وکیلوں کی جعلی ڈگریوں کا نوٹس

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے وکلاء کی جعلی ڈگریوں پر ازخود نوٹس لے لیا ہے ۔ عدالت نے اپنے آرڈر میں لکھا ہے کہ کئی وکیلوں نے قانون کی ڈگری کے بغیر لائسنس حاصل کیے، عدالت کے مطابق بعض افراد بغیر لائسنس کے ہی وکیل بنے ہوئے ہیں ۔
عدالت نے تمام بار کونسلز کو نوٹس جاری کر دیے ہیں ۔ پاکستان 24 کے مطابق عدالت نے ایک ماہ میں لائسنس یافتہ وکلاء کی ڈگریوں کی تصدیق کا حکم بھی دیا ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو بار کونسلز سے تعاون کی بھی ہدایت جاری کی ہے ۔
ڈگریوں کی تصدیق پر مبنی رپورٹ طلب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ جان گیا ہوں کہ بار سے مطلوبہ تعاون نہیں مل رہا، تمام بار کونسلز ایک ماہ میں رپورٹ پیش کریں ۔

واضح رہے کہ اس سے قبل پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے مقدمے میں چیف جسٹس نے سینئر قانون دان حامد خان سے کہا  تھا کہ یہ بھی دیکھیں کتنے وکیل جعلی ڈگریوں پر چل رہے ہیں، کیا وکلاء کی ڈگریوں کی تصدیق نہیں ہونا چاہئیے؟۔ پاکستان 24 کے مطابق حامد خان نے کہا کہ وکلا کی ڈگریوں کی تصدیق ہونا چاہیے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پھر عوامی مفاد کے آرٹیکل کے تحت درخواست دینی چاہیئے، آج ہی دیدیں ہم اس پر نوٹس جاری کر دیتے ہیں ۔ تاہم حامد خان نے کہا کہ ان کو درخواست دائر کرنے میں ایک دو دن لگیں گے جس کے کچھ دیر بعد چیف جسٹس نے حکم جاری کیا اور ازخود نوٹس لے کر رپورٹ طلب کر لی ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے