شام پر امریکی حملے

امریکا، برطانیہ اور فرانس کے جنگی طیاروں نے شام کے دارالحکومت دمشق اور دیگر شہروں میں سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے ۔  حملے کا جواز شہریوں کے خلاف مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بنایا گیا ۔

دوسری جانب شام کے صدر بشارالاسد نے سخت مزاحمت کا دعویٰ کیا ہے، شام کے صدر کی دفتر جاتے ہوئے ویڈیو سرکاری میڈیا پر دکھائی گئی ہے _

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق شام کے دارالحکومت دمشق سمیت کئی علاقوں پر میزائل داغے گئے۔۔۔ ٹوماہاک اور شیڈو میزائلوں نے فوجی اڈوں، ائیرپورٹس اور سائنسی ریسرچ سنٹرز کو نشانہ بنایا۔ شامی حکومت نے اتحادی فورسز کے تیرہ میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حملے کانشانہ بننے والے فوجی اور ہوائی اڈے پہلے ہی خالی کرا لیے گئے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں نے امریکی فوج کو شام میں ٹارگٹڈ حملوں کی اجازت دی ہے، حملوں سے شام کی کیمیائی ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو نشانہ بنایا گیا۔

وزیر دفدف جیمز میٹس کے مطابق امریکا، فرانس اور برطانوی افواج نے شام میں، کیمیائی ہتھیار بنانے والے ریسرچ سینٹرز کو نشانہ بنایا۔ بشارالاسد حکومت نے گزشتہ سال کی کارروائیوں سے سبق نہیں سیکھا۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے