معاملات جرگے نہیں آئین طے کرتا ہے، پشتین

ریاست اور شہری کے درمیان معاملات جرگے نہیں آئین طے کرتا ہے: منظور پشتین

فخر درانی
جرگوں کے ذریعے دو دشمنوں کے معاملات حل کرائے جاتے ہیں جبکہ ہماری نہ فوج سے اور نہ کسی اور سے دشمنی ہے ۔ ہمارے کچھ حقوق ہیں، کچھ مسئلے ہیں اور کچھ گلے شکوے ہیں اور ہم نے وہ حل کرنے ہیں، اس کے لیے شہری اور ریاست کے درمیان جرگے نہیں ہوتے ان کے درمیان آئین ہوتا ہے اور ہمارے لیے آئین مقدس ہے ۔
اس نمائندے سے ٹیلی فونک انٹرویو کے دوران منظور پشتین نے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ لاپتہ افراد کے معاملے سے لے کر، سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی پالیسیوں، فوج کے فاٹا کے لوگوں سے رویے، کو کمانڈر پشاور کے بیان، پشتونوں کی منفی پروفائلنگ، سیاستدانوں کی ان کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں، ان پر لگنے والے الزامات، سپریم کورٹ سے جڑی ان کی توقعات اور دیگر اہم معاملات پر انہوں نے بے لاگ انداز میں گفتگو کی ۔
کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ کے بیان پر منظور پشتین کہتے ہیں ان کا بیان ہمارے لیے خوش آئند بات ہے لیکن اس میں ایک مسئلہ ہے ۔ یہ جو جرگے بنائے جاتے ہیں یہ دو دشمنوں کے درمیان بنائے جاتے ہیں ۔ ہماری فوج کے ساتھ کو ئی دشمنی تو نہیں ہے، ہمارے کچھ حقوق ہیں، کچھ مسئلے ہیں اور کچھ گلے شکوے ہیں اور ہم نے وہ حل کرنے ہیں ۔ اس کے لیے شہری اور ریاست کے درمیان جرگے نہیں ہوتے ان کے درمیان آئین ہوتا ہے ۔ ہمارے لیے آئین مقدس ہے۔ ایسی بات نہیں ہے کہ ہمیں فوج سے مسئلہ ہے، ہمیں تو کراچی پولیس سے بھی مسئلہ ہے، رینجرز سے بھی مسئلہ ہے ۔ ہمیں بہت افسوس ہوا جب انہوں نے جرگہ والوں کو بھیجا تو ہم نے ان کو کہا کہ کیا یہ ہمیں اپنا شہری نہیں سمجھتے لیکن انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ ہمیں شہری نہیں بلکہ دشمن سمجھتے ہیں ۔ بہرحال ہم نے بات چیت جرگے سے جاری رکھی ہوئی ہے کیونکہ ہم مسئلے کا حل چاہتے ہیں ۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ فوج مخالف نعروں سے ان کی تحریک کو ملکی سطح پر پذیرائی کی بجائے کیا نقصان نہیں ہوگا تو منظور پشتین نے کہا کہ پشاور جلسے کے بعد انہوں نے فوج مخالف نعرے اپنی سٹیج سے لگوانا بند کر دیے ہیں، ہاں اگر جلسے کے شرکا اس طرح کے نعرے لگاتے ہیں تو ان کو روکنا میرے بس میں نہیں، تاہم میں کوشش کرتا ہوں کہ اپنے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے اپنے چاہنے والوں کو امن اور برداشت کا پیغام دوں ۔ پشتین کے مطابق کسی کو اتنا مقدس بھی نہیں بنانا چاہیے کو وہ غلطی بھی کرے تو ہم خاموش رہیں ۔ اگر اس طرح خاموش رہا جائے تو پھر غلطیوں کا سلسلہ بڑھتا جاتا ہے ۔ آج جن لوگوں کو ان غلطیوں سے مسئلہ نہیں ان کو خوش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ وہ بھی اس طرح کی غلطیوں اور غیر آئینی اقدامات سے نقصان اٹھائیں گے ۔ ہم پچھلے کئی سالوں سے احتجاج کر رہے تھے لیکن ہماری بات کسی نے نہیں سنی جب ہم نے یہ نعرہ لگایا تو ہم حساس بھی قرار دیے گئے اور ہماری بات بھی ان کے کانوں تک پہنچی ۔ منظور پشتین سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ذمے دار سابق فوجی آمر پرویز مشرف ہیں ۔ اگر وہ پرائی جنگ پاکستان میں نہ لاتے تو یہاں نہ کوئی طالبان بنتا نہ کوئی خودکش بمبار بنتا، نہ کوئی فوجی شہید ہوتا، نہ عام آدمی دہشت گردی کا شکار ہوتا اور نہ پاکستان میں دھماکے ہوتے ۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان کی پالیسیوں کو ان کے جانشینوں نے بھی جاری رکھا اور اب بھی اچھے اور برے طالبان والی پالیسی جاری ہے ۔ ان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ آج اگر کوئی گڈ طالبان ہے تو کل کو وہ بیڈ طالبان بھی بن سکتا ہے ۔
منظور پشتین نے کہا کہ ہمیں فوج کی قبائلی علاقوں میں موجودگی سے اور نہ ہی وجود سے کوئی مسئلہ ہے ہمیں اگر کسی چیز سے مسئلہ ہے تو وہ ہیں ان کے رویے ۔ اگر کسی فوجی کی عمر اللہ نے ستر سال لکھی ہے تو میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ اس کی عمر بڑھا کر سو سال کر دے ۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہم سے بھی برابری کی سطح پر آئین کے مطابق پیش آئیں اور ہمارے ساتھ کوئی غیر آئینی رویہ نہ اپنائیں ۔ فاٹا میں عام آدمی کے لیے خوف و ہراس پھیلایا ہوا ہے اور ہمیں طالبان کے ذریعے سزائیں دلوائی جاتی ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں منظور پشتین کہتے ہیں ہمارے مطالبات اگر سپریم کورٹ کے ذریعے حل ہوتے ہیں تو اس سے اچھی اور کوئی بات نہیں ہو سکتی، ہم کوئی چھوٹا سا کام بھی غیر آئینی طریقے سے نہیں کرنا چاہتے، ہم صرف آئین کی حکمرانی چاہتے ہیں ۔ پاکستان کے آئین کی جو قدر اور عزت ہمارے دل میں ہے شاید ہی کوئی رکھتا ہو کیونکہ ہماری زندگی کے تحفظ کی گارنٹی یہی آئین دیتا ہے ۔ فاٹا اور پورے پاکستان کا امن اور سکون تب ہی ممکن ہے جب یہاں پر آئین کی بالادستی ہوگی ۔ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہوگی اگر چیف جسٹس ہمارے مطالبات پر سوموٹو لیتے ہیں لیکن اگر چیف جسٹس صاحب کوئی نوٹس نہیں لیتے تو ہم خود بھی ایک دن سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔


لاپتہ افراد کے کمیشن کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے منظور پشتین سمجھتے ہیں کہ موجودہ کمیشن کا دائرہ اختیار بہت چھوٹا ہے اس کے دائرہ اختیار کو وسیع کرنا چاہیے اور صوبائی سطح پر بھی ایسا کمیشن بننا چاہیے ۔ لاپتہ افراد کی تعداد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہماری تحریک نے ایک کمیٹی بنائی ہے جو لاپتہ افراد کا ڈیٹا اکٹھا کر رہی ہے اور ابھی تک ہم نے متعلقہ حکام کو 8200 لاپتہ افراد کا ڈیٹا دیا ہے جبکہ اب تک 350 سے زائد افراد اپنے گھروں کو واپس آ چکے ہیں ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے بلکہ ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جائے اور اگر ان میں کوئی جرائم پیشہ افراد ہیں تو انہیں سزا دی جائے اور جو لوگ قصور وار نہیں ان کو رہا کیا جائے ۔ ہم سے ہیومن رائٹس والوں نے لاپتہ افراد کی لسٹ مانگی تھی لیکن میں نے اپنے لوگوں کو سختی سے منع کیا تھا کہ کسی کو لسٹ نہیں دینی کیونکہ ہم مسئلے کا حل چاہتے ہیں نہ کہ اس کو کوئی ایشو بنانا چاہتے ہیں ۔
منظور نے کہا کہ پشتون تحفظ موومنٹ کو قومی سطح کی بجا ئے پشتونوں تک ہی محدود رکھنے کی ایک وجہ ہے ۔ یہاں پشتونوں کی ایک خاص قسم کی پروفائلنگ ہوئی ہے، ان کو گندے لوگ سمجھا جاتا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ یہ بات درست ہے کہ کل کو ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے لیکن یہ جو پشتونوں کی پروفائلنگ بنی ہوئی ہے وہ نہیں مٹے گی ۔ پشتونوں کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا ہے کہ یہ پر تشدد لوگ ہیں ۔ ان کے بارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ خواتین کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتے لیکن ہم نے اپنے جلسوں میں یہ ثابت کیا کہ نہ صرف پشتون پرامن لوگ ہیں بلکہ ان میں خواتین کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جاتی ہے جتنی کہ مردوں کو ۔ ہماری تحریک کا نام پشتون تحفظ موومنٹ رکھنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ پشتونوں کی منفی پروفائلنگ ختم ہو جائے ۔ اپنی اس جدوجہد میں شمولیت کے لیے باقی قومیتوں کو اور قومی سطح پر لوگوں کو دعوت نہ دینے کے سوال پر منظور پشتین سمجھتے ہیں کہ یہ بات ان کے ذہن میں ہے اور اس وقت وہ اپنی تحریک کی تنظیم سازی ملکی سطح پر کر رہے ہیں جیسے ہی یہ کام مکمل ہو گا وہ اپنی تحریک کو ملکی سطح پر پھیلائیں گے اور تمام علاقوں کے لوگوں سے رابطہ کریں گے ۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ ان کے مطالبات اگر تسلیم کر لیے جاتے ہیں تو اس کے بعد ان کا کیا لائحہ عمل ہوگا تو اس کے جواب میں پشتین کہتے ہیں کہ اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے ہمارا بھی اعتماد بڑھے گا اور ہم بھی سمجھیں گے کہ ہم ان کے پرائے نہیں بلکہ اپنے ہیں اور یہ فوج ہماری بھی فوج ہے ۔ ہم نے تو فاٹا سے چیک پوسٹوں کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کبھی نہیں کیا ہم نے صرف اتنا کہا کہ چیک پوسٹوں پر ہمارے ساتھ صرف رویہ ٹھیک کیا جائے ۔ ہم کسی فوجی آپریشن کے خلاف نہیں ۔ ایک کی بجائے دس آپریشن کریں لیکن عام عوام پر بمباری نہ کی جائے ۔ شروع شروع میں ہمارے مطالبات پر کچھ عمل درآمد ہوا لیکن اب پھر سے اس کی رفتار کم کر دی گئی ہے ۔
سیاسی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف جماعتوں کے سینئر رہنماؤں سے جب ان کی ملاقاتیں ہوئی تو انہیں بہت مایوسی ہوئی۔ ہم نے ایک بات ان کو واضح کی تھی کہ ہمارا انتخابی سیاست کا کوئی پروگرام نہیں اور نہ ہی کوئی میرا مستقبل میں سیاست میں آنے کا ارادہ ہے ۔ علی وزیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا اس نے اپنے خاندان کے سترہ افراد کھوئے ہیں اور بعض اوقات جب وہ زیادہ جذباتی ہو جاتے ہیں تو ہم بھی ان کو روکنے کے قابل نہیں رہتے ۔ ہم معاشرے میں کوئی نفرت نہیں بڑھانا چاہتے ہم تو محبت کا پیغام دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ معاملات خوش اصلوبی سے ہی حل ہو جاتے ہیں ۔
جلسوں کے انعقاد کے لیے بیرونی فنڈنگ کے الزامات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم جہاں بھی جلسہ کرتے ہیں وہاں کے منتظمین سے یہ بات پہلے کرتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے پاس کوئی پیسہ نہیں اس لیے اپنے انتظامات آپ کو خود ہی کرنا ہوں گے، چاہے اس کے لیے چندہ لیں یا کسی سے کوئی قرض لیں ۔ مجھے اندازہ ہے کہ میری پہلی غلطی آخری ہوگی اور جتنے بڑے مقصد کے لیے ہم آواز اٹھا رہے ہیں بیرونی فنڈنگ تو ہماری پوری تحریک کو ختم کر دے گی ۔ میں تو اپنے چند قریبی دوستوں کے علاوہ کسی ان جان بندے سے رابطہ تک نہیں کرتا کہ کہیں کوئی غلط لوگ ہمارے قریب نہ آ جائیں ۔ میں تو اپنا موبائل ہمیشہ بند رکھتا ہوں صرف سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لیے تھوڑی دیر کے لیے موبائل استعمال کرتا ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہماری یہی کوشش ہوگی کہ آئین پاکستان کے مطابق ہمارے مسائل حل ہو جائیں لیکن اگر ہماری ہر کوشش کے باوجود بھی ہماری بات کہیں نہ سنی گئی تب ہم جا کر اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے ۔

فخر درانی سینئر صحافی اور اسلام آباد میں انگریزی روزنامے ’دی نیوز‘ کے انوسٹی گیشن سیل سے وابستہ ہیں ۔

مزید دیکھیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے