وکیلوں کی عدالت میں لڑائی

خالدہ شاہین رانا
سینئر سول جج اسلام آباد، قدرت اللہ خان کی عدالت میں جمعرات کے روز تنسیخ نکاح کے حوالے سے ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت کے اندر فاضل جج کی موجودگی میں فریقین کے وکلاء اور پارٹیوں کے مابین ہونے والی ہنگامہ آرائی اور مار کٹائی کا معاملہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ اور دیگر ججوں کی مداخلت پر صلح کے بعد ختم ہوگیا ہے _

فاضل عدالت نے مدعیہ ڈاکٹر سدرہ کی جانب سے دائرکی گئی تنسیخ نکاح کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر تے ہوئے ان کے حق میں تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کر دی ہے،  مدعیہ کے وکیل عمران بلوچ ایڈوکیٹ نے بتایا ہے کہ جمعرات 26 اپریل کوسول جج کی عدالت میں ان کی موکلہ ڈاکٹر سدرہ شوکت کی جانب سے میجر عظیم کے خلاف دائرکی گئی تنسیخ نکاح کی درخواست کی سماعت کے دوران مدعیہ کے بھائی عثمان شوکت، والد بریگیڈئر ریٹائرڈ شوکت محمود اور انہیں( عمران بلوچ ) مخالف فریق کی جانب سے اس وقت تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جب جواب گزار میجر عظیم کے وکیل نوید ملک نے موقف اختیار کیا کہ ان کا موکل اپنی بیوی کو آباد کرنے کا خواہاں ہے اور ا سے طلاق نہیں دینا چاہتا ہے ، انہوں نے عدالت سے جواب گزارمیجر عظیم کواپنی بیوی کو ساتھ لے جانے کی اجازت دینے کی استدعا کی تو میں ( مدعیہ کے وکیل عمران بلوچ) نے مو قف اختیار کیا کہ جواب گزار اپنی بیوی کو طلاق دے چکا ہے، اور اسی لیے ہی جواب دعویٰ میں مدعیہ نے اپنے سابق شوہر کے ظلم و جبر سے تنگ آ کر اس سے علیحدگی کا فیصلہ کرتے ہوئے تنسیخ نکاح کا جواب دعوی ٰجمع کروایا ہے، اس لئے تنسیخ نکاح کی ڈگری جاری کی جائے، تاہم جواب گزار میجر عظیم نے مدعیہ کو بازئوں سے پکڑ کر زبردستی عدالت سے باہر لے جانے کی کوشش شروع کردی ،جس پر میں نے فاضل جج قدرت اللہ خان کی توجہ مدعیہ کے ساتھ ہونے والی کھینچا تانی کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ جواب گزار کا یہ اقدام جرم ، غیر قانونی اور سراسر توہین عدالت ہے، آپ اسے روکنے کا حکم جاری کریں ،

عدالت کی اجازت اور مدعیہ کی مرضی کے بغیر اسے کہیں بھی لے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے ، جس پر عدالت کے اندر ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی اور میرے ساتھ ساتھ مدعیہ ڈاکٹر سدرہ شوکت ان کے بھائی عثمان شوکت اور والد بریگیڈئر ریٹائرڈ شوکت محمود کے ساتھ دس کے قریب وکلاء نے ہاتھا پائی شروع کر دی ، فاضل جج قدرت اللہ خان بھی اس صورتحال کی وجہ سے بے بس ہو گئے، ہم سب نے جج کے چیمبر میں گھس کر جان بچائی جہاں بعد ازاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ایسٹ اور دیگر ججوں کی مداخلت پر صلح کروا دی گئی، اور فاضل ججز کے حکم پر ہمیں پولیس کی حفاظت میں ہمارے گھروں تک پہنچایا گیا، مدعیہ کے وکیل عمران بلوچ نے مزید کہا ہے کہ میری مدعیہ کے مخالف فریق کے وکیل نے مجھے اپنے دیگر ساتھی وکلاء کے ہمراہ کمرہ عدالت میں جج کی موجود گی میں وحشیانہ تشدد کانشانہ بنایا ہے جس سے مجھے شدید چوٹیں آئی ہیں اور میں بری طرح زخمی ہوگیا ہوں جبکہ میری موکلہ کا مخالف فریق میجر عظیم مجھے اور مدعیہ کے خاندان کو قتل کی دھمکیاں دے چکا ہے، انہوں نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے از خود نوٹس لینے اور تحفظ فراہم کرنے کی استدعا کی ہے،

دوسری جانب جواب گزار کے وکیل نوید ملک نے میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ کیس کی سماعت کے دوران ان کی عمران بلوچ ایڈوکیٹ کی جانب سے ان کے دلائل میں مداخلت کی بناء پر معمولی تلخ کلامی ہوئی تھی اور بعد میں ججوں کی مداخلت پر صلح ہوجانے پر معاملہ ختم ہوگیا ہے ۔

متعلقہ مضامین