انصاف کیلئے دوڑتی پھرتی لڑکی

حصول انصاف کے لیے بھاگتی ایک لڑکی کی کہانی

ابراھیم کنبھر
بارہ مئی کو چیف جسٹس آف پاکستان کا پروٹوکول اور فول پروف سیکیورٹی پر مشتمل قافلہ جوں ہی سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی حدود میں داخل ہوا تو ایک لڑکی ہاتھ میں بینر اٹھایے ادہر ادہر بھاگتی نظر آئی، ساتھ ہی ایک لیڈی پولیس اہلکار اس لڑکی کو روکتے دکھائی دی۔
احتجاج کرنے والی اس لڑکی کی کوشش تھی کہ وہ کسی بھی طرح چیف جسٹس کی گاڑی کے سامنے آئے،چیف جسٹس کی نظر اس پر پڑے تاکہ وہ خود پر بیتے ظلم کی داستان کی فریاد منصف اعلیٰ کو سنا کر انصاف مانگ سکے،اس ملک میں انصاف لینا کتنا آسان ہے اس کا ذکر بعد میں لیکن پہلے ذکر اس لڑکی کا کہ وہ کون ہے؟ اس پر کیا بیتی ہے اور اب وہ کیا چاہتی ہے؟
یہ اُم رباب ہے،جس کا تعلق سندہ کے شھر میہڑ سے ہے،اُم رباب خود قانون کی طالب علم ہیں،اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ معاشرے میں انصاف دلانے کے لیے عملآَ کوشش کریں گی،لیکن خود سے ہوئے ظم و ناانصافی اس ننھی بچی کو ابھی سے یہ بات تو سمجھا دی ہے کہ اس ملک میں انصاف لینے کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں،شاید اسلیئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وہ چیف جسٹس آف پاکستان کے فول پروف سیکیورٹی کے قافلےمیں کود پڑی۔اس نے یہ تک نہیں سوچا کہ درجنوں گاڑیوں کے پروٹوکول و سیکیورٹی میں چلنے کے عادی چیف جسٹس آف پاکستان کے قافلے کی کوئی گاڑی اسے ٹکر بھی مار سکتی ہے، کوئی حادثہ ہو سکتا ہے،یہ بھی ہو سکتا تھا کہ سیکیورٹی والے وی وی آئی پی قافلے میں رخنہ ڈالنے پر گولی چلادیتےیا کوئی اہلکار اسے دہشتگرد سمجھ کر گولی سے اڑا بھی سکتا تھا۔
اُم رباب کے والد،چچا اور دادا کو ایک ہی دن، ایک ہی جگہ پر قتل کیا گیا تھا،وہ اس سال کی سترہ جنوری کی تاریخ تھی جب میہڑ میں تین قتل ہوئے،قاتل پارٹی لینڈ کروز میں آئی تھی، سب کو پتا ہے کہ وہ گاڑی کس کی تھی لیکن اگر پتا نہیں تو بس پولیس کو نہیں۔اُم رباب کو اپنے بابا،دادا اور چچا کے قاتلوں کی تلاش ہی نہیں ان کو قانون کو کٹھڑے میں لانے کی آس بھی ہے۔رباب کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے میرے بابا کو قتل کی دہمکی دی تھی،قاتل بھی وہی ہیں، لیکن پولیس ان پر ہاتھ نہیں ڈال رہی۔مقتولین کے ورثاء کا الزام یہ بھی ہے کہ اس قتل میں پیپلز پارٹی کے ایم پی اے سردار چانڈیو اور برھان چانڈیو ملوث ہیں۔


اسی رباب نے حصول انصاف کی خاطر ملک چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاج کیا،یہاں تک کہ مقتول خاندان کے ورثاء کئی دن تک اسلام آباد نیشنل پریس کلب کے سامنے بھی احتجاج کرتے رہے لیکن حکمران پارٹی تو کیا اپوزیشن جماعت میں سے بھی کوئی ان کے پاس نہیں آیا،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل کے پاس ایک درخواست اب بھی موجود ہے، جس پر رواجی نوٹس جاری بھی ہو چکا ہے۔لیکن سیاسی مقدمات سے فراغت نہ ہونے کی وجہ سے شاید قتل،دہشتگردی، اغوا کے ایسے مقدمات جن کے پیچھے کئی بااثر ہوتے ہیں ان کے لیے بھی چیف صاحب کے پاس سؤ موٹو کا وقت نہیں۔ اس نظام عدل پر کسی کو یقین کیوں کر آئے جہاں دن دہاڑے قتل ہوں اور قاتل آزاد گھومتے پھرتے رہے ہوں،قانون کے رکھوالوں کو قاتلوں پر ہاتھ ڈالنے کی جرعت نا ہو، اس کا سبب اور کچھ نہیں بس یہ ہی ہے کہ وہ سب ان قانونسازوں کے عزیز یا پھر باجماعت ہیں،رباب جس ناانصافی کے خلاف سراپاء احتجاج ہے اس کا قصہ بھی ایسا ہی ہے،تہرے قتل کا الزام جن لوگوں پر ہے وہ بھی سندہ کی حکمران پارٹی کے عہدیدار ہیں اس لیے پولیس نے انہیں گرفتار کرنا تو دور کی بات ہے عدالت سے پہلے ہی الزام سے بری کردیا ہے۔
قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی، بلا تعطل و تاخیر انصاف، شہریوں کی بنیادی حقوق اور ان کی برابری،قواعد و ضوابط، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں یا صرف کتابوں میں پڑھنے والی کہانیاں، انصاف کتنا سستا اور بلا تعطل و تاخیر ملتا ہے وہ کوئی ٹنڈوبھاول کی متاثرہ خاتون مائی جندو سے پوچھ سکتا ہے، جس کے خاندان کے آٹھ جوان بیٹوں کو ریاست کے رکھوالوں نے زمیں ہتھیانے کے لیے قتل کردیا تھا، مائی جندو قاتلوں کو سزا دلوانے کے لیے مسلسل سراپاء احتجاج رہی، جب انصاف کی کوئی امید نہیں رہی تو مائی جندو کی دو جوان بیٹیوں نے خود کو حیدرآباد پریس کلب کے سامنے تیل چھڑک کر آگ لگادی، دو خواتین کے لاشوں پر قانون کی آنکھ کھلی اور میجر ارشد کو پھانسی کی سزا ملی،انصاف کے معنیٰ پوچھنی ہو تو سندہ کے کسان منوں بھیل سے پوچھی جائے جس کے پورے خاندان کو ایک زمیندار عبدالرحمان مری نے اغوا کرکے باندی بنا دیا، سول عدالت سے سپریم کورٹ تک پوری عدالتی مشینری منوں بھیل کے ساتھ کھڑی تو ہوئی لیکن شاید دکھاوے کے لیے کیوں کہ منوں بھیل کے خاندان کا ایک بھی فرد آج تک بازیاب نہیں ہو سکا۔ انصاف کے حصول کے لیے حیدرآباد پریس کلب کے سامنے ٹنڈوباگو کے عارب لوہار نے بھوک ہڑتال کا عالمی رکارڈ قائم کیا لیکن اس کے دوست رفیق کھوسو کا قاتل گرفتار نہیں ہوا۔
اُمہ رباب کا انصاف کے لیے چیخنا چلانا اور بھاگنا دوڑنا نہ صرف نظام عدل کے منہ پر ایک تماچہ ہے لیکن اس سرداری نظام کے خلاف بھی بغٖاوت کا اعلان ہے جس کے ہاتھوں سیکڑوں ہزاروں نوجوان مارے جا چکے ہیں،رباب کو امید تو یہ ہی ہے کہ کالے شیشے والی گاڑی سے چیف جسٹس کی نظر اس پر پڑی ہوگی اور وہ سیاسی مقدمات میں سے ایک لمحہ نکال کر اس مقدمہ پر توجہ دیں گے اور سؤموٹو لیکر مجھے انصاف دیں گے،لیکن اس لڑکی کا عزم یہ ہے کہ اس نے قسم اٹھا رکھی ہے جب تک میرے خاندان کے قتل میں ملوث سردار کو جیل نہیں بھیجوں گی تب تک حصول انصاف کے لیے میری جدوجھد جاری رہے گی۔

ابراہیم کنبھر اسلام آباد میں مقیم سینئر صحافی ہیں ۔ سندھی زبان کے بڑے میڈیا گروپ کاوش سے منسلک ہیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے