طاقتور محکمہ اور کمزور پاکستان

اظہر سید

پاکستان کی مسلح افواج طاقت، کامیابیوں اور وسائل کے حساب سے اپنی تاریخ کے شاندار دور سے لطف اندوز ہو رہی ہیں ۔فوج نے جنرل ضیا الحق کے دور میں بھی طاقت اور اختیارات کے انگور سے کامیابیوں کی شراب کشید کی تھی اور عالمی سپر پاور سوویت یونین کے تاروپود بکھیر دئے تھے اور پوری دنیا سے بے پناہ عزت اور احترام بھی حاصل کیا تھا لیکن وہ طاقت حاصل نہیں تھی جو اس وقت حاصل ہے۔اس پوری دنیا میں اسلامی بلاک اور امریکی قیادت میں مغربی ممالک شامل تھے لیکن فوج کی طاقت میں عرب دنیا کی افرادی قوت اور امریکی فوجی ٹیکنالوجی شامل تھی۔جنرل مشرف کے دور میں افغان جنگ کی ابتدا میں فوج مزے میں تھی بین القوامی برادری فراخدلانہ مالی معاونت فراہم کر رہی تھی لندن اور پیرس کلب کے قرضے ری شیڈول ہو رہے تھے اور عالمی مالیاتی اداروں نے اپنی زنبیلیں کھول دی تھیں اور راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا لیکن یہ ہنی مون صرف تین چار سال ہی چل سکا۔
امریکیوں کو جب احساس ہوا پاکستانی جنرل ان کے ساتھ افغانستان میں بہتر سلوک نہیں کر رہے امریکیوں نے بھارتیوں کو ساتھ ملا کر پاکستان کو آگ اور خون میں نہلا دیا ۔50 ہزار پاکستانی بھارتی اور امریکی غصے اور نفرت کا شکار بن گئے۔ملک کے مختلف شہروں میں آئی ایس آئی کے دفاتر ،ہوائی اڈے ،جدید ترین لڑاکا طیارے کچھ بھی محفوظ نہیں رہا۔پاکستانی سرزمین پر لڑی جانے والی اس جنگ کی انتہا جی ایچ کیو پر دہشت گردوں کا قبضہ تھا۔پاکستان کی افواج نے امریکی اور بھارتی اتحاد کی مسلط کردہ یہ جنگ تنہا لڑی تھی ۔افغانستان میں نہ چینی پاکستان کی مدد کر رہے تھے نہ روسی اور نہ کوئی اسلامی بلاک۔یہ جنگ پہلے بلوچستان میں مسلط کی گئی پھر اس کا دائرہ کار جنوبی وزیرستان پھر شمالی وزیرستان اور آخر میں مالاکنڈ ڈویژن تک پھیلا دیا گیا لیکن اس جنگ میں جنرلوں نے کامیابی حاصل کی۔
2017 کا آغاز پاکستان کی مسلح افواج کی کامیابیوں کا سال ہے آپریشن ضرب عضب کی کامیابی نے شمالی وزیرستان ،جنوبی وزیرستان اور مالا کنڈ ڈویژن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ہی ختم نہیں کیا امریکی اور بھارتی اتحاد کو بھی مکمل شکست سے دوچار کر دیا ۔یہ سال بلوچستان کے عسکریت پسندوں کے افغانستان میں تربیتی ٹھکانوں کے خاتمے کی شروعات کا بھی سال تھا ۔
2018 پاکستان کی مسلح افواج کیلئے مزید کامیابیوں کا سال ہے ۔موجودہ دور پاکستان کی مسلح افواج کیلئے بہترین دور ہے ۔افغانستان میں اب پاکستان کو حلیف مل چکے ہیں ۔روسی ،چینی اور ایرانی داعش کے خلاف متفقہ حکمت عملی پر چل رہے ہیں ۔امریکی غصے اور بے بسی کا شکار ہیں ۔بھارتی افغانستان میں اس قدر کمزور ہو چکے ہیں کہ کوئٹہ خود کش حملے کے 36 گھنٹے کے اندر کابل میں را کا اسٹیشن چیف قتل ہو جاتا ہے۔امریکی اس قدر لاچار ہو گئے ہیں ابھی 10 اگست کو افغان طالبان نے غزنی پر کامیاب حملہ کیا اور سینکڑوں افغان فوجیوں کو مار کر واپس بھی چلے گئے۔
اب نہ کابل کا محفوظ ترین علاقہ خود کش حملوں سے محفوظ ہے نہ قندھار ۔امریکی جھنجھلاہٹ میں پاک فوج کے ساتھ جنرل ایوب کے دور سے جاری تربیتی پروگرام ختم کر رہے ہیں اور پنٹاگون جی ایچ کیو طلاق کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن فوجی جنرلوں کو وہ سب کچھ روسیوں اور چینیوں سے مل گیا ہے۔افغانستان سے فراغت کے بعد اب پاک فوج کے جنرلوں کے پاس بہت فرصت ہے ۔وہ اب انتخابات کیلئے تین لاکھ فوجیوں کی ڈیوٹی لگانے کی پوزیشن میں ہیں "کبھی یہ حالات تھے کہ فوجیوں کے خادمین حجاج بننے پر بھی پابندی لگ گئی تھی۔بھارتی اب افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کا بازو موڑورنے کی اہلیت کھو بیٹھے ہیں ۔
فوج کے پاس گزشتہ 15 سال سے جاری خفیہ جنگ میں کامیابی کا تجربہ بھی ہے جدید ترین ہتھیار، میزائل ٹیکنالوجی اور محفوظ ایٹمی پروگرام بھی ہے۔اب فوج کے پاس لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی قلت بھی نہیں اور روسیوں سے جدید ترین دفاعی نظام ایس یو 400 کے حصول کیلئے بھی بات چیت چل رہی ہے اور بیرونی خطرات بھی بہت کم ہو چلے ہیں اب افغان حکومت کے اعلی عہدیداروں کی آگ اگلی زبانیں بھی بند ہو چکی ہیں اور وہ پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں انہیں افغان طالبان سے بچائے۔
ان تمام کامیابیوں کی قیمت بہت زیادہ ہےاور اس میں ہماری دانست میں بعض فیصلوں کا عمل دخل ہے۔ پناما ڈرامے کی ابتدا اور اختتام سے نواز شریف تو فارغ ہو گیا اور تحریک انصاف کامیاب ہو گئی لیکن اداروں کی عزت اور احترام ختم ہو گیا۔جس ملک میں اداروں کی عزت اور احترام پر حرف آجائے وہ ممالک طاقتور فوج کے باوجود عدم استحکام کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔پوری دنیا میں پاکستان کے عام انتخابات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔دنیا بھر کے اخبارات جی ایچ کیو اور عمران خان کے تناظر میں کارٹون شائع کر رہے ہیں ۔آرٹیکل شائع ہو رہے ہیں ۔پاکستان کی معیشت خرابیوں کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے اور فوج کی تمام کامیابیوں کو کھانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔پاکستان گرے لسٹ کے بعد بلیک لسٹ میں جانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔پاکستان کی عدلیہ کو قوم کا ایک حصہ متنازعہ سمجھ رہا ہے۔نیب جیسے ادارے کی جانبداری پر سوال اٹھ رہے ہیں ۔پاکستان میں میڈیا کا گلا گھونٹ دیا گیا ہے اور سب سے اہم بات انتخابات میں فوج کے کردار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔جو نعرے منظور پشتین کے جلسوں میں لگتے تھے وہ پنجاب کے شہروں میں لگنے لگے ہیں اور خوفناک بات یہ ہے پنجاب ہمیشہ سے طاقتور فوج کا پشت پناہ رہا ہے اور جو فوج اپنی طاقت کے مرکز کی حمایت سے محروم ہو جائے وہ کسی طور اچھی علامت نہیں نہ ریاست اور نہ فوج کیلئے۔پاکستان کمزور ہو رہا ہے اور طاقتور فوج تمام تر طاقت کے باوجود موجودہ تاثر کو ختم کرنے کی اہلیت کھو بیٹھی ہے۔طاقتور فوج کے ساتھ اگر پاکستان کو طاقتور بنانا ہے تو ملک میں قومی یکجہتی کو اولین اہمیت دینا ہو گی اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھ کر غلط فہمیوں کو دور کرنا ہو گا میاں نواز شریف کے ووٹ کو عزت دو اور ڈیل سے انکار کے ساتھ اب پاکستان پیپلز پارٹی بھی تحریک انصاف مخالف کیمپ کا حصہ بننے جا رہی ہے۔ہمیں آصف علی زردای اور عمران خان کا پارلیمانی اتحاد نظر نہیں آرہا کیونکہ اسی کوئی کوشش پیپلز پارٹی کے تابوت میں اخری کیل ہو گی ۔اصف علی زرداری کے خلاف ریاستی اداروں کو بھلے استمال کرتے رہیں ،نواز کی گردن بھلے پکڑے رکھیں حالات ایک نئے سوشل کنٹریکٹ یا میثاق جمہوریت کی طرف بڑھتے ہی جائیں گے اور اس بات کے بھی واضح امکانات ہیں نیا سوشل کنٹریکٹ زیادہ وسیع ہو منظور پشتین ،محمود اچکزئی ،اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن بھی اس میں شامل ہو جائیں ۔طاقتور فوج ریاستی امور پر اپنی گرفت مستحکم رکھ سکتی ہے لیکن ریاست کے کمزور ہوتے ڈھانچے کو اپنی طاقت سے نہیں روک سکتی ۔پاکستان اسی وقت مضبوط اور طاقتور ہو گا جب ادارے آئین اور قانون کے دائرہ میں کام کریں گے۔

متعلقہ مضامین