پاکستانی عورت اور غیر ملکی مرد شادی کیس

خالدہ شاہین رانا
سپریم کورٹ میں بدھ کے روز ” غیر ملکی مرد کی پاکستانی خاتون سے شادی کی صورت میں اسے پاکستان کی شہریت دینے یا نہ دینے ” سے متعلق ایک آئینی کیس کی سماعت عدالتی معاون کی جانب آواز لگانے کے باوجود نہ ہو سکی ،جس پر پریشان حال میاں بیوی اور ان کی بچیاں ملتان واپس چلی گئیں،

یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ ،(ملتان بنچ ) کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی ہے جس میں اس آئینی نکتہ کہ آیا کہ” کوئی غیر ملکی مرد کسی پاکستانی خاتون سے شادی کی صورت میں پاکستان کی شہریت حاصل کرسکتا ہے یا نہیں ” پر سپریم کورٹ نے عدالت کی معاونت کے لئے سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ کو امائیکس کیورائے(عدالت کا دوست ) مقرر کر رکھا ہے اور ملک بھر کے تمام چیف لاء افسران کو بھی نوٹس جاری کر دیے ہیں، چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے 30مارچ 2018کو لاہور ہائی کورٹ (ملتان بنچ ) کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل کی سماعت کی تھی ،جس میں مسول علیہ رخسانہ حسن کی جانب سے لیاقت علی سندھو ایڈوکیٹ پیش ہوئے تھے اور عدالت کی جانب سے اس نکتہ پر کہ اگر کوئی غیر ملکی مرد پاکستانی خاتون سے شادی کرلے تو کیا اسے یہاں قیام کا حق حاصل ہوتا ہے یا نہیں ؟اور اس بارے میں پاکستان سٹیزن ایکٹ 1951 کیا کہتا ہے؟ کی وضاحت کرتے ہوئے فاضل وکیل نے موقف اختیار کیا تھا، اگر یہاں کا کوئی مرد کسی غیر ملکی خاتون سے شادی کرلے تو اس عورت کو تو شہریت مل جاتی ہے،لیکن اگر کوئی غیر ملکی مرد کسی پاکستانی عوارت سے شادی کرے تو اسے یہ حق حاصل نہیں ہوتا ہے ، انہوں نے مزید بتایا تھا کہ ان کی موکلہ رخسانہ حسن کا خاوند سید حسن اصغر زیدی انڈین شہری ہے جوکہ 2003 میں پاکستان آیا تو اس کے ہمراہ اس کی پہلی بیوی سے اسکا 11 سالہ بیٹا بھی تھا، حسن اصغر زیدی نے ، رخسانہ بی بی سے شادی کرلی،جس سے اس کی تین بیٹیاں بھی پیدا ہوئیں ،اس دوران یہ گاہے بگاہے ویزے کی مدت میں توسیع لیتا رہا ، اب اس کے ساتھ آنے والا بیٹا بھی ملتان کی ایک یونیورسٹی میں ایم ایس سی کا طالبعلم ہے ، 2006میں اس نے وزارت داخلہ میں شہریت کے حصول کے لئے درخواست دائر کی تھی ،جس پر اسے ایک مراسلہ جاری کیا گیا کہ اگر وہ 50لاکھ روپیئے جمع کروادے تو اسے پاکستانی شہریت دینے پر غور کیا جا سکتا ہے ، جس پر اس کی اہلیہ نے اس مراسلے کولاہور ہائی کورٹ ،(ملتان بنچ )میں چیلنج کیاجہاں میری موکلہ کی جانب سے وفاقی شرعی عدالت کے ایک فیصلہ کی نظیر پیش کی گئی جس میں فا ضل عدالت نے ”غیر ملکی مرد کی پاکستانی خاتون سے شادی کی صورت میں اسے پاکستان کی شہریت نہ دینے ” سے متعلق پاکستان سٹیزن ایکٹ 1951کی دفعہ (109(2کو غیر اسلامی ، آئین سے متصادم اور بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا تھا ، اس کی روشنی میں ہا ئی کورٹ نے میری موکلہ کے خاوندسید حسن اصغر زیدی کو پاکستانی شہریت دینے کا حکم جاری کیا تھا، وفاقی حکومت نے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے اس حکم کے خلاف یہاں پر اپیل دائر کر رکھی ہے ،جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہا تھا کہ یہ ایک اہم قانونی نکتہ ہے، جس کی وضاحت ضروری ہے ، اس لئے سینیئر وکیل سلمان اسلم بٹ کو امائیکس کیورائے مقرر کرلیتے ہیں بعد ازاںفاضل عدالت نے اس نکتہ کی وضاحت اور تعین کے لئے سلمان اسلم بٹ کو امائیکس کیورائے مقرر کر تے ہوئے اٹارنی جنرل،ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد اورچاروں صوبائی چیف لاء افسران کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت بدھ کے روز تک کے لئے ملتوی کی تھی ،جبکہ عدالت نے کیس کے حتمی فیصلہ ہونے تک ر خسانہ حسن کے خاوند اور ان کے بیٹے کو پاکستان سے واپس بھیجنے پر پہلے سے ہی جاری حکم امتناع کو برقرار رکھا ہے ،بدھ کے روز جب ریگولر کاز لسٹ پر(ساتویں نمبر پرموجود ،)حکومت پاکستان بذریعہ سیکرٹری داخلہ بنام رخسانہ حسن کیس کو پکارا گیا تو فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ یہ آخری کیس ہے ، باقی تمام مقدمات کو ملتوی کیا جاتا ہے ،اس لئے انتہائی ضروری نوعیت کے مقدمات والے صرف تاریخ لے لیں ،جس پر درخواست گزاروں کا ایک طوفان آگیا اور روسٹرم پر متعدد افراد کھڑے ہوگئے اور ان کی باری آنے سے پہلے ہی بنچ کے فاضل اراکین اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے