حکومت جرنیلوں کے خلاف فیصلہ کرے

سپریم کورٹ نے 1990 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو الیکشن جیتنے سے روکنے کیلئے سیاست دانوں میں پیسے بانٹنے کے مشہور زمانہ اصغر خان کیس فیصلے پر عمل درآمد کیلئے وفاقی کابینہ کو کہا ہے ۔ اس سے قبل گزشتہ روز عدالت نے دو سابق جرنیلوں اسلم بیگ اور اسد درانی کی فیصلے پر نظرثانی کیلئے دائر درخواستوں کو خارج کر دیا تھا ۔

پاکستان ۲۴ کے مطابق اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی عدالتی بنچ کے سامنے پیش ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اصغر خان کیس میں فیصلہ دے چکی ہے، نظر ثانی کی درخواستیں خارج کی جا چکی ہیں، اب عدالتی فیصلے پر عمل درآمد ہونا ہے، کیا یہ معاملہ ایف آئی اے میں جانا ہے یا نیب میں جانا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وفاقی حکومت نے فیصلے کے بعد آج تک کوئی ایکشن نہیں لیا، صرف ایف آئی اے نے تحقیقات کی لیکن ایک جگہ پر یہ تحقیقات رک گئیں، ایف آئی اے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کر لیتے ہیں ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلوں پر من وعن عمل ہونا چاہیے ۔ پاکستان ۲۴ کے مطابق وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ فوجداری جرم ہے، آئین کو سبوتاژ کرنے کا معاملہ ہے اس پر آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ بھی چل سکتا ہے، سابق فوجی افسران کے جرم کا آرمی ایکٹ، الیکشن ایکٹ اور آئین کے تحت جائزہ لیا جائے، عدالت کے سامنے اصغر خان کیس میں بڑے انکشافات ہوئے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ نہیں معلوم آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنتا ہے یا نہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فوجداری ٹرائل ایف آئی اے کی تحقیقات کے بعد ہوگا ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے مطابق اسد درانی اور اسلم بیگ کے خلاف ایکشن اور دیگر کے خلاف تحقیقات ہوں گی ۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسد درانی اور اسلم بیگ کے بیانات قلمبند نہیں ہوئے، انہوں نے موقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ میں نظر ثانی درخواست زیر التوا ہے، اب عدالت دونوں کی نظر ثانی درخواستیں خارج کر چکی ہے، اب ایف آئی ان لوگوں کے بیانات ریکارڈ کرے گی ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر کوئی جرم ہوا ہے تو اس کا ٹرائل ہونا چاہیے ۔ اسد درانی کے وکیل نے کہا کہ سابق فوجی افسران کا ٹرائل آرمی ایکٹ کے تحت ہو گا ۔

پاکستان ۲۴ کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء کا مقدمہ میں دلائل کے بعد ٹی وی پروگرام میں اظہار رائے کرنا، توہین عدالت ہے، انہوں نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ یہ سب کیا ہو رہا، سارا سسٹم خراب ہو رہا ہے ۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پروگرام میں شرکت کی عدالت کی آبزرویشن پر سر تسلیم خم کرتا ہوں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سب وکیلوں کیلئے ہے ۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ٹرائل ملٹری کورٹ میں بھی ہوتا ہے، ملٹری کورٹ میں کس جرم کا ٹرائل ہوگا یہ طے ہونا چاہیے،

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا سابق فوجی افسروں کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہونا چاہیے، ٹرائل کہاں ہو یہ طے کرنا حکومت کا کام ہے، پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کی کارروائی کا فیصلہ حکومت نے کیا، آئین کی ہر خلاف ورزی آرٹیکل 6 کے زمرے میں نہیں آتی ہے ۔

پاکستان ۲۴ کے مطابق عدالت نے 1990 کے انتخابات میں دھاندلی کے ذمہ دار سابق فوجی افسران کے خلاف فیصلے پر عمل درآمد کا طریقہ کار وضع کرنے کیلئے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیدی، عدالت نے قرار دیا کہ فیصلہ کابینہ اجلاس میں کیا جائے ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی عدالت سے 2 ہفتوں کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کر دی ۔

 

 

 

 

متعلقہ مضامین