سرکاری وکیلوں کی ڈبل فیس کیوں

سپریم کورٹ نے وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کے دفتر سے منسلک سرکاری وکیلوں کی جانب سے سرکاری محکموں سے بھی کیس کی فیس لینے پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کر لیا ہے _

پاکستان 24 کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ سرکاری وکیل تنخواہ کے بعد سرکاری محکموں سے فیس کیسے لے سکتے ہیں؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار کی جانب سے سرکاری اداروں سے فیس لینے کے کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سرکاری محکموں سے فیس لے رہے ہیں، مان لیا ایڈیشنل اٹارنی جنرل نجی پریکٹس کر سکتے ہیں لیکن سوئی گیس، ایف بی آر کے سرکاری اداروں سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے فیس لی _

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت مجھے اپنا گھر ٹھیک کرنے کا موقع دے، چیف جسٹس نے کہا کہ سوئی گیس سے پچاس لاکھ روپے فیس لی گئی، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل آفس کے 14 لوگ سرکاری اداروں سے فیس لے رہے ہیں، کس اتھارٹی کے تحت فیس لے رہے ہیں، چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ وزارت قانون معاملہ پر جواب داخل کرے، اٹارنی جنرل، سرکاری لاء افسر بھی تحریری جواب دیں _

قانون میں ابہام موجود ہے، اٹارنی جنرل

قانون میں کوئی ابہام موجود نہیں، چیف جسٹس

زمہ دار کو نہیں چھوڑ یں گے چیف جسٹس

لاء افسروں کے بینک اکاؤنٹ کو بھی دیکھیں گے، چیف جسٹس

سرکاری اداروں سے بھی پوچھیں گے کس کس نے فیس ادا کی، چیف جسٹس

تمام سرکاری اداروں کو خط لکھا ہے، اٹارنی جنرل

اداروں سے فیس ادا کرنے بارے رپورٹ مانگی ہے، اٹارنی جنرل

عدالت نے اٹارنی جنرل، وزارت قانون، ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار، اور دیگر لاء افسروں سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے