دھاندلی زدہ الیکشن کے نتائج میں تاخیر

ملک میں عام انتخابات کے ایک روز بعد بھی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے حلقوں سے نتائج سامنے آ رہے ہیں ۔ 25 جولائی کی شام سے ہی صرف دو فیصد نتائج کی بنیاد پر تحریک انصاف کی کامیابی کا ٹرینڈ چلایا گیا ۔ عام انتخاب میں ووٹنگ ختم ہوئے 17 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے لیکن الیکشن کمیشن کی جانب اب تک قومی اسمبلی کے چند ہی حلقوں کے نتائج کا باقاعدہ اعلان کیا گیا ہے ۔

متعدد سیاسی جماعتوں نے جہاں نتائج کے اعلان میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے وہیں یہ بھی کہا ہے کہ انھیں انتخابی عمل کے دوران مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ن لیگ نے انتخابات کے سرکاری اعلان سے قبل ہی دھاندلی کے الزامات کے تحت نتائج تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے نتائج کے اعلان میں تاخیر کو ناقابل معافی قرار دیا ہے ۔ ن لیگ نے آج اپنی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا ہے جبکہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ آل پارٹیز کانفرنس بلائیں گے ۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف نے لاہور میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا اور کہا کہ ان کی جماعت کے امیدواروں کے انتخابات کے نتائج کو روکا جا رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ دھاندلی ہو رہی ہے۔  شہبار شریف نے کہا کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہم ان نتائج کو مسترد کرتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘میں معاملات آگے بڑھانے والا آدمی ہوں اور اگر میں بھی یہ بات کہہ رہا ہوں تو سوچیں بات کہاں تک پہنچ چکی ہے۔’

شہباز شریف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری کیے جانے والے ایک پیغام میں بھی کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن 2018 کے عام انتخابات کے نتائج بڑے پیمانے پر ہونے والی دھاندلی کی وجہ سے رد کرتی ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ایجنٹوں کو الیکشن کمیشن کے فارم 45 نہیں دیے گئے، نتائج روک لیے گئے اور پولنگ ایجنٹوں کی غیر موجودگی میں ووٹ گنے گئے۔ یہ ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے۔‘

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے