہاتھ پر حفیظ اللہ امین کا خون تھا، پختون تھا—ڈاکٹر نجیب اللہ جو سوویتس کی مدد سے "افغان مجاہدین” کو قتل کرتارہا، پختون تھا—ملا عمر جس کے ساتھیوں نے پختون قوم پرست لیڈر ڈاکٹر نجیب اللہ کو نہایت بے دردی سے قتل کیا تھا، پختون تھا —حکمت یاراور استاد سیاف جن کے ہاتھ پر نجانے کتنے پختونوں کا خون ہوگا، پختون ہیں —نیک محمد ، عبداللہ محسود، بیت اللہ محسود ، اور حکیم اللہ محسود جنہوں نے پختونوں کے اغواء اور قتل کی نئی تاریخ رقم کی، پختون تھے—ملا فضل اللہ جنہوں نے آرمی پبک سکول میں ننھےپختون بچوں کو قتل کیا، پختون ہے—قندوزمدرسہ پر بم برساکر معصوم پختون بچوں کومارنےوالی حکومت کے سربراہ ڈاکٹر اشرف غنی، پختون ہے— اور کیا کیا نام گنواوں پشتین صاحب؟—کوئی بھی صاحب عقل و شعور ان سب کو پاکستان اور پاک آرمی کو کھاتے میں نہیں ڈال سکتا —

جی ہاں!

قبائیلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں ریاست دشمن عناصر کے خلاف پاکستانی مسلح افواج کی کارروائیوں کے دوران غلطیاں ہوئی ہونگی—خود میں اور میرے خاندان پرطالبان دھشت گردوں کی وجہ سے باربار قیامت ٹوٹے—میرے بھائی خوکش حملے میں شدید زخمی ہوۓ اورایک سال کی طویل علاج کے باوجود مستقلا” نیم اپاہج ہوگۓ— میرےخاندان کو ملٹری آپریشن کی وجہ سے نقل مکانی کرنی پڑی—خود مجھے طالبان نے اغوا کیا اورکئی دن تک اعصاب شکن قید میں رکھا—میرے ایک کزن کو شہید کیا گیا جبکہ ایک اور کزن ہمیشہ کے لیۓ پیراپیجیک ہوکر زندہ لاش بن چکا ہے—

مجھے بھی بسا اوقات چیک پوسٹوں پر تعینات فوجی اہلکاروں کے سخت رویۓ کا سامنا کرنا پڑا ہے— مجھے بھی سیاست میں فوج کے کرادر سےاختلاف ہے— میں بھی سمجھتا ہوں کہ یہ پختونوں کے زخموں پر نمک پاشی کی بجاۓ مرہم پٹی کا وقت ہے— جولوگ دھشت گردی میں ملوث نہیں،مگر ابھی تک "غائب” ہیں انہیں فی الفور رہاکیا جاۓ اور جن کے خلاف ثبوت ہوں، انہیں عدالتوں کے سامنے پیش کیا جاۓ—مشرف کا ٹرائل کیا جاۓ— راوانوار جیسے کراۓ کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاۓ—غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا جاۓ اور ضروری چیک پوسٹوں پر عملے کو مہذب طریقے سے لوگوں کے ساتھ پیش آنے کی تربیت دی جاۓ—فاٹا اور کے پی کو باہم ضم کیا جاۓ—اور دونوں کی ترقی کے لیۓ خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے_
لیکن منظور پشتین !
کسی بھی ایسی حرکت کرنے سے گریز کیجیے  جس سے پاکستان کی سالمیت اور استحکام پر آنچ آتی ہو—اپنے آئینی اور قانونی مطالبات کو آئین اور قانون ہی کے اندر حل کرنےکی کوشش کیجیۓ— دشمن کی چالوں سے ہوشیار اوردور رہیں— پاکستان اور ا فوج پاکستان کے بارے میں الفاظ احتیاط سے چنیئے —پوری قوم اور دنیا کی نظریں تمہاری ایک ایک ادا پرہے— کہیں ایسا نہ ہو، کہ دانستہ یا نادانستہ تمہاری یہ تحریک پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھوں ہائی جیک ہوجاۓ— دیکھنا، یہ قافلہ کہیں بھٹک نہ جائے —

متعلقہ مضامین