صحافیوں پر تشدد کیس

پاکستان 24رپورٹ

عدالت عظمیٰ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جمعرات 3 مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت پر نکالی گئی صحافیوں کی ریلی کے شرکاء پرپولیس تشدد کے واقعہ سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران جوڈیشل انکوائری کا حکم جاری کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آبا سہیل ناصر کو انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے انہیں 10 روز کے اندر اندر سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم جاری کیا ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کودوو روز کے اندر اندر پچھلے چار سالوں سے اسلام آباد میں دفعہ 144 کے نفاذ میں مسلسل توسیع کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے_

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جمعہ کے روز از خود نوٹس کیس کی سماعت کی توسنئیر صحافی پرویز شوکت،شہریار خان ،شکیل قرار سمیت متعدد صحافی ،ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ مشتاق اور آئی جی،پولیس اسلام آباد سلطان اعظم تیموری پیش ہوئے، پرویز شوکت نے عدالت کو بتایا کہ پوری دنیا میں ہر سال تین مئی کو یوم آزادی صحافت کے طور پر منایا جاتا ہے،جمعرات کے روز بھی اسی سلسلے میں ریلی نکالی گئی تھی تو پولیس نے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردیں،اورصحافیوں پر تشدد کیا ہے ،انہوں نے کہا کہ صحافی پرامن شہری ہیں اور قانون کا احترام کرتے ہیں ،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ(صحافت ) ریاست کا چوتھا ستون ہیں، پولیس کا موقف یہ ہوگا کہ ریڈ زون میں جانے کی اجازت نہیں تھی ،انہوں نے آئی جی سے استفسار کیا کہ کیا صحافیوں کے ہاتھوں میں کوئی لاٹھیاں ،ڈنڈے یا اسلحہ تو نہیں تھا اورانہیں ریڈ زون میں کس قانون کے تحت ریلی نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے؟ انہوں نے  استفسار کیا کہ ریڈ زون میں کس کو احتجاج کی اجازت ہے؟

آئی جی نے بتایا کہ اسلام آباد میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 نافذ ہے اور ریلی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ سے این او سی لینا ایک قانونی تقاضہ ہے،جس پر فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ اسلام آباد میں کب سے دفعہ 144 نافذ ہے، جس پر ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ 2014 سے نافذ ہے؟ جس پر چیف جسٹس نے پھر استفسار کیا کہ کتنے عرصے کے لیے اس دفعہ کا نفاذ ہوسکتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ دفعہ 144 کا نفاذ کسی سیکیورٹی خطرے کی صورت میں ہوسکتا ہے، کیا اگرصبح 5 لوگ ایک ساتھ واک کر رہے ہوں تو انہیں بھی پکڑ لیا جائے گا؟ کیا کہ حکام کی جانب سے اپنے اختیارات کا غلط استعمال نہیں ہے، یہ کسی زمانے کا کالونیل لاء ہے ،عدالت کی ہدایت پر ایڈوکیٹ جنرل طارق جہانگیری نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 باآواز بلند پڑھی تو چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے مطابق یہ دفعہ کسی ضرورت کے تحت کسی ایک خاص وقت کے لئے ہوتی ہے ،یہ تو نہیں کہ دفعہ 144لگا کر اسے بستر کے نیچے چھپا دیا جائے ،

صحافی رہنما شہریار خان نے کہا کہ دفعہ 144کو یہ ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ، عدالت کے استفسار پر ڈی سی نے بتایا کہ یہ دفعہ صرف دو ماہ کے لئے لگائی جاسکتی ہے ،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے چار سالوں سے لگا رکھی ہے ، ڈی سی نے کہا کہ ہر دو ماہ بعد اس میں توسیع کردیتے ہیں ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو قانون کے ساتھ فراڈ ہے ،آپ دماغ استعمال کئے بغیر اور حقائق کو دیکھے بغیر اپنے اختیارات کا استعمال فراڈ سے کررہے ہیں،

آئی جی نے بتایا کہ میں ذاتی طور پر صحافیوں کی عزت کرتا ہوں، پولیس نے صحافیوں کو ریڈ زون میں داخلے سے منع کیا تھا،جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا صحافیوں نے کوئی پتھر پھینک کے کوئی گملا توڑا تھا ؟ جس پر آئی جی نے بتایا کہ صحافیوں نے ڈی چوک پر پولیس حصار توڑنے کی کوشش کی تھی دوران سماعت ایک صحافی شکیل قرار نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے ہمیں زبانی طور پر ڈی چوک تک جانے کی اجازت دی تھی لیکن ڈی چوک پر پہنچنے سے پہلے ہی ہمیں چائنا چوک پر زبردستی روک لیا گیا،ایک خاتون صحافی نے بتایا کہ کہ پولیس اہلکار نے انہیں تھپڑ مارا تھا ،جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا لیڈی پولیس بھی وہاں پر موجود تھی تو بتایا گیا کہ وہاں پر صرف مرد اہلکار ہی موجود تھے ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ صحافیوں کا احتجاج پرامن تھا ،کیاپرامن احتجاج یا خواتین پر ہاتھ اٹھانا درست ہے ،آجکل لیڈیز کے لئے ایسے ویسے ریمارکس آرہے ہیں، معلوم نہیں ماں بہنوں کا احترام کدھر چلا گیا ہے؟ انہوں نے مزید ریمارکس دیئے کہ دنیا میں لوگ اپنے حقوق کے لیے احتجاج کرتے ہیں،لیکن اسلام آباد کی انتظامیہ دفعہ 144 نافذ کرکے بھول گئی ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ تاحیات دفعہ 144 کا نفاذ کردیا جائے،

بعد ازاں فاضل عدالت نے جوڈیشل انکوائری کا حکم جاری کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آبا سہیل ناصر کو انکوائری کرکے 10 روز کے اندر اندر سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم جاری کیا جبکہ ڈپٹی کمشنر کو حکم دیا کہ وہ دوو روز کے اندر اندر پچھلے چار سالوں سے دفعہ 144میں توسیع کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ پیش کریں ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے