چیف جسٹس اور نیا وزیراعظم

سپریم کورٹ میں بنی گالا تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان سے وابستہ توقعات کا اظہار کیا ہے ۔

عدالت عظمی کے تین رکنی بنچ کے سامنے سروے آف پاکستان کے سربراہ پیش ہوئے اور بتایا کہ کچھ ریکارڈ نہیں ملا ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریکارڈ مکمل طور پر درست نہیں ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ بنی گالا سمیت کورنگ نالے سے متعلق سروے کا ریکارڈ آج ہی درست کرلیا جائے، محکمہ ریونیو اور سروے آف پاکستان آج ہی مل بیٹھ کر ریکاڑد درست کرلیں  ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب عمران خان وزیر اعظم بننے جارہے ہیں وہ خود اس معاملے کو دیکھیں، عمران خان خود مثال قائم کریں گے تو لوگ بھی ان کو فالو کریں گے، اب عمران خان کی حکومت بننی ہے وہ لوگوں کے لئے مثال بنیں۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق وکیل بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرگ سے یقین دلاتا ہوں کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں گے۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ابھی عمران خان وزیر اعظم نہیں بنے۔ پھر کہا کہ ھمارے چیف جسٹس سر رشید کے دور میں بھی ایک ایسا وقت آیا تھا ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سروے آف پاکستان اور محکمہ مال آج ریکارڈ درست کیے بغیر نہیں جائیں گے، ریکارڈ درست نہ ہونے پر کیس ملتوی نہیں کئے جاسکتے، کسی پٹواری کو حق حاصل نہیں کہ وہ بغیر کسی جواز کہ ریکارڈ میں تبدیلی کرے، اگر کسی پٹواری سے غلطی ہوئی ہے تو وہ درست کرلے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سروے آف پاکستان نے علاقے میں ساڑھے چار کلومیٹر تک سروے کر چکا ہے، اگر اس علاقے میں ایکشن کا حکم دیا جائے تو بہتر ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ اشوز پر وقت دے دیتے ہیں کیونکہ ابھی نئی حکومت آنی ہے، سروے آف پاکستان نے 6 ھفتے کاوقت مانگا ہے۔ اس دوران ریکارڈ کی درستی اور سروے پر کام مکمل کر لے ۔

چیف جسٹس نے سرویئر جنرل پاکستان سے کہا کہ آپ کے ادارے کی کارگردگی سے مطمئن نہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ دشوار علاقہ ہے 4.5 کلومیٹر کی حد بندی کر چکے ہیں ۔ ممبر ریونیو بورڈ بھی عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی حکم کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا گیا جس پر محکمہ مال کے ممبر نے بتایا کہ سات علاقے ہیں ابھی کچھ وقت لگے گا۔پاکستان ٹوئنٹی فور کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ 7 کی بجائے 22 علاقے بھی ہوں تو پھر کیا ہے ، عدالتوں میں کاغذات دیکھنے اور چائے پینے نہیں آتے ، چیف جسٹس نے کہا کہ سروئیر جنرل کے ساتھ مل کر شام تک ریکارڈ ٹھیک کریں ، ریونیو ریکارڈ میں کوئی بھی ردوبدل کا مجاز نہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان بھی جو ریکارڈ دینا چاہتے ہیں دے دیں، اگر کچھ واجبات عمران خان کے ذمہ ہیں تو وہ بھی ادا کریں ۔ بابر اعوان نے کہا کہ جی بالکل، وزیراعظم لوگوں کے لئے مثال بنیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا مطلب ابھی تو وہ وزیر اعظم نہیں بنے ۔

متعلقہ مضامین