پشتون موومنٹ اور جرگہ مذاکرات

پشاور سے عظمت گل/ نمائندہ خصوصی

پشتون تحفظ موومنٹ، جرگہ نمائندے اور صوبائی وزیر نے ایک پریس کانفرنس کی ہے جس میں میڈیا کے سامنے اپنی اپنی رائے پیش کی گئی ہے _

پشتون تحفظ مومنٹ کے لیے تشکیل دیے گئے جرگے کی مزاکرات کے بعد پریس کانفرنس میں خان مرجان نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کے دوستوں پر یقین ہے کہ وہ ریاست کو تکلیف دینی والی زبان نہیں استعمال کریں گے، پی ٹی ایم کی زبان صرف ان کی نہیں سب پشتونوں کی زبان ہے _ جرگہ نمائندہ خان مرجان کا کہنا تھا کہ جس سے دشمن فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے ان کی امیدوں پر پانی پھیر گیا _

پشتون تحفظ موومنٹ کے نمائندے محسن داوڑ نے کہا کہ ملک کے شہری کی حیثیت سے ہمارے اور ریاست کے بیچ جرگہ بنتا نہیں، یہ طے ہوا تھا کہ جرگے کے دوران ہمارے جلسے وغیرہ کو روکا نہیں جائے گا لیکن ہمارے لوگوں کو گرفتار کیا گیا، منظور پشتین جب کراچی جلسے کے لیے جا رہے تھے تو ان کو بہت بار روکا گیا، منظور پشتین کو ہراساں بھی کیا گیا اور تشدد بھی کیا گیا_

محسن داوڑ نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ جرگہ کہے کہ ریاست نے تشدد کر کے وعدہ خلافی کی، ہمارا مطالبہ مانا گیا اور کہا گیا کہ وعدے کی خلاف ورزی ہوئی، محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں پشتون آباد ہیں وہاں ان کے الگ مسائل ہیں، ہم دو دن میں کچھ نام دینگے جو ہر علاقے سے پٹھانوں کے مسائل پیش کریں گے،  پھر ایک نیا جرگہ قومی سطح کا تشکیل دیا جائے گا _

محسن داوڑ نے کہا کہ پشتونوں کے مسائل ہر جگہ پر ہیں اس لیے قومی جرگہ ہونا چاہیے، میں اپیل کرتا ہوں وزیراعظم اور آرمی چیف سے کہ قبائلی علاقوں میں ٹارگٹ کلنگ شروع ہے اسے روکا جائے، قبائل آج اسلحے سے پاک ہیں _

صوبائی وزیر شاہ فرمان نے اس موقع پر کہا کہ ہمارے اختیار میں یہ نہیں تھا کہ روس افغانستان آیا اور نہ امریکہ کے آنے پر اختیار ہے، پاکستان کے دشمنوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ہیں، ہمیں دہشتگردی کی وجہ سے جو نقصان اٹھانا پڑا اس کے ازالے کے لیے کوئی پیکیج نہیں دیا گیا، جرگہ اعتماد سازی کا کردار ادا کررہا ہے _ شاہ فرمان کا کہنا تھا کہ صحافی سوال کرتے وقت خیال رکھیں کہ زیادہ سینسیٹیو سوال نہ کریں _

متعلقہ مضامین