ڈیم کی زمین پر بحریہ ٹاؤن کا قبضہ

سپریم کورٹ نے راولپنڈی کے داڈوچہ ڈیم کی عدم تعمیر کا نوٹس لے لیا ۔ عدالت نے پنجاب حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بتایا جائے اتنا عرصہ گزر چکا ہے ابھی تک ڈیم کی تعمیر شروع کیوں نہیں کی ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ نے ایک الگ مقدمے کی سماعت کے دوران دادچہ ڈیم کی عدم تعمیر کا نوٹس لیا ۔ چیف جسٹس کے پوچھنے پر وکیل اعتزاز احسن نے بتایا کہ ڈیم کیلئے مختص زمین پہلے بحریہ ٹاؤن اور پھر ڈی ایچ اے نے خریدی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ ہر جگہ پر بحریہ ٹاؤن کیوں آ جاتا ہے؟ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل اعتزاز احسن نے جواب دیا کہ بحریہ سائٹ ون پر تھا اور اس کے بدلے بحریہ ٹاؤن نے سائٹ ٹو پر ڈیم بنانے کی پیشکش کی تھی، اعتزاز احسن نے بتایا کہ یہ ڈیم کورنگ نالے پر ہے اور سپریم کورٹ نے سائٹ ٹو پر ڈیم بنانے کی بات نہیں مانی، اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے سائٹ کی اصل جگہ پر ہی ڈیم بنانے کا حکم دیا تھا ۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ ابھی تک ڈیم بنا کیوں نہیں؟۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ پنجاب حکومت کہتی ہے ہمارے پاس پیسے ہی نہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میٹرو بس اور اورنج ٹرین کے لئے پیسے ہیں اور ڈیم کے لئے نہیں، ان منصوبوں کے بغیر زندہ رہا جا سکتا ہے مگر پانی کے بنا نہیں ۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا لاہور اور ملتان میٹرو نہیں بننا چاہیے، یہ سہولت ہے اور سہولت سے زیادہ زندگی اہم ہے ۔ بحریہ ٹاؤن کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ بحریہ ٹاون بارہ سے پندرہ ماہ میں مکمل ڈیم بنانے کے لئے تیار ہے، پنجاب حکومت جو کام ہو چکا ہے اس کا فائل ورک ہمیں دے دے، ڈیم پر آنے والے اخراجات کا میکینزم بنایا جائے، ڈیم کی حدود میں آنے والے گاؤں کے لئے متبادل ماڈل ولیج بنا کر دیں گے ۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ لینڈ ایکوزیشن پنجاب حکومت کر کے دے ۔ عدالت نے سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ۔

متعلقہ مضامین