تم بہت بڑا ڈرامہ ہو، چیف جسٹس

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھٹہ مزدورں کے حقوق کے مقدمے کی سماعت کے دوران درخواست گزار مزدور محمد عنایت سے کہا ہے کہ تم بہت بڑا ڈرامہ ہو، تم نے اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آ کر ملاقات کی تھی، کس بھٹہ مالک سے تمہیں شکایت ہے؟ ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اینٹوں کے بھٹوں پر مزدوروں اور ان کے بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے، کارروائی کا مقصد یہ ہے کہ مزدوروں اور ان کے بچوں کو جبری مشقت سے آزاد کرایا جائے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب میں 2739 مزدوروں اور بچوں کو بازیاب کرایا ہے، پنجاب میں مزدوروں اور بچوں کو بازیاب کرنے کے لیے 15 ہزار آٹھ سو چھاپے مارے گئے ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ پنجاب میں بھٹہ مزدوروں سے جبری مشقت لینے پر 13 سو سے زائد مقدمات درج کیے گئے، ایک ہزار میں سمری ٹرائل ہو رہا ہے، یہ ان اضلاع کے سیشن ججوں کا کام ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں ۔

بھٹہ مزدور عنایت نے کہا کہ بھٹہ مالک بولا بٹ اور بھٹہ مالک عرفان گجر نے میرے بچوں اور رشتہ داروں کو بے گار کیمپوں میں رکھا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تم کیا چاہتے ہو کہ تمہارے بچوں اور رشتہ داروں کو جبری مشقت سے آزاد کریا جائے؟ ہم ڈی پی او سیال کوٹ کو حکم دیتے ہیں کہ وہ مزدور عنایت کے بچوں اور رشتہ داروں کو پیر کے روز عدالت میں پیش کرے ۔

مزدور عنایت نے کہا کہ میں چل پھر نہیں سکتا مجھے بیت المال سے وہیل چیئر دلائی جائے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں ایک بات واضح کر دوں کہ تم بہت بڑا ڈرامہ ہو ۔ وہیل چیئر کی فراہمی کا ہدایت کر دیتے ہیں ۔ عدالت میں بھٹہ مزدوروں کو واگزار کرانے کے حوالے سے سندھ اور خیبر پختون خوا کی رپورٹس بھی پیش کی گئیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے