نواز شریف نے ملاقاتیوں کو کیا بتایا

راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر سے آج جمعرات کے روز کئی افراد نے ملاقاتیں کی ہیں جن میں ان کے اہل خانہ اور پارٹی رہنما شامل ہیں ۔ پاکستان بار کونسل کے نمائندہ وفد نے وکیل کامران مرتضٰی کی سربراہی میں ملاقات کی ۔ بعد ازاں پاکستان ٹوئنٹی فور سے گفتگو کرتے ہوئے کامران مرتضی نے بتایا کہ ان کے ہمراہ سینئر وکلا یاسین آزاد اور خالد جاوید بھی تھے اور انہوں نے بطور مبصر حالات جاننے کیلئے یہ ملاقات کی ۔ کامران مرتضی نے بتایا کہ نواز شریف اور مریم نے صرف ایک بدتمیزی کی شکایت کی جب ان کو جہاز میں خاتون اہلکار نے پش کیا اور ان کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھڑائے ۔

کامران مرتضٰی نے کہا کہ نواز شریف نے جیل کمرے میں تعفن اور لیٹرین میں غلاظت کی شکایت کی ۔ کامران مرتضی نے کہا کہ ہمارے اور سول سوسائٹی کے دباؤ کی وجہ سے جیل ٹرائل کا نوٹیفیکیشن واپس لینا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مریم کو الگ الگ قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور دونوں کے کمروں میں 500 میٹر کا فاصلہ ہے اور دونوں نے آج پہلی بار ایک دوسرے کو ملاقات کے دوران دیکھا ہے ۔ کامران مرتضی نے کہا کہ نواز شریف ڈٹے ہوئے نظر آئے ۔

یاد رہے کہ نوازشریف اور مریم نواز کا آج اڈیالہ جیل میں چھٹا روز ہے جب کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدرکو جیل میں 11 دن ہو گئے۔ جیل میں آج قیدیوں سے ملاقاتوں کا دن ہے ۔ ان ملاقاتوں کا وقت صبح 8 بجے سے شام چاربجے تک رکھا گیا ہے ۔ ہرملاقاتی کو صرف 20 منٹ ملاقات کی اجازت دی گئی ہے ۔

جیل حکام کا کہنا تھا کہ تینوں قیدیوں سے ملاقاتیں جیل مینول کے مطابق کرائی جارہی ہیں، ہرملاقات سے قبل نوازشریف کی مرضی پوچھی جا رہی ہے، ملاقات کے دوران کسی کو موبائل فون لے جانے کی اجازت نہیں ۔ مریم نواز کا بیٹا جنید صفدر ملاقات کے لیے شریف فیملی کے 8 افراد کے ہمراہ لاہورسے آیا ۔

جیل حکام کی جانب سے نواز شریف کے ملاقاتیوں کی فہرست مرتب کی گئی تھی جس میں شریف خاندان کے 17 ارکان،  آصف کرمانی، جاوید ہاشمی، پرویزرشید اور ایاز صادق سمیت 23 لیگی رہنما اور(ن) لیگ کے 11 وکلاء بھی شامل تھے تاہم جیل حکام نے نواز شریف اورمریم نوازسے ان کے وکلا کی ملاقات منسوخ کردی ہے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے