ڈیم فنڈز میں اضافہ ہو گیا

دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کیلئے فنڈ کیس کی سماعت ہوئی ہے جس دوران عدالت کو اٹارنی جنرل نے بتایا ہے کہ فنڈز میں رقم کسی بھی بنک کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے، مختلف بنکوں میں جمع ہونے والی رقم مرکزی فنڈ میں منتقل ہوگی۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے عدالت کو بتایا ہے کہ تمام بنکوں میں فنڈز کیلئے قائم اکائونٹ نمبر آویزاں کئے جائیں گے، فنڈز کے حوالے سے شکایات کا ازالہ سٹیٹ بنک کرے گا، تمام بنک اپنے بجٹ سے فنڈز سے متعلق ہیلپ لائن قائم کرینگے، فنڈ میں عطیات اے ٹی ایمز کے ذریعے بھی منتقل کئے جا سکتے ہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سٹیٹ بنک عطیات کے حوالے سے ہر گھنٹہ بعد رجسٹرار سپریم کورٹ کو آگاہ کرے گا، عوام صرف بنک عملے کو ڈیم فنڈ کا بتائیں گے، باقی کام عملہ خود کرے گا ۔

پیمرا کے چیرمین پیمرا عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈ کیلئے بنائے گئے اشتہارات کا جائزہ لیا ہے، ٹی وی چینل اور مالکان اور کیبل آپریٹرز سے بات ہو گی ہے۔چیرمین پیمرا نے کہا کہ اشتہار ہمیں ملتے ہی تشہیر کروا دیں گے، ایف ایم ریڈیو بھی اشتہار چلائے جائیں گے ۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ پرائیوٹ موبائیل نمبرز سے بھی میسج آرہے ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فراڈیے سرکاری سروس سے پہلے ہی سرگرم ہوگئے ہیں ۔ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کےڈائریکٹر نے بتایا کہ فراڈ کرنے والے نمبرز رپورٹ ہونے پر بلاک کر دیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اکاوئنٹ نمبر ہر بینک کے لیے ایک ہی ہونا چاہیے تھا اس سے فراڈ کے امکانات کم ہوں گے ۔ گورنر اسٹیٹ بنک نے بتایا کہ بینکنگ سسٹم اپ گریڈ کرنے میں وقت لگے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کل تمام بینکوں کے مالکان کو طلب کر لیتے ہیں، بینک عملے پر زیادہ اعتماد بھی اچھا نہیں ہوتا، بینکوں کے کئی فراڈ کے مقدمات ہمارے سامنے آتے ہیں۔

گورنر نے کہا کہ اصل مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہے، فراڈ کو سو فیصد روکنا ممکن نہیں، فوج سمیت کئی بینکوں نے بھی عطیات کا اعلان کیا ہے۔

کیس کی مزید سماعت 30 جولائی تک ملتوی کر دی گئی ۔

متعلقہ مضامین