سیکورٹی محکموں پر سینٹ میں تنقید

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینٹ میں قانون سازوں نے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں ۔ ایوان میں بات کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ ساڑھے تین لاکھ سپاہ کے زریعے اگر کروڑوں ووٹرز کی نگہداشت کی جا سکتی ہے ،تو چند مٹھی بھر دہشت گردوں پر کیوں نظر نہیں رکھی جا سکتی ؟ اس کا جواب ملنا چاہیے۔
سینیٹ میں ہارون بشیر بلور کے دہشت گرد حملے میں قتل کی مذمت کرتے ہوئے سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ ہارون بلور پر حملہ انفرادی حادثہ نہیں ہے ، یہ ایسے حادثوں کا تسلسل ہے جس سے پاکستان کے سیاسی رہنماؤں کو واسطہ پڑا ۔ یہ حملہ ان پالیسیوں سے جڑا ہے جو ہم نے خود اختیار کی ۔ آج جب ہم ہر قسم کا احتساب کر رہے ہیں ، تو احتساب کی فہرست میں یہ نکات بھی شامل کر دیئے جائیں کہ پاکستان کو اس عفریت کے حوالے کس نے کیا ؟ اس کے کیا نتائج نکلے ؟ کسی فرد کی بدعنوانی اور کوتاہی سے ملک کو تو نمک برابر نقصان ہوا ، لیکن جو نقصان ہمیں دہشت گردی کے نظریے کو اختیار کرنے میں پہنچا اس کو تمام عہدوں پر بیٹھے افراد نے تسلیم کیا ۔ ہمیں دہشت گردی سے تعلق رکھنے والی افراد کے ساتھ تعلق توڑنا چاہیے تھا ۔ ان دہشت گردوں کو مین سٹریم میں شامل کرنے کا جو فلسفہ دیا گیا ، اس کا نتیجہ ہم فیض آباد پل اور پشاور میں دیکھ چکے ہیں ۔ اس مین اسٹریمنگ کے فلسفے کے باعث ایک سیاسی رہنما پر دینی مدرسے میں جوتا اچھالا گیا ۔ پرویز رشید نے کہا کہ ووٹ دینے والوں پر نظر رکھنے کے لئے ساڑھے تین لاکھ سپاہ پولنگ اسٹیشن پر موجود ہوں گے ۔ ان اہلکاروں کے پاس سیشن جج کے اختیارات ہوں گے ، جو اس وقت ہی عدالت لگا کر سزا دے دیں گے ۔ہم نے تو دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ، ان کا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا، انھیں بھاگنے پر مجبور کر دیا ۔ دہشت گرد اب مٹھی بھر ہی بچے ہیں، جو سرحد پار بھاگ گئے ۔ پرویز رشید نے کہا کہ پرویز رشید نے کہا اگر ہم اس قابل ہو گئے ہیں کہ ہر ووٹر پر نظر رکھ سکیں ۔ اگر کروڑوں ووٹرز کی نگہداشت کی جا سکتی ہے تو چند مٹھی بھر دہشت گردوں پر کیوں نظر نہیں رکھی جا سکتی ؟ اس کا جواب ملنا چاہیے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس الیکشن میں کوئی سیکیورٹی نہیں، نہ ہی مقابلے کے برابر مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں ۔ جس ماحول میں الیکشن ہو رہے ہیں اس پر سوالیہ نشان نہیں اٹھنا چاہے ۔ لیکن سوالیہ نشان اٹھ رہے ہیں کہ سب کو الیکشن لڑنے کے لیے برابری کے مواقع نہیں مل رہے ۔ بار بار وارننگ کے باجود سیکورٹی کی عدم فراہمی تشویشناک ہے۔ شیری رحمان نے انکشاف کیا کہ دو روز سے مشکوک گاڑی ان کا پیچھا کر رہی ہے ۔
سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ ہم اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے جنازے اٹھا رہے ہیں، یہ پالیسیاں بنانے والے غلط تھے ۔ یہ حملے روکنا جن کی ذمہ داری تھی ان سے تو سوال پوچھنا ہی گناہ ہے ۔ الیکشن کمیشن اور خفیہ ایجنسیاں ان حملوں کی ذمہ دار ہیں ، کیونکہ وہ اس کی تنخواہ لیتے ہیں۔سینیٹر اعظم موسی خیل نے کہا کہ ملک میں ۳۱ ایجنسیاں ہیں ، لیکن دہشت گرد واقعات ہو رہے ہیں۔ حالات بہتری کی طرف نہیں بربادی کی طرف جا رہے ہیں ۔ پسند نا پسند کی بنیاد پر اس ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے
سینیٹر چوہدری تنویر نے کہا کہ سیاستدان سے ایک خط پر سیکورٹی واپس لے لی گئی ۔ لیکن دو سیاسی یتیموں کو رینجرز کی سیکورٹی فراہم کی جا رہی ہے ۔

سینٹ سے نوشین یوسف کی ڈائری

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے