جسٹس فائز بمقابلہ چیف جسٹس

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی نے چیف جسٹس ثاقب کے پشاور میں عدالت سے اچانک اٹھ کر جانے اور عدالتی بنچ ازسر نو تشکیل دینے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

پاکستان 24 کے پاس موجود دو صفحات کے نوٹ میں جسٹس قاضی فائز نے تحریر کیا ہے کہ پشاور میں عدالت سے اچانک اٹھ کر جانے اور بعد ازاں مجھے آگاہ کئے بغیر بنچ کی تشکیل میرے لیے بہت حیران کن اور مجھے اس پر شدید تحفظات ہیں ۔

جسٹس قاضی فائز نے لکھا ہے کہ اس طریقے سے بنچ کی تشکیل نو غیر ضروری ہے جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں، جبکہ مقدمہ ابھی عدالت میں سنا جا رہا ہو ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس طرح کرنے سے نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچایا گیا جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔

جسٹس فائز نے عوامی مفاد کے مقدمے میں ہیومن رائٹس سیل کے ڈائریکٹر کی جانب سے عدالتی اختیار استعمال کرنے پر سوال اٹھایا ہے اور لکھا ہے کہ چیف جسٹس کی منظوری بھی سپریم کورٹ کے حکم یا فیصلے کا متبادل نہیں ہو سکتی ۔

واضح رہے کہ بدھ کے روز چیف جسٹس ثاقب نثار پشاور میں مقدمات کی سماعت کے دوران اچانک بنچ سے اٹھ گئے تھے اور بعد ازاں اس بنچ میں جسٹس فائز کو شامل نہ کیا تھا ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے